ریاض الصالحین
درس نمبر 192، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- کامل اور مبالغے کے ساتھ وضو کرنے (اسباغ الوضوء) کی فضیلت اور فقہی احکام۔
- مشقت اور ناگواری (سردی، بیماری وغیرہ) کے باوجود طہارت کا اہتمام کرنا۔
- مسجد کی طرف کثرت سے جانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کا اجر۔
- 'رباط' کا لغوی معنی، سرحدوں کی حفاظت اور اس کا روحانی پہلو۔
- شیطان کے حملوں سے بچاؤ کے لیے جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر (نفساتی جہاد) کی طرف توجہ۔
الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
درجات کو بلند کرنے والے اعمال۔ حَدِيثُ الْخَامِسَ عَشَرَ (پندرہویں حدیث)، عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم: "أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم! قَالَ: "إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذٰلِكُمُ الرِّبَاطُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند فرمائے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ضرور یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشقت کے وقت میں مبالغہ کے ساتھ وضو کرنا، اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانا، اور نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اسی کا نام رباط ہے۔
رباط کا اصل معنی تو یہ ہے کہ جس سے کوئی چیز باندھی جائے، وہ جگہ جہاں لشکر حفاظتِ سرحد کے لیے پڑاؤ ڈالے۔ اس جگہ کو رباط کہتے ہیں۔ "يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا"، اللہ گناہوں کو مٹا دے۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ کنایہ ہے مغفرت سے، نیز مراد ہے کہ اللہ ان اعمال کی برکت سے گناہوں کو زائل کر دیتے ہیں۔
تو اس میں جو پہلی چیز آئی ہے وہ ہے وضو میں مبالغہ کرنا؛ "إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ"۔ وضو کو مبالغہ کے ساتھ کرنے... کرنا، اعضاء کو ایک بار دھونا تو فرض ہے اور تین بار دھونا سنت اور مستحب ہے۔ تین بار سے زیادہ دھونا اس روایت سے ناجائز معلوم ہوتا ہے۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، احناف سے دھونے کی تعداد کے بارے میں کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "لَوْ زَادَ عَلَى الثَّلَاثِ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبُهُ لَا بَأْسَ بِهِ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ"۔
"عَلَى الْمَكَارِهِ"۔ مشقت کے وقت۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پانی کو قیمت سے زیادہ پر خریدنا پڑے، یا سخت سردی ہو رہی ہو، یا جسمانی درد وغیرہ کے وقت میں پانی کا استعمال ناگوار ہو، تب بھی وہ کرے۔
"وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ"، ایک نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھا رہے، دوسری نماز کا انتظار کرے، یا مطلب یہ ہے کہ مسجد سے اگرچہ وہ باہر جاتا ہے مگر "قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِهَا"، مگر نماز ہی میں اس کا دل اٹکا رہے۔
رباط کے بارے میں جیسے کہ ابھی عرض کیا گیا کہ سرحد کی حفاظت کو، کہ دشمنوں سے اس کی حفاظت کرنا۔ تو ان اعمال کو رباط اس لیے کہا کہ اگر ان اعمال سے بھی شیطان سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے جیسے کہ دوسری روایت میں آتا ہے: "رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ"۔ دشمنوں کے جہاد سے نفس کے جہاد کی طرف لوٹے ہیں۔ نفس کی بھی مسلسل نگرانی کرنی ہے کہ کسی وقت بھی شیطان حملہ کر سکتا ہے۔ موطا مالک میں یہ دو مرتبہ ہے، نیز ترمذی میں یہی جملہ تین مرتبہ نقل کیا گیا ہے۔ اہتمام کی وجہ سے اس کی تکرار کی گئی ہے۔
صَحِيحُ مُسْلِمٍ، كِتَابُ الطَّهَارَةِ، بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ۔ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ وَأَحْمَدُ وَتِرْمِذِيٌّ وَالنَّسَائِيُّ۔