اللہ جل شانہٗ کی بے نیازی اور رزق، لباس و مغفرت کی طلب کا راستہ

درس نمبر 165، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• اللہ تعالیٰ کا بندوں کے ساتھ برتاؤ اور اس کی بے پناہ رحمت (حدیثِ قدسی کی روشنی میں)

• ظلم کی ممانعت اور ہدایت کی طلب کی اہمیت

• اللہ کی ذات کی بے نیازی اور خزانوں کی وسعت

• رزقِ حلال، لباس (ظاہری و تقویٰ) اور مغفرت کے لیے عملی دعائیں

• فوری عمل کرنے کی برکت اور گناہوں پر استغفار اور سچی توبہ 

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ برتاؤ

(111) ﴿السَّابِعُ عَشَرَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنِ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: ”يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ ؛ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، يَاعِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّامَنْ أَطْعَمْتُهُ؛ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسِكُمْ، يَاعِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ، وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ، يَاعِبَادِ ي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّيْ فَتَضُرُّوْنِيْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِيْ فَتَنْفَعُوْنِيْ، يَاعِبَادِيْ لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَازَادَ ذَالِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَانَقَصَ ذَالِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئاً، يَاعِبَادِيْ لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُوْنِيْ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَانَقَصَ ذَالِكَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَاعِبَادِيْ إِنَّمَاهِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيْهَالَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيْكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْراً فَلْيَحْمَدِاللهَ، وَمَنْ وَجَدَغَيْرَ ذَالِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ“۔

قَالَ سَعِيْدٌ: كَانَ أَبُو إِدْرِيْسَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيْثِ جَثَا عَلٰى رُكْبَتَيْهِ. (رواه مسلم)


”حضرت سعید بن عبدالعزیز، ربیعہ بن یزید سے، وہ ابو ادریس خولانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے، آپ اللہ تبارک وتعالیٰ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اس کو حرام کرلیا لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو مگر میں جس کو ہدایت عطا کروں پس تم مجھ سے ہدایت کا سوال کرو، میں تم کو ہدایت عطا کرونگا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھانا دوں، پس مجھ سے کھانا طلب کرو میں تم کو کھانا دونگا۔ اے میرے بندو! تم سب برہنہ ہو مگر جس کو میں لباس پہنا دوں، پس مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دونگا۔ اے میرے بندو! تم رات دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تم کو معاف کردونگا، اے میرے بندو! تم مجھے نقصان پہنچانے کی قوت نہیں رکھتے ہو اور نہ ہی تم مجھے فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے تمام انسان اور جن کسی انتہائی پرہیزگار انسان کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے اور جن اور انسان سب سے زیادہ بدکار کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میرے ملک میں کچھ کمی نہیں آسکتی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے اور جن وانس ایک چٹیل میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کے سوال کو پورا کردوں یہ چیز بھی میرے خزانے میں کچھ کمی نہیں کر سکتی البتہ جس قدر سمندر میں سوئی ڈالنے سے (سمندر کا پانی) کم ہوتا ہے۔ اے میرے بندو! تمہارے اپنے اعمال ہیں میں تمہارے لئے ان کا احاطہ کرتا ہوں پھر تمہیں ان کے مطابق پورا پورا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی کو نہ پائے اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہئے۔

سعید نے بیان کیا کہ ابو ادریس خولانی جب اس حدیث کو بیان کرتے تو گھٹنوں کے بل گر جاتے۔ (مسلم)

مسلم شریف کی روایت ہے۔

تو سب سے پہلے تو ہم اس چیز پر عمل کرتے ہیں، کیونکہ جب کبھی کسی چیز کی فضیلت بیان کی جاتی ہے یا کوئی امر آتا ہے، تو جس چیز پر عمل ہو سکتا ہے اس وقت اگر کوئی عمل کرتا ہے تو اس کو اس عمل کا نور نصیب ہو جاتا ہے۔ تو اس حدیث شریف میں جو اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ کرو، تو ہم فی الحال وہی کر لیتے ہیں۔ بعد میں اس کی تشریح کل کر لیں گے لیکن آج اس پر عمل کر لیتے ہیں۔


تو سب سے پہلے ہم، جو ہم سے کہا ہے کہ: تم سب کے سب گمراہ ہو مگر میں جس کو ہدایت عطا کروں پس تم مجھ سے ہدایت کا سوال کرو، میں تم کو ہدایت عطا کرونگا۔

تو سب کریں:

«اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ، اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ، اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ، صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ۔»

اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھانا دوں،

ٰاے اللہ! تو ہم سب کو رزقِ حلال وافر نصیب فرما دے۔ اور یا الہ العالمین! ہمارے رزق میں کوئی کمی نہ ہو، یا اللہ حلال رزق ہو، وافر ہو، اور یا الہ العالمین! تو اپنے فضل و کرم سے یا الہ العالمین! ہمیں بھی عطا فرما اور جس کے لیے ہم کہیں ان کو بھی عطا فرما۔ یا الہ العالمین! پورے مسلمانوں کو عطا فرما دے یا الہ العالمین! سب کو یا الہ العالمین حلال رزق سے مالا مال فرما۔

اے میرے بندو! تم سب برہنہ ہو مگر جس کو میں لباس پہنا دوں، پس مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دونگا۔

اے اللہ! بہترین لباس جس کو تو یا اللہ بہترین لباس سمجھتا ہے یا الہ العالمین! وہ لباس ہمیں عطا فرما اور یا اللہ جو تقویٰ کا لباس ہے، وہ بھی یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے، تجھ سے مانگیں، یا اللہ ہمیں تقویٰ کا لباس عطا فرما۔ اور یا الہ العالمین! یا الہ العالمین! ہمیں کسی گندگی میں مبتلا نہ ہونے دے، اور ہمارے اوپر پردے کا جو رکھا ہوا ہے ییا الہ العالمین! اس کو نہ اٹھا دے۔ یا الہ العالمین! تو اپنے فضل و کرم سے ہمارے تمام ستروں کی حفاظت فرما دے۔ یا الہ العالمین! تو ہم سے راضی ہو جا ایسے راضی ہو کہ پھر کبھی ناراض نہ ہو۔

اے میرے بندو! تم رات دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تم کو معاف کردونگا،۔

تو استغفار پڑھ لیں:

«أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً، سِرًّا وَعَلَانِيَةً، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ أَعْلَمُ، وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَا أَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُيُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔»

اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے یا اللہ ہمیں، سب کو معاف فرما دے، ہم تمام گناہوں سے معافی مانگتے ہیں۔ یا الہ العالمین جو جتنے بھی گناہ ہم نے کیے چھوٹے بڑے، ظاہر باطن، قصداً غلطی سے، اور یا الہ العالمین جو ہمیں معلوم ہیں، معلوم نہیں کیے ہیں، یا اللہ ان سب سے یا الہ العالمین سب کی معافی چاہتے ہیں اور یا اللہ توبہ کرتے ہیں۔ یا اللہ ہماری توبہ قبول فرما، آئندہ کے لیے ہم یہ غلطیاں نہیں کریں گے اور غلطی سے پھر سے ہو گیا تو فوراً توبہ کریں گے۔ یا اللہ ہمارے، ہم سب کو معاف فرما، تمام مسلمانوں کو معاف فرما، اپنے حبیب ﷺ کی پوری امت کو معاف فرما۔


اے میرے بندو! تم مجھے نقصان پہنچانے کی قوت نہیں رکھتے ہو اور نہ ہی تم مجھے فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے تمام انسان اور جن کسی انتہائی پرہیزگار انسان کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے اور جن اور انسان سب سے زیادہ بدکار کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میرے ملک میں کچھ کمی نہیں آسکتی۔

اے اللہ! تو جس، اس سے جو ہمیں سمجھانا چاہتا ہے ہمیں سمجھ آ جائے، اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس کے اوپر پورا یقین عطا فرما دے۔

اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے اور جن وانس ایک چٹیل میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کے سوال کو پورا کردوں یہ چیز بھی میرے خزانے میں کچھ کمی نہیں کر سکتی البتہ جس قدر سمندر میں سوئی ڈالنے سے (سمندر کا پانی) کم ہوتا ہے۔

اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے آپ سے مانگنے والا بنا دے، یا الہ العالمین ہر وقت یا اللہ ہم تجھ سے مانگیں اور تمام اور لوگوں سے مستغنی کر دے۔


اے میرے بندو! تمہارے اپنے اعمال ہیں میں تمہارے لئے ان کا احاطہ کرتا ہوں پھر تمہیں ان کے مطابق پورا پورا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی کو نہ پائے اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہئے۔

اے اللہ! ہمیں یا الہ العالمین تو ایسے انجام سے بچا دے کہ ہم یا الہ العالمین اپنے آپ کو نقصان پہنچا دیں۔ یا الہ العالمین ہمیشہ کے لیے ہم وہ کام کریں جس سے تو راضی ہوتا ہے۔ اور ہمیں اپنی رضا کے کاموں کے لیے یا الہ العالمین خاص فرما دے۔ اور یا اللہ ہر قسم کی غلطیوں سے محفوظ فرما دے، شیطان کے یا اللہ شر سے ہمیں محفوظ فرما، ہمارے نفسوں کی بہترین تربیت فرما دے۔ یا اللہ ہمارے نفسوں کو یا اللہ نفسِ مطمئنہ، قلب کو قلبِ سلیم اور عقل کو عقلِ فہیم بنا دے۔ اور یا اللہ ایمانِ کامل کے ساتھ یا الہ العالمین ہمیں اعمالِ صالحہ دائماً عطا فرما دے۔ اور یا اللہ ان کو قبول بھی فرما دے، اس پر راضی ہو جا ہم سے ناراض نہ ہو۔

«سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔»



**تجزیہ اور خلاصہ:**


**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع اور بہترین عنوان:** حدیثِ قدسی کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور دعاؤں کا عملی نمونہ


**متبادل عنوان:** اللہ جل شانہٗ کی بے نیازی اور رزق، لباس و مغفرت کی طلب کا راستہ


**اہم موضوعات:**

• اللہ تعالیٰ کا بندوں کے ساتھ برتاؤ اور اس کی بے پناہ رحمت (حدیثِ قدسی کی روشنی میں)

• ظلم کی ممانعت اور ہدایت کی طلب کی اہمیت

• اللہ کی ذات کی بے نیازی اور خزانوں کی وسعت

• رزقِ حلال، لباس (ظاہری و تقویٰ) اور مغفرت کے لیے عملی دعائیں

• فوری عمل کرنے کی برکت اور گناہوں پر استغفار اور سچی توبہ



اللہ جل شانہٗ کی بے نیازی اور رزق، لباس و مغفرت کی طلب کا راستہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور