صبح و شام مسجد جانے کی فضیلت اور انعامات
درس نمبر 182، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- مسجد میں صبح و شام جانے والوں کے لیے جنت میں مہمانی کا اہتمام۔
- عربی الفاظ "غدوۃ" (صبح) اور "راح" (شام) کے لغوی اور اصطلاحی معنی۔
- مسجد جانے کے مختلف مقاصد (اعتکاف، تلاوت، نمازِ باجماعت)۔
- مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بندے کا ربِ کریم کے عزیز مہمان ہونے کا تصور۔
- صحاح ستہ (بخاری، مسلم، ابوداؤد وغیرہ) میں اس حدیث کے ابواب اور حوالے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! ریاض الصالحین میں آج جو حدیث شریف ہم پڑھ رہے ہیں، اس میں جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ
مسجد میں صبح شام جانے والے اللہ کے مہمان ہیں
عَنْہ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: "مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا، كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ۔" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔
ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جو شخص صبح و شام مسجد کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صبح و شام کو جنت میں اس کی مہمانی تیار کرتے ہیں۔"
النزول" کے معنی ہیں خوراک، روزی اور وہ چیز جو مہمان کے لئے تیار کی جائے۔
یہ اصل میں "نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ"، قرآنِ پاک میں دوسری جگہ بھی آیا ہوا ہے۔
تشریح: وَمَنْ غَدَا فِي الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ، یعنی یہ جو صبح یا شام کو مسجد کی طرف. محدثین رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مطلق ہے، مسجد میں جائے، اعتکاف کی نیت سے، تلاوتِ قرآن ک بے لیے، یا نماز کے لیے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مسجد کی طرف جانے اور نماز باجماعت پڑھنے کی ترغیب ہے۔
اس حدیث کے بارے میں صاحبِ معارف الحدیث، (یعنی مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ) تحریر فرماتے ہیں کہ بندہ صبح اور شام جس وقت بھی، اور دن میں جتنی دفعہ بھی خدا تعالیٰ کے گھر میں حاضر ہوتا ہے، ربِ کریم اس کو اپنے عزیز مہمان کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور ہر دفعہ کی حاضری پر جنت میں اس کے لیے مہمانی کا خاص سامان تیار کراتا ہے، جو وہاں پہنچنے کے بعد بندے کے سامنے آنے والا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ رب کریم کے جنت والے سامان مہمانی کا یہاں کون تصور کر سکتا ہے!
تخریج حدیث: صحیح بخاری، کتاب الاذان (باب فضل من غدا الى المسجد ومن راح)، وصحیح مسلم، کتاب المساجد (باب المشى إلى الصلوۃ تمحى به الخطايا الخ) واخرجه احمد 5 / 2037
تو ان احادیثِ شریف کی کتابوں میں اس حدیث شریف کا مضمون موجود ہے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو صبح شام، یعنی ہر وقت مسجد میں جانے والے بنا دے اور مسجد کے ساتھ تعلق نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔