محبت کا اظہار: معمولی تحفے کو بھی حقیر نہ سمجھیں

درس نمبر 183، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • ہدیہ (تحفہ) دینے اور قبول کرنے کی فضیلت اور نبوی ﷺ تعلیمات۔
  • کسی کے ہدیے کو معمولی یا حقیر نہ سمجھنے کی تاکید۔
  • نیکی اور صدقے میں مال کی مقدار کے بجائے نیت اور اخلاص کی اہمیت۔
  • غزوہ کے موقع پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا چند کھجوروں کا صدقہ۔
  • امیر اور غریب کی قربانی کا موازنہ اور ضرورت پر پڑنے والے اثرات۔
  • ہدیہ کو دلوں کی محبت اور خلوص کے پیمانے سے ناپنے کا اصول۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّجِيمِ۔

(124) وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا نِسَآءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ" (متفق عليه)

قَالَ الْجَوْهَرِيُّ الْفِرْسِنُ مِنَ الْبَعِيْرِ كَالْحَافِرِ مِنَ الدَّابَّةِ قَالَ: وَرُبَّمَا اسْتُعِيرَ فِي الشَّاةِ۔ ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے مسلمان عورتو! کوئی عورت اپنی ہمسایہ عورت کو بکری کی کھر کا (ہدیہ بھیجوانے) کو معمولی نہ سمجھے۔"

تشریح: عورتوں کو کیوں مخاطب کیا گیا؟ يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ: "اے مسلمان عورتو!" ایک دوسری روایت میں "يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنِينَ" کے الفاظ بھی منقول ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ کہ وہ کسی کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے۔ جو حدیث بالا میں عورتوں کو صرف مخاطب بنایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عادت عورتوں میں کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ لا تحقرن جارة لجارتها کے دو مطلب

اس حدیث کے محدثین نے دو مطلب بیان فرمائے ہیں: ہدیہ کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی بھی کسی کے ہدیہ کو معمولی نہ سمجھے، ہو سکتا ہے کہ وہ ہدیہ دیکھنے میں تو معمولی سا ہو مگر اخلاص کی وجہ سے اللہ کے نزدیک اس کی قیمت بہت زیادہ ہو۔

آپ ﷺ نے ایک دفعہ ایک غزوے کے لیے چندے کے لیے فرمایا تھا۔ تو ایک صحابی صرف چند کھجوریں لایا تھا۔ تو آپ ﷺ نے ان کے اوپر، سب کے اوپر بکھیر دیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس یہی تھا اس وقت، جو وہ دے سکتے تھے۔ تو جو دے رہا ہے، اصل میں ان کے اخلاص کو اللہ پاک دیکھتا ہے۔ اس کو نہیں دیکھتا کہ وہ ہے کتنی چیز۔

مثال کے طور پر ایک شخص کے پاس ایک لاکھ روپے ہیں اور دوسرے کے پاس پچاس روپے ہیں۔ اور پچاس روپے والا پچیس روپے اس میں دے دے۔ تو کیا وہ ایک لاکھ میں اگر کوئی پچاس ہزار نہیں دے گا تو اس کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ سارا اس کے پاس یہی ہے سارا کچھ۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ جو ایک لاکھ والا ہے، اگر پچاس ہزار بھی دے دے گا تو اس کی ضرورت پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ کیونکہ پچاس ہزار اس کی ضرورت سے پھر بھی زیادہ ہیں۔ لیکن جو پچاس روپے والا ہے، اس کے پچیس روپے اگر دے دے تو اس کی ضرورت پر فوری اثر پڑ رہا ہے۔ تو اس کی قربانی زیادہ ہے۔ تو اللہ جل شانہ دلوں کو دیکھتا ہے اور سامنے والی چیز کو نہیں دیکھتا۔

تشریح: اس جز سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ہدیہ دیتے رہنا چاہئے اگر زیادہ نہ پائے تو معمولی ہی دے دیا کریں یہ بھی نہ دینے سے بہتر ہے۔ وَ لَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ: اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ علماء فرماتے ہیں کہ بکری کا کھر تو کوئی کسی کو ہدیہ نہیں دیتا یہ تو تحفہ دینے کے قابل ہی نہیں؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں مبالغہ کہا جا رہا ہے کہ ہدیہ میں بھیجی جانے والی چیز کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے بکری کا کھر ہی ہدیہ میں بھیج دیا تو اس کو قبول کرلو۔

صَحِيحُ الْبُخَارِيّ، أوائل كِتَابُ الْهِبَةِ، كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، صَحِيحُ مُسْلِم كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِالْقَلِيلِ وَلَا تَمْتَنِعْ مِنَ الْقَلِيلِ۔

مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ہدیے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ وہ محبت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور محبت کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اس میں دل کو دیکھا جاتا ہے، اس میں چیز کو نہیں دیکھا جاتا۔ اللہ جل شانہ ہماری سوچ و فکر کو صحیح فرما دے۔