حدیثِ شعبِ ایمان کی تشریح: قولی اور فعلی اعمال کا توازن
درس نمبر 184، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- ایمان کی شاخوں کی تعداد اور ان کی اہمیت
- کلمہ طیبہ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) کا مقام اور حقوق اللہ
- راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت اور حقوق العباد
- ایمانی شعبوں کی قولی اور فعلی تقسیم (محدثین کی آراء کی روشنی میں)
- دوسروں کو راحت پہنچانے اور تکلیف نہ دینے کا اسلامی فلسفہ
- حیا کی اہمیت بطورِ شعبہ ایمان
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
ایمان کی 70 سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔
(125) التَّاسِعُ: وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُونَ، أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّونَ شُعْبَةً: فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ" (متفق عليه)
ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرماتے ہیں کہ ایمان کی ستر سے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، سب سے افضل شاخ "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے سب سے کم درجہ میں یہ ہے کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔"
تشریح: "بضع" کا لفظ تین سے نو تک کے عدد کے لئے بولا جاتا ہے اور یہ باء کے زیر کے ساتھ ہے اور کبھی زبر سے بھی پڑھ لیا جاتا ہے۔ "شُعْبَةٌ" بمعنی حصہ اور ٹکڑا ہے۔
بِضْعٌ وَ سِتُّونَ: ساٹھ سے کچھ اوپر، بضع کے مصداق میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے چند اقوال نقل کئے ہیں مشہور یہ ہے کہ تین سے لیکر نو تک کو کہتے ہیں اسی پر قزاز نے جزم کیا ہے۔ ابن مندہ فرماتے ہیں کہ بضع کا اطلاق تین سے دس تک پر کیا جاتا ہے، ایک قول ایک سے نو تک کا بھی ہے۔ اور ایک قول دو سے دس تک کا بھی ہے۔
"شُعْبَةٌ": اس پر تنوین تعظیم کے لئے ہے یعنی حیاء ایمان کا بہت بڑا شعبہ ہے اس حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے اجمالاً ستر ایمانی شاخوں کا ذکر فرمایا مگر اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی کیونکہ اگر ان سب کی تفصیل بیان کی جاتی تو وہ طویل کا باعث بن جاتا مگر ساتھ ساتھ نہایت بلاغت کے ساتھ ان سب شعبوں کے طرف اشارہ بھی فرما دیا۔
پہلی بات کو قول "لا الہ الا اللہ" سے ذکر کر دیا۔ کہ کلمہ طیبہ ہی سب سے اہم حقوق اللہ میں سے ہے دوسری بات کو "اماطة الاذى عن الطريق" سے ذکر کر دیا کہ جب یہ دوسرے کی رکھی ہوئی تکلیف دہ چیز کو دور کر رہا ہے تو وہ خود کیسے دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔
بعض محدثین فرماتے ہیں کہ ایمانی شعبہ دو قسم پر ہے; (1) قولی (2) فعلی۔ قولی میں "لا الہ الا اللہ" کو ذکر فرمایا اور فعلی میں "إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ" کو بیان فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایمان کی سربزی کے لئے اقوال اور افعال کا صحیح ہو جانا ضروری ہے۔ بعض نے اس طرح سمجھایا ہے کہ ایمانی شعبہ میں سے بعض کا تعلق کرنے سے ہے اور بعض کا تعلق نہ کرنے سے ہے تو "لا الہ الا اللہ" میں کرنے کا ذکر فرما کر تمام کرنے والی چیزوں کو جمع فرما دیا۔ اور "اماطة الاذى عن الطريق" میں نہ کرنے والے شعبہ کو جمع فرما دیا۔ تو یہ اصل میں گویا کہ ایک جامع حدیث شریف ہے جس میں ایمان اور اس کی شاخوں کے بارے میں ذکر ہے۔ اور "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" جس پر تو انسان کی پوری زندگی قائم ہے، پوری کائنات قائم ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ تو یہ سب سے اہم شاخ ہے کیونکہ اس سے پھر باقی چیزیں نکلتی ہیں۔
اور دوسرا ایک ایسا شعبہ جس کو عموماً عام لوگ نظر انداز کرتے ہیں، مطلب یہ بھی گویا کہ دین کی بات ہے۔ حالانکہ دین کے اوپر عمل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ کسی راستے میں اگر کوئی تکلیف دہ چیز پڑی ہوئی ہے تو اس کو دور کرے۔ یعنی دوسرے لوگوں کو راحت پہنچائے۔ تو جب راحت پہنچانے کا فضیلت فرمائی گئی، تو تکلیف دینے کی کیا بات ہو گی؟ تو ظاہر ہے تکلیف سے بچانا راحت ہے، تو تکلیف تو بالکل نہیں دینا۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ان کی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے، اس پر عمل کرنے کی۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔