آخری عمر میں نیک اعمال کی کثرت کی اہمیت اور قرآنی تعلیمات

درس نمبر 167، جلد 1، باب 12: آخری عمر میں نیک کاموں کے زیادہ کرنے کی ترغیب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• آخری عمر (خاص طور پر 40 اور 60 سال کے بعد) میں عبادات اور نیک اعمال میں اضافے کی ترغیب۔

• سورہ فاطر کی آیت ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم﴾ کی تفسیر اور عمر کی مہلت کے حوالے سے صحابہ اور مفسرین کے اقوال۔

• "نذیر" (ڈرانے والے) کا مفہوم: نبی کریم ﷺ کی آمد یا بالوں کی سفیدی (بڑھاپا)۔

• مدینہ منورہ کے علماء اور سلفِ صالحین کا طریقہ کہ 40 سال کی عمر کے بعد دنیاوی مصروفیات ترک کر کے عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو جانا۔

• فقہائے کرام (امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ) کے نزدیک بلوغت کی عمر کا تعین۔

الحمد للہ رَبِّ الْعلَمِيْنَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،

أَمَّا بَعْدُ،

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيْمِ،

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔


(۱۲) بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْإِزْدِيَادِ مِنَ الْخَيْرِ فِيْ أَوَاخِرِ الْعُمُرِ


آخری عمر میں نیک کاموں کے زیادہ کرنے کی ترغیب


قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّايَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَ كُمُ النَّذِيْرُ﴾ (فاطر: 37)

ارشاد خداوندی ہے: ”کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔“

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَالْمُحَقِّقُوْنَ: مَعْنَاهُ: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ سِتِّيْنَ سَنَةً؟ وَيُؤَيِّدُهُ الْحَدِيْثُ الَّذِيْ سَنَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَقِيْلَ: مَعْنَاهُ: ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَقِيْلَ: أَرْبَعِيْنَ سَنَةً. قَالَهُ الْحَسَنُ وَالْكَلْبِي وَمَسْرُوْقٌ، وَنُقِلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضاً. وَنَقَلُوْا: أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَانُوْا إِذَا بَلَغَ أَحَدُهُمْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً تَفَرَّغَ لِلْعِبَادَةِ. وَقِيْلَ: هُوَ الْبُلُوْغُ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَجَاءَ كُمُ النَّذِيْرُ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْجُمْهُوْرُ: هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقِيْلَ الشَّيْبُ. قَالَهُ عِكْرِمَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمَا. وَاللهُ أَعْلَمُ.

”حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور محققین علماء اس آیت کا مطلب بیان کرتے ہیں ”کیا ہم نے تمہیں 60 سال کی عمر نہیں عطاء کی تھی؟“ اس کی تائید آنے والی حدیث سے بھی ہو رہی ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد 80 سال کی عمر ہے اور بعض نے 40 سال کہا ہے۔ چنانچہ حسن، کلبی، مسروق اور عبداللہ بن عباسؓ سے بھی ایک روایت یونہی مروی ہے اور مدینہ والوں کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان میں سے کسی کی عمر 40 سال تک پہنچ جاتی تو وہ عبادت کے لئے فارغ رہتا، بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بلوغت کی عمر ہے اور ”جَاءَ كُمُ النَّذِيْرُ“ کا معنی عبداللہ بن عباسؓ اور جمہور علماء بیان کرتے ہیں اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں لیکن عکرمہ، ابن عیینہ وغیرہ کہتے ہیں اس سے مراد بڑھاپا ہے۔


یعنی بڑھاپا بھی ایک ڈرانے والی چیز ہے ۔ یعنی جس وقت انسان کے بال سفید ہو جاتے ہیں تو یہ علامت ہے کہ جانے کا وقت قریب ہو گیا، تو اس وقت اچھے اعمال کو زیادہ کرنا چاہیے۔


قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمُحَقِّقُوْنَ مَعْنَاهُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ سِتِّيْنَ سَنَةً: سے مراد ابن عباسؓ اور محققین علماء کے نزدیک 60 سال کی عمر مراد ہے یہی بات ابن جریر اور طبرانی سے بھی معلوم ہوتی ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔

حسن بصری، کلبی اور مسروق سے مروی ہے کہ 40 سال کی عمر مراد ہے، ایک روایت ابن عباسؓ کی بھی چالیس کی ہے اسی طرح مجاہدؒ سے بھی یہی منقول ہے۔

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ ابن مالکؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے شہر کے علماء کو دیکھا ہے کہ وہ علم اور دنیا میں لگے رہتے تھے مگر جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوتی تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللہ کی یاد میں ہمہ تن مشغول ہوجاتے تھے۔

قِيْلَ هُوَ الْبُلُوْغُ: بعض نے بلوغ کی عمر کو بتایا، بلوغ کی عمر امام شافعیؒ اور صاحبینؒ کے نزدیک 15 سال ہے، اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک 18 سال ہے جب کہ کوئی علامت بلوغ نہ پائی جائے۔

نذیر: سے مراد ابن عباسؓ اور جمہور علماء کے نزدیک آپ ﷺ کی ذات مبارک ہیں اور حضرت عکرمہ اور حضرت ابن عیینہ کے نزدیک بڑھاپا ہے یہ بھی انسان کو ڈرانے کے لئے کافی ہے۔


اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی خشیت نصیب فرما دے جو ہمیں گناہ سے بچائے، اور ایسا تعلق نصیب فرما دے کہ ہم نیک اعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعلَمِيْنَ۔

آخری عمر میں نیک اعمال کی کثرت کی اہمیت اور قرآنی تعلیمات - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور