جانوروں پر رحم اور عمل میں اخلاص کی فضیلت
درس نمبر 186، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
اسلام میں ہر جاندار کے ساتھ حسنِ سلوک پر بے پناہ اجر کا وعدہ کیا گیا ہے، جس کا بنیادی اصول "فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" یعنی ہر جاندار کو فائدہ پہنچانے میں ثواب ملنا ہے۔ بعض اہلِ علم کی رائے میں جن موذی جانوروں کو مارنے کا حکم ہے، پیاسا ہونے پر انہیں پانی پلانا بھی شریعت کی بتائی گئی بہتری کی رعایت میں داخل ہے۔ اس سے یہ لطیف امر معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ کیا گیا کوئی ایک عمل بھی پسند آ جائے، تو اس کی برکت سے انسان کے عمر بھر کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اس لیے ہر عمل میں اخلاص کی خوب کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ عمل اللہ کو پسند آ جائے اور نجات کا ذریعہ بن سکے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
کل ایک حدیث شریف ہم نے پڑھی تھی جس میں کتے کو پانی پلانے والے کو جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ تو آج ان شاء اللہ اس کی مزید تشریح کی جاتی ہے۔
اس حدیث شریف میں ایک کتا جو کہ بہت پیاسا تھا۔ تو یہ جو شخص تھا اس نے جو پانی کنویں میں جا کر اس کو پیا، تو جب اس نے دیکھا کہ کتا بھی اس طرح کیچڑ کھا رہا ہے، تو اس کو یہ محسوس ہوا کہ یہ کتا بھی بہت پیاسا ہے۔ اس لیے اس کو بھی انہوں نے پانی اس طرح پلایا کہ نیچے اتر کے موزے کو پانی سے بھرا اور منہ سے اس کو پکڑا اور پھر اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ تو اس پر اللہ پاک نے اس کو معاف کر دیا اور بخاری شریف کی جو روایت ہے، اس کے مطابق اس کو جنت میں داخلہ دے دیا گیا۔ اس طرح ایک فاحشہ عورت کے بارے میں بھی یہ بات تھی۔
تو یہاں پر ایک بات آتی ہے کہ
تشریح: منہ سے اس نے موزہ کو کیوں پکڑا؟
وہ کنویں میں اترا، اور موزے کو بھرا، اور منہ سے پکڑ کر باہر نکلا، عرب میں عموماً چمڑے کے موزے استعمال کئے جاتے تھے کہ اس میں پانی بھر لیا جائے تو گرتا نہیں ہے۔ اس موزے کو منہ سے پکڑنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جنگل کے کنویں میں عام طور سے اترنے کے لئے کچھ اینٹیں وغیرہ اس طرح باہر کو نکال دیتے ہیں کہ جن کی مدد سے آدمی نیچے اتر سکتا ہے اور اوپر بھی چڑھ سکتا ہے مگر اترنے اور چڑھنے میں ہاتھ سے مدد لینا ہوتی ہے اس لئے اس نے موزے کو منہ سے پکڑا۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کو مارنے کا حکم ہے مثلاً سانپ، بچھو وغیرہ لیکن دوسرے بعض اہل علم کی رائے یہاں پر بھی یہی ہے کہ شریعت نے اگرچہ ان کو مارنے کا حکم دیا ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ وہ پیاسا ہو تو پانی نہ پلایا جائے۔ شریعت نے قتل کرنے میں بھی بہتری کی رعایت کا حکم دیا ہے۔ فَقَالَ فِيْ كُلِّ كَبِدٍ رَّطْبَةٍ اَجْرٌ: ہر جاندار میں ثواب ملتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ ہر گرم جگر والے (یعنی جاندار) میں اجر ہے۔ اس سے یہ لطیف امر بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کو جب کسی شخص کا کوئی عمل بھی پسند آ جائے تو اس کی برکت سے اس کے عمر بھر کے تمام گناہ کو بخش دیتے ہیں، اس لئے ہر عمل میں اخلاص کی خوب کوشش کرنا چاہئے تاکہ وہ عمل اللہ کو پسند آ جائے اور ہمارا بیڑا پار ہو جائے۔
تخریج حدیث: أخرجه صحيح بخارى كتاب الشرب (باب فضل سقى الماء). و كتاب المظالم (باب الأبار على الطريق) و صحيح مسلم كتاب السلام (باب فضل ساقى البهائم. و اطعامها) و أخرج امام مالك فى مؤطأه و أحمد و أبوداؤد و ابن حبان و البيهقى أيضاً.
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔