اسلام میں معاشرت کے اصول اور دوسروں کے حقوق کا خیال

درس نمبر 188، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامعہ عربیہ مفتاح العلوم - انڈس روڈ، حیدرآباد، پاکستان

راستے سے تکلیف دہ چیز، مثلاً کانٹے یا گندگی کو ہٹانا بظاہر ایک چھوٹا عمل لگتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی نیک عمل کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ معاشرت کا بنیادی اصول ہے کہ انسان اپنی خواہشات کے بجائے دوسروں کی ضرورتوں اور سہولت کو پیشِ نظر رکھے۔ دوسروں کو تکلیف سے بچانا واجب ہے، جبکہ نوافل محض ایک اضافی چیز ہیں۔ لہٰذا مساجد یا گزرگاہوں میں اس طرح نفل ادا کرنا درست نہیں جس سے نکلنے والوں کا راستہ رکے، کیونکہ نفل کا ثواب کمانے کے لیے واجب کو چھوڑ دینا درست نہیں۔ غرض جس چیز سے بھی لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو، اسے دور کرنے پر فضیلت حاصل ہوتی ہے، جبکہ تکلیف دینے سے اللہ کی ناراضگی کا اندیشہ ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

معزز خواتین و حضرات، کل ایک حدیث شریف ہم نے پڑھی ہے۔

جس کا ترجمہ میں دوبارہ کرتا ہوں کیونکہ اس سے کچھ تشریحات وابستہ ہیں وہ ابھی عرض کرنی ہیں۔

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک آدمی کو جنت میں پھرتے ہوئے دیکھا اس لئے کہ اس نے راستہ سے ایک درخت کو کاٹ ڈالا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔

اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی راستہ پر سے ایک درخت کی شاخ لیکر گزرا اس نے کہا اللہ کی قسم! میں اس کو مسلمانوں سے دور رکھوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے پس وہ جنت میں داخل کیا گیا۔

بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ ایک بار ایک آدمی راستہ سے گزر رہا تھا اس نے راستہ پر کانٹوں والی شاخ کو پایا اس نے اس کو راستہ سے ہٹا دیا اللہ نے اس کی قدر دانی فرماتے ہوئے اس کو معاف کر دیا۔“

تو یہ جو اس میں اعمال ہیں، ان کو اکثر لوگ اتنے اونچے اعمال نہیں سمجھتے۔ لیکن اللہ تعالی جس چیز پر بھی راضی ہو جائے۔ تو ایک تو اس سے یہ پتہ چلا کہ ہم لوگ کسی عمل کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ ایک بات تو اس سے یہ معلوم ہو گئی کہ ہم کسی عمل کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ اصل میں تو اللہ تعالی کی رضا چاہیے۔ تو اللہ پاک کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے عمل پر راضی ہو جائے تو کام بن جائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ جو چیزیں ہیں یہ بھی کارآمد ہیں۔ یعنی ان چیزوں کو کرنا چاہیے۔ یہ معاشرت کے اصول ہیں۔ تو اس سے معاشرت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ معاشرت میں انسان کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ، یعنی انسان کی اپنی جو خواہشات ہوتی ہیں، وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وہ دوسروں کی چیزوں سے اندھا ہو جاتا ہے۔ اور وہ دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی، وہ ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ ایسا ہونا چاہیے کہ دوسروں کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھ کر اپنی بعض خواہشات کو اگر ضرورت ہو تو دبا لینا چاہیے۔ طریقہ یہ ہونا چاہیے۔

تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ دیکھیے وہ کانٹوں والی شاخ ہے، اس کو ہٹانا اس میں دوسروں کا خیال ہے۔ اس طریقے سے کسی درخت کا تکلیف دینا اور اس کو کاٹ ڈالنا تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو، تو یہ، ماشاءاللہ۔ اسی طریقے سے ہم اپنی گاڑی جو ہے وہ کسی کے گھر کے سامنے نہ کھڑی کر دیں تاکہ اس کو تکلیف نہ ہو۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم راستوں میں اس طرح نہ بیٹھیں کہ اس سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہو۔ بلکہ ایک بات اور میں عرض کروں گا کہ نوافل جو پڑھتے ہیں، ماشاءاللہ مسجد میں، تو کہتے ہیں فرائض و واجبات یہ تو اس کے لیے تو انسان کو حکم ہے۔ لہذا یہ تو کرنے پڑیں گے۔ اس میں دوسرے لوگوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ظاہر ہے جب فرض واجب کا وقت ہو تو پھر اس میں اس کو موقع دینا چاہیے کہ اس کو صحیح طریقے سے اس کو ادا کرنے کے لیے ہم اس کو کرنے دیں۔ لیکن جو نوافل ہیں یہ انسان کے لیے اضافی چیز ہے۔ تو اضافی چیز کے لیے کسی اور کو تنگ نہیں کرنا چاہیے۔

اب ایک طرف نفل ہے، دوسری طرف دوسرے لوگوں کو بچانا واجب ہے، یعنی تکلیف دے، دینے سے بچانا واجب ہے۔ تو یہ جو لوگ راستوں کے اندر کھڑے ہو کر نفل پڑھتے ہیں، راستوں میں کیسے؟ عام طور پر تو راستہ نہیں ہوتا لیکن جب لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں تو بعض لوگوں کو ضرورتیں ہوتی ہیں وہ باہر جانا چاہتے ہیں۔ یعنی نماز مکمل کر کے۔ جیسے مغرب کی نماز ہے تو مغرب کی نماز میں تین رکعات پڑھ لیں اور دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھ لیں تو لوگ باہر نکلنا چاہیں گے۔ اب کسی نے اوابین پڑھنی ہیں۔ اوابین پڑھنے کے لیے اس نے نیت ایسی جگہ باندھ لی کہ جہاں سے ان لوگوں کو گزرنا ہے۔ کیونکہ ان کے لیے تو اس وقت راستہ ہے۔ اگرچہ وہ مسجد ہے لیکن ان کے لیے تو اس وقت راستہ ہے۔ تو ان کے راستے میں کھڑے ہو کر اس نے نیت باندھ لی۔ یہ ٹھیک نہیں ہے، اللہ پاک کو پسند نہیں ہے۔ اس نے نفل تو ادا کیا، لیکن واجب چھوڑا۔ اور یہ بے وقوفی ہے۔ اپنے آپ کو نقصان دینے والی بات ہے۔ تو اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔

بلکہ اب تو یہ مسئلہ ہے کہ، بعض لوگ، یعنی جس کو کہتے ہیں یعنی جوان بھی ہوتے ہیں، لیکن وہ پتہ نہیں مغرب کی سنتیں پتہ نہیں کیوں وہ لازم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کو بیٹھ کر پڑھنا چاہیے۔ ٹھیک ہے آدھا اجر مل جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو ایک انسان ٹھیک ٹھاک ہو اور پھر خواہ مخواہ یعنی اس کو عادی کر لے، بلاوجہ کیا ہے؟ تو اس میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ کھڑے ہونے میں تو انسان کو پتہ چلتا ہے کہ اب یہ کھڑا ہو رہا ہے نماز کے لیے تو اس کو روک دے گا کہ "بھئی تھوڑی دیر رکو۔" جبکہ بیٹھ کے جو نیت کر رہا ہوتا ہے وہ تو فوراً اس کو پتہ چلنے سے پہلے اس نے نیت کر لی ہوتی ہے۔ تو اس میں یہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جس سے لوگوں کو تکلیف ہو۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس قسم کی سمجھ عطا فرمائے جس میں دین کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔ اچھا اس سے بس یہ بھی پتہ چلا کہ

ہر وہ چیز جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو مثل گندگی ہو یا کانٹا ہو یا کوئی مردار ہو، غرض کوئی بھی ایسی چیز ہو جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو اس کو ہٹانے پر یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ اس کے برعکس لوگوں کو تکلیف دینا یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب سے راضی ہو جائے اور جو بھی ناراضگی کے کام ہیں اس سے اللہ تعالی ہمیں بچائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔