الحمد للہ رَبِّ الْعلَمِيْنَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،
أَمَّا بَعْدُ،
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
ساٹھ سال کے بعد کوئی عذر باقی نہیں رہتا
(112) ﴿وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ فَالْأَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْذَرَ اللهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّيْنَ سَنَةً" (رواه البخاري) قَالَ الْعُلَمَاءُ مَعْنَاهُ: لَمْ يَتْرُكْ لَهُ عُذْراً إِذْ أَمْهَلَهُ هَذِهِ الْمُدَّةَ. يُقَالُ: أَعْذَرَ الرَّجُلُ إِذَا بَلَغَ الغَايَةَ فِى الْعُذْرِ.﴾
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس آدمی کو معذور جانتے ہیں جس کی عمر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ ساٹھ (60) برس کو پہنچ گیا۔ علماءؒ نے اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہا ہے جب اللہ پاک اتنی مدت اس کو مہلت دیتے ہیں تو پھر کوئی عذر باقی نہیں رہتا ہے۔ عربی کا محاورہ ہے ”اعذر الرجل“ یہ اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص عذر کے آخری مرحلہ پر پہنچ جاتا ہے۔“
اور ساٹھ سال کی عمر کو آدمی جب پہنچ گیا گویا کہ اس نے اپنی عمر پوری کر لی جیسے کہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے میری امت کی عمر ساٹھ سال سے ستر سال ہوگی بہت کم ہوں گے جو اس سے تجاوز کریں گے۔
تو اس میں بات آ گئی کہ:
نیز اس سے محدثینؒ یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے بغیر کسی شخص کو سزا نہیں دیتے ساٹھ سال کی عمر میں بھی اتمام حجت ہو جاتی ہے۔
نیز اس حدیث میں اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ ساٹھ سال کی عمر کے بعد آدمی کو تو غفلت اور گناہوں سے باز آ جانا چاہیئے کیونکہ بظاہر اس کے بعد موت کا زمانہ قریب ہو جاتا ہے، اس عمر میں بھی فسق و فجور اور اللہ کی نافرمانی کے ارتکاب پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی جارہی ہے۔
ایک بات عرض کرنا چاہوں گا جس کا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے۔ فرمایا کہ: نوجوان جو ہوتا ہے، اس کے لیے گناہوں میں پڑنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے گناہوں کی طرف اس کی دوڑ بھی زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن چونکہ اس میں ابھی power باقی ہوتی ہے، لہٰذا اگر رکنا چاہے تو رک بھی سکتا ہے آسانی کے ساتھ۔ یعنی اس میں جو قوتِ عازمہ ہے وہ بھی جوان ہوتی ہے۔ نتیجتاً اگر گناہ کی طرف قوتِ عازمہ آ جاتی ہے تو وہ بھی ممکن ہے اور اگر اس سے بچنا چاہے تو وہ بھی ممکن ہے، یعنی اس میں stability ہوتی ہے۔
جبکہ بوڑھا آدمی جو ہوتا ہے، اس کے اندر قوتِ عازمہ اگر گناہ کی کم ہو جاتی ہے تو اگر گناہ میں پڑ گیا ہو پہلے سے تو اس سے بچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے تربیت کا زیادہ تر موقع جو ہے وہ نوجوانی میں ہی ہوتا ہے۔ نوجوانی میں اگر تربیت نہ ہو پھر بڑھاپے میں بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ بڑھاپے میں انسان کی قوت رکنے کی، وہ بھی کم ہو جاتی ہے۔ جیسے پرانی گاڑی ہوتی ہے تو اس میں accelerator بھی کمزور ہو جاتا ہے اور brake بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ تو اس طریقے سے جو بوڑھا آدمی ہوتا ہے اگر گناہوں میں پڑنا اس کے لیے کم ہے تو اس طرح اگر پڑ گیا ہے تو اس سے بچنا بھی کم ہوگا۔
تو اس وجہ سے اپنی تربیت، اس کو نوجوانی میں ہی پوری کروانی چاہیے۔ ورنہ پھر بڑا مشکل ہے۔ تو یہ ساٹھ سال کی جو عمر ہے اللہ تعالیٰ جس کو بھی نصیب فرما دے تو اس پہ تو عذر مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد خدا نخواستہ اگر کوئی ایسی بیماری میں مبتلا ہے جو ٹھیک نہیں ہے، گناہ ہے، تو پھر بچنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔
تو اس وجہ سے اس سے پہلے پہلے اپنے آپ کو عادی کرنا چاہیے گناہوں سے بچنے کا اور توبہ کر لینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ۔