لوگوں کو اذیت سے بچانے کا عظیم اجر

درس نمبر 187، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع قرطبہ مسجد - پلاٹ ایس ٹی 31، شیریں جناح کالونی کلفٹن بلاک 1 کراچی

راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے اور یہ عمل مغفرت اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لوگوں کو راحت پہنچانا اور انہیں ہر قسم کی ایذا سے بچانا دین کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کو تکلیف دینا، راستے پر چیزیں پھینکنا، گندگی کرنا یا ایسی رکاوٹیں کھڑی کرنا جن سے دوسروں کا راستہ بند ہو، اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے۔ ایک بہتر معاشرت کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کو تکلیف دینے سے مکمل اجتناب کریں اور اپنی طرف سے لوگوں کے لیے راحت کا سامان پیدا کریں۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

درخت کاٹنے پر آدمی کو جنت مل گئی

(127) ﴿اَلْحَادِیْ عَشَرَ: عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَقَدْ رَاَيْتُ رَجُلاً يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِيْ شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيْقِ كَانَتْ تُؤْذِي الْمُسْلِمِيْنَ.﴾ (رواه مسلم) وفي رواية: ”مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلٰى ظَهْرِ طَرِيْقٍ فَقَالَ: وَ اللهِ لَاُنَحِّيَنَّ هٰذَا عَنِ الْمُسْلِمِيْنَ لَا يُؤْذِيْهِمْ، فَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ“

وَ فِيْ رِوَايَةٍ لَّهُمَا: ”بَيْنَمَا يَمْشِيْ بِطَرِيْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيْقِ، فَاَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ“ ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک آدمی کو جنت میں پھرتے ہوئے دیکھا اس لئے کہ اس نے راستہ سے ایک درخت کو کاٹ ڈالا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی راستہ پر سے ایک درخت کی شاخ لیکر گزرا اس نے کہا اللہ کی قسم! میں اس کو مسلمانوں سے دور رکھوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے پس وہ جنت میں داخل کیا گیا۔

بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ ایک بار ایک آدمی راستہ سے گزر رہا تھا اس نے راستہ پر کانٹوں والی شاخ کو پایا اس نے اس کو راستہ سے ہٹا دیا اللہ نے اس کی قدر دانی فرماتے ہوئے اس کو معاف کر دیا۔“

قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِیْقِ: اس درخت کو اس نے کاٹ دیا جو راستے میں تھا۔ لوگوں کو تکلیف اور نقصان سے بچانا یہ اللہ کو بہت پسند ہے، اس کی یہ مثال دی جا رہی ہے کہ ایک آدمی نے اس درخت کو کاٹ دیا جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی تھی، یہ عمل اللہ کو اتنا پسند آیا کہ اسی عمل پر اس کی مغفرت ہو گئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں مراد صرف درخت نہیں ہے ہر وہ چیز جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو مثل گندگی ہو یا کانٹا ہو یا کوئی مردار ہو، غرض کوئی بھی ایسی چیز ہو جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو اس کو ہٹانے پر یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ اس کے برعکس لوگوں کو تکلیف دینا یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے کے لیے بہت رہنما اصول ہیں، اگر ہم اپنی معاشرت بہتر کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو تکلیف دینے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اور لوگوں کو راحت پہنچانے کا سامان ہم اپنی طرف سے کریں تو یہ بہت فائدے کی بات ہے۔ عموماً آج کل لوگ مثلاً مسجد بنانے کو تو دین سمجھتے ہیں لیکن راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا شاید اسے دین نہیں سمجھتے۔

اس طرح جیسے ہم گاڑی پارک کرتے ہیں تو کسی کے گھر کے سامنے پارک کرنا یا کسی کی دکان کے سامنے پارک کرنا یا راستے میں اس طریقے سے پارک کرنا کہ دوسری گاڑیوں کو راستہ نہ ملے، یہ ایذا میں آتے ہیں، لوگوں کو تکلیف دینے میں آتے ہیں۔ اور اگر ہم کسی کو، مثلاً موٹر سائیکل کھڑی ہے اور اس کے ساتھ گاڑی نہیں گزر سکتی، کوئی آکر اس موٹر سائیکل کو سائیڈ پہ کر دے تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو اس پر اللہ تعالیٰ جنت نصیب فرمائے۔

تو ہمیں ایسی کوششیں کرنی چاہییں، اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے، گناہوں سے بچائے اور اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔