بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا برتاؤ: رزق، ہدایت اور مغفرت کی طلب

درس نمبر 166، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم کی ممانعت

• ہدایت، رزق، لباس اور مغفرت صرف اللہ کے اختیار میں

• اللہ کی ذات کی بے نیازی اور غنی ہونا

• فطرتِ اسلام اور ہدایت کے اسباب

• نیکی اور برائی کا اثر خود انسان کی ذات پر

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


معزز خواتین و حضرات! کل ایک حدیث شریف گزری ہے جس میں اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ چونکہ وہ حدیث شریف پہلے سے پڑھی گئی ہے، ترجمہ بھی بتایا گیا تھا، لیکن آج میں ترجمہ دوبارہ کر لیتا ہوں تاکہ اس کے بارے میں جو بات ہو اس کی تشریح کی جا سکے۔


”حضرت سعید بن عبدالعزیز، ربیعہ بن یزید سے، وہ ابو ادریس خولانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے، آپ اللہ تبارک وتعالیٰ سے نقل فرماتے ہیں یعنی حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اس کو حرام کرلیا لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو مگر میں جس کو ہدایت عطا کروں مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ہی ہدایت دینے والے ہیں۔ ہادی برحق صرف اللہ پاک ہے۔پس تم مجھ سے ہدایت کا سوال کرو، اور یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں ہدایت عطا فرما، بلکہ سورۂ فاتحہ میں ہدایت کی دعا ہے، اس کو جس وقت ہم سورۂ فاتحہ پڑھیں تو اس میں خصوصی طور پر ہمارے دل متوجہ ہوں۔ میں تم کو ہدایت عطا کرونگا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھانا دوں، یعنی ظاہری اسباب تو اختیار کرنے چاہئیں لیکن ان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، اصل میں اللہ پاک سے مانگنا چاہیے۔ پس مجھ سے کھانا طلب کرو میں تم کو کھانا دونگا۔

اے میرے بندو! تم سب برہنہ ہو مگر جس کو میں لباس پہنا دوں، پس مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دونگا۔ یعنی اللہ پاک کے دینے سے ہی یہ چیز عطا ہوگی، لباس، لہٰذا ہم اللہ پاک سے لباس بھی مانگیں۔

اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا۔ یہ ایک دعا ہے۔


اے میرے بندو! تم رات دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تم کو معاف کردونگا۔ تو اول تو گناہ کرنا نہیں چاہیے، اور جب ہو جائے تو فوراً توبہ کرنی چاہیے، اللہ پاک سے معافی مانگنی چاہیے۔

اے میرے بندو! تم مجھے نقصان پہنچانے کی قوت نہیں رکھتے ہو اور نہ ہی تم مجھے فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے تمام انسان اور جن کسی انتہائی پرہیزگار انسان کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ یعنی اللہ پاک جو بھی ہمیں دیتے ہیں، بے لوث دیتے ہیں۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے اور جن اور انسان سب سے زیادہ بدکار دل کے جیسے ہو جائیں، تو اس سے میرے مُلک میں کچھ کمی نہیں آ سکتی کیونکہ اللہ پاک غنی ہے۔


اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے اور جن وانس ایک چٹیل میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کے سوال کو پورا کردوں یہ چیز بھی میرے خزانے میں کچھ کمی نہیں کر سکتی البتہ جس قدر سمندر میں سوئی ڈالنے سے (سمندر کا پانی) کم ہوتا ہے۔ اے میرے بندو! تمہارے اپنے اعمال ہیں میں تمہارے لئے ان کا احاطہ کرتا ہوں پھر تمہیں ان کے مطابق پورا پورا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی کو نہ پائے اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہئے۔ کیونکہ اللہ پاک نے راستے کھلے رکھے ہیں۔ تو اگر کوئی شخص خیر کا کام نہیں کرتا تو وہ محروم ہوتا ہے، تو وہ خود ہی اپنے آپ کو ملامت کرے۔


سعید نے بیان کیا کہ ابو ادریس خولانی جب اس حدیث کو بیان کرتے تو گھٹنوں کے بل گر جاتے۔ (مسلم)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ہمیں روایت پہنچی ہے انہوں نے کہا کہ شامیوں کے پاس اس حدیث سے زیادہ کوئی عمدہ نہیں۔



علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ حلال وحرام تو بندے کے اعتبار سے ہوتا ہے، یہاں پر اللہ نے اپنی طرف جو اس کی نسبت کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ایسا نہیں کرتے کہ کسی پر ظلم کریں۔

”فَلَا تَظَالَمُوْا“ کہ آپس میں تم بھی ظلم نہ کرو یہ ماقبل جملہ ”جَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّماً“: کی تاکید ہے کہ ظلم کرنا بہت ہی زیادہ سخت گناہ ہے اس کو بالکل بھی نہ کیا جائے۔

”كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ“ تم سب گمراہ تھے شریعت کے آنے سے پہلے، یا رسول کے آنے سے پہلے، اللہ نے ایمان کی توفیق عطاء فرمائی اور رسولوں کو مبعوث کیا گیا کہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نکالیں۔

سوال: اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی پہلے حق سے دور ہوتا ہے، اللہ رسولوں کے ذریعہ سے اس کو حق پر آنے کی توفیق عطاء فرماتے ہیں، جب کہ دوسری روایت كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْ لَدُ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ ”کہ ہر پیدا ہونے والا حق پر ہوتا ہے“ دونوں روایات میں تعارض معلوم ہوتا ہے؟


جواب: ”كُلُّ مَوْلُوْدٍ“ والی روایت کا مطلب یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو قبول کرے۔ اسی وجہ سے اسی روایت میں آتا ہے کہ کبھی اس کے والدین اس کو یہودی بنادیتے ہیں کبھی نصرانی یا مجوسی، استعداد حق پر پیدا ہونے والے میں ہوتی ہے اس لئے وہ دونوں طرف جاسکتا ہے، انبیاء کے ذریعہ سے اللہ جل شانہ اس کی روح کو حق کی طرف موڑ

دیتے ہیں یہی مطلب ہے ”إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ“ کہ جس کو میں ہدایت عطا کروں۔

يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ جَائِعٌ: ”میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جن کو میں کھانا عطاء کروں“ کیونکہ رزق کے خزائن اللہ کے پاس ہیں۔

وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ: ”آسمانوں میں رزق ہے“ اسی طرح سے ”وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا“ فرمایا گیا۔ ”ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمہ ہے ۔“

يَاعِبَادِيْ إِنَّكُمْ تُخْطِئُوْنَ: اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو میں تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہوں، اسی طرح قرآن کی آیت میں آتا ہے ”وَاسْتَغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِيْنَ“۔

أَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوْبَ: ”کہ میں ہی گناہوں کو معاف کرتا ہوں“ مگر اس میں قانون یہ ہے کہ کفر وشرک نہ کرے اس کو اللہ معاف نہیں فرمائیں گے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَالِكَ لِمَنْ يَشَاءُ“۔

يَاعِبَادِيْ إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّيْ: میرے بندو! تم مجھ کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہو۔

اس بات پر اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ جل شانہ کو کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا، اللہ جل شانہ پر کسی کا جبر نہیں چلتا۔ انسان جو کچھ اچھائی یا برائی کرتا ہے اس کا نفع اور نقصان اللہ کو نہیں بلکہ اسی کرنے والے کو پہنچتا ہے۔

”مَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا“۔

”كَانُوْا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ“ تمام دنیا والے اس شخص کی طرح ہو جائیں جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔

”أَتْقَى قَلْبِ“: سے مراد بعض محدثینؒ نے نبی کریم ﷺ کو لیا ہے، اسی طرح ”أَفْجَرِ قَلْبِ“ سے ابلیس مراد لیا ہے کہ تمام دنیا والے نبی کریم ﷺ کی طرح یا تمام دنیا والے شیطان ابلیس کی طرح ہو جائیں تب بھی اللہ کی بادشاہت میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں ہوگی۔


اکثر محدثین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر حقیقتاً سوئی ڈالنا بھی نہیں ہے اس میں بھی کچھ نہ کچھ کمی سمندر میں ہو سکتی ہے مگر اللہ کے خزانوں میں تو اتنی بھی کمی نہیں ہوتی۔

تو اس وجہ سے اس حدیث شریف کا اور جو یقین ہے ہمارا کرنا چاہیے، اور اس کے مطابق اپنا عقیدہ بنانا چاہیے، اور اپنا عمل بنانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیقِ عمل عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔




**تجزیہ اور خلاصہ:**


بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع عنوان:** حدیثِ قدسی کی روشنی میں اللہ کی رحمت اور بے نیازی

**متبادل عنوان:** بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا برتاؤ: رزق، ہدایت اور مغفرت کی طلب


**اہم موضوعات:**

• اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم کی ممانعت

• ہدایت، رزق، لباس اور مغفرت صرف اللہ کے اختیار میں

• اللہ کی ذات کی بے نیازی اور غنی ہونا

• فطرتِ اسلام اور ہدایت کے اسباب

• نیکی اور برائی کا اثر خود انسان کی ذات پر



بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا برتاؤ: رزق، ہدایت اور مغفرت کی طلب - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور