ریاض الصالحین

درس نمبر 191، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابوبکر صدیق و مدرسہ تعلیم القران - ماڈل ٹاؤن سی بہاولپور
  • اعمالِ صالحہ (نماز، جمعہ، اور رمضان) کی برکت سے صغیرہ گناہوں کی معافی۔
  • کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ کی ناگزیر شرط۔
  • ایک قرآنی آیت یا حدیث کی دوسری آیات و احادیث کے ذریعے تشریح۔
  • بغیر تحقیق اور علمائے کرام کی تصدیق کے دینی باتیں آگے بیان کرنے کی سختی سے ممانعت۔
  • خوارج کی کج فہمی کی مثال اور دین کو سمجھنے کے لیے فقہائے کرام کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کے لئے کفارہ ہے

(130) ﴿الرَّابِعُ عَشَرَ: عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَ الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَ رَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَتِ الْكَبَائِرُ"﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک، رمضان المبارک سے رمضان المبارک تک کے درمیان کے گناہ (ان اعمال سے) معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کبائر گناہوں سے بچا جائے۔“

اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ جو ابھی تک احادیثِ شریفہ میں گناہوں کے معاف ہونے کی بات آئی ہے، کسی بھی عمل کی وجہ سے اس سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ کیونکہ کبائر کا اس میں صاف طور پر مطلب یہ بتایا ہے، ”إِذَا اجْتَنَبْتِ الْكَبَائِرُ:“، مطلب یہ ہے کہ اگر کبائر سے وہ انسان اپنے آپ کو بچاتا رہے۔

تشریح: مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اتفاق است علماء را کہ مراد گناہ ہائے صغیرہ است بدلیل: قولہ علیہ السلام“ ”الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَ الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ.“ (۲) نیز یہ کہ اگر اعمال سے صغیرہ اور کبیرہ ہر قسم کے گناہ معاف ہو جائیں تو اب کوئی آدمی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔ کچھ نہ کچھ عمل تو آدمی کرتا ہی ہے۔ (۳) تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الطهارة (باب الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة و رمضان الى رمضان مكفرات). والترمذي.

یعنی اصل میں یہی بات ہے، کسی ایک حدیث یا کسی ایک آیتِ قرآنی سے وہ بعض لوگ استنباط جو کرتے ہیں اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض آیتوں کی تشریح دوسری آیات کرتی ہیں، اور بعض احادیثِ شریفہ کی تشریح دوسری احادیثِ شریفہ کرتی ہیں۔ جیسے یہاں پر پچھلی کچھ احادیثِ شریفہ گزری تھیں جن میں فرمایا جاتا تھا کہ مطلب یہ اگر کوئی عمل کرے تو اس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، تو بعض لوگ کہیں گے بس ٹھیک ہے جی میرے سارے گناہ... جس پر میں نے ایک بہاولپور میں جو بات ہوئی تھی تو وہاں پر میں نے عرض کیا تھا کہ ہم رائے ونڈ میں تھے۔

تو حضرت مولانا مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہ ہدایات دیا کرتے تھے اور مطلب یہ کارگزاری بھی سنتے تھے جماعتوں کی۔ تو کارگزاری سن رہے تھے، اس میں حضرت نے ایک بات فرمائی کہ دیکھو بھائیو! آپ لوگ جب بھی کوئی نئی بات سنیں کسی سے، بیان وغیرہ میں، تو اس کو اپنے علاقے کے علمائے کرام پر پیش کر لیا کرو۔ اگر وہ نئی بات صحیح ہے تو ٹھیک ہے، اس کو آگے بیان کر سکتے ہو لیکن اگر وہ صحیح نہیں ہے تو پھر رک جاؤ، اس کو آگے نہ بیان کرو۔ اور اگر بغیر تحقیق کے تم لوگوں نے وہ بات آگے بیان کر دی تو جھوٹوں میں شامل ہو جاؤ گے۔

تو پھر مثال کے لیے حضرت نے فرمایا کہ بھئی اٹھو، گشت کے آداب بیان کرو۔ تو ان میں سے کوئی صاحب اٹھے اور گشت کے آداب بیان کیے، تو اس میں کہا گشت بہت اونچا عمل ہے، اس کے پہلے قدم سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (یہ ہم نے بھی کافی دفعہ سنا ہے) اس پر حضرت نے فرمایا کہ بھئی بتاؤ کہاں سے سنا ہے؟ بھئی کیا دلیل ہے؟ کیا بات کر رہے ہو؟ پوچھا ہے کسی سے؟ پھر فرمایا کہ بھئی گشت سے سارے گناہ معاف نہیں ہوتے، صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ بہت سے گناہ معاف ہوتے ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ صغیرہ بھی بہت سارے ہوتے ہیں، لیکن یہ کہ سارے گناہ... اگر کوئی قتل کر کے آ جائے اور آپ کے ساتھ گشت کر لے اور سمجھے کہ میرے گناہ معاف ہو گئے، تو پھر کیا کرو گے؟

مثال دے دی۔ تو اس طریقے سے گویا کہ ایک حدیث شریف کی تشریح کسی اور حدیث شریف سے ہو جاتی ہے۔ یہی وہ جو لوگ ہیں نا ذرا متشدد قسم کے جو لوگ ہوتے ہیں، وہ کسی ایک حدیث یا کسی ایک قرآنی آیت، مطلب اس کے پیچھے، جیسے خوارج ہوتے ہیں، ”إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلّٰهِ“، یہ اس کو لے کر وہ صحابہ کی بات بھی نہیں مانتے، کہتے ہیں ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔ پھر ان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سمجھایا ہے، پھر بھی نہیں سمجھے تو پھر ان کو لڑائی میں مارا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اتنی جلدی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ فقہائے کرام کس بات کے لیے ہیں؟ ان کا کام ہی یہی ہے کہ قرآن میں غور کرنا، احادیثِ شریفہ میں غور کرنا اور پھر لوگوں کے ذہنوں اور سوچوں کے مطابق تاکہ وہ لوگ غلط فہمی میں نہ رہیں، کیونکہ بعض لوگ ہوتے ہیں، کج فہم ہوتے ہیں، تو ان کو detail سے سمجھانا ہوتا ہے مثالیں دے دے کر۔ ان کو عام انداز میں نہیں سمجھایا جا سکتا۔ تو یہ باتیں جو وہ کرتے ہیں، ان کو ہمیں لینا چاہیے، اپنی طرف سے نتائج مرتب نہیں کرنے چاہئیں مختصر یعنی ناکافی علم کی بنیاد پر۔