الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آیت صدقہ کے نزول کے بعد صحابہ کا حال
(110) ﴿السَّادِسُ عَشَرَ: عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرِو الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الصَّدَقَةِ كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا. فَجَاءَ رَجُلٌ فَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ كَثِيرٍ فَقَالُوْا: مُرَاءٍ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ فَقَالُوا: إِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَاعِ هٰذَا! فَنَزَلَتْ ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ﴾
(التوبة: 79)﴾ (متفق عليه) (هذا لفظ البخاری).
”حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں جب صدقہ کی آیت نازل ہوئی تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے (صدقہ کرتے)، چنانچہ ایک آدمی آیا اس نے کثیر مال کا صدقہ کیا، منافقین بول اٹھے یہ تو ریا کار ہے، دوسرا آدمی آیا اس نے ایک صاع کا صدقہ کیا، ان پر منافقین نے کہا اللہ اس کے صاع سے غنی ہے، پس یہ آیت نازل ہوئی۔
ترجمہ: جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے اور جو (بے چارے غریب) صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (اور تھوڑی سی کمائی سے بھی خرچ کرتے ہیں) ان پر جو منافق طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں اللہ ان پر ہنستا ہے اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب تیار ہے۔“
اس حدیث شریف میں جو فرمایا کہ:
ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے بخاری شریف کی دوسری روایت میں ”اِنْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ.“ کے الفاظ آئے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس کچھ نہ ہوتا صدقہ کرنے کے لئے تو وہ مزدوری کرتے اور مزدوری میں جو ملتا اس کو صدقہ کرتے تھے۔
فَجَاءَ رَجُلٌ فَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ كَثِيرٍ: ایک آدمی آیا اور بہت سا صدقہ کیا، اس آدمی سے مراد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کتنا صدقہ کیا۔ اس بارے میں محدثینؒ کا اختلاف ہوا، بعض نے کہا کہ آٹھ ہزار درہم، بعض نے کہا چار ہزار درہم بعض نے کہا کہ چالیس اوقیہ۔
فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ: ایک دوسرے آدمی نے ایک صاع صدقہ کیا۔
یہ کون صحابی تھے، بعض لوگوں نے ابو عقیل انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لکھا ہے، بعض نے دوسرے بھی بتائے ہیں۔ انہوں نے رات بھر پانی کھینچ کر دو صاع کی مزدوری کی جس میں سے ایک صاع آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا آپ نے ان کی کھجور کو تمام صدقات کے مال پر بکھیر دیا۔
سبحان اللہ! کیا بات ہے، ما شاء اللہ!
تو فرمایا کہ: منافقوں نے کہا کہ اللہ تمہارے اس صدقہ سے غنی ہے۔
یعنی انہوں نے اس کو بہت کم سمجھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے زیادہ صدقہ کرنے والے کو ریا کار بتانا اور تھوڑے صدقہ دینے والوں کا مذاق اڑانا یہ منافقوں کا شیوہ ہے۔
کیونکہ جو واقعی اس طرح کرتے بھی ہوں، ہمیں حق نہیں ہے کیونکہ ہمیں تو حسنِ ظن کا حکم ہے۔ ظَنُّوا بِالْمُؤْمِنِينَ خَيْرًا۔ ہم ان کے دل کے حال سے کیا آگاہ ہیں کہ وہ کیوں کر رہا ہے؟ ہمیں اس طرح نہیں کہنا چاہیے، ہاں البتہ خود ہمیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اپنا حال تو انسان کو پتہ ہوتا ہے۔
اہل ایمان کو منافقین کی ان باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے اور صدقہ دینے سے رکنا نہیں چاہیئے اپنی طاقت کے مطابق صدقہ دیتے رہنا چاہیئے۔
اخرجه بخارى كتاب الزكوة (باب اتقوا النار ولوبشق تمرة) وصحيح مسلم كتاب الزكوة (باب الحمل أجرة يتصدق بها والنهى الشديد عن تنقيص المتصدق بقليل)، والنسائى و ابن ماجة و ابن حبان والطبرانى ٥٣٣/٧ و ابن خزيمة ٢٤٥٣۔
تو یہ حدیث شریف صحیح حدیث شریف ہے، اور اس کے مطابق ہمیں یہ بتایا گیا کہ صدقہ کرنا چاہیے، چاہے زیادہ ہو چاہے تھوڑا ہو۔ اگر کسی کی زیادہ استطاعت ہے تو زیادہ کر لے، اگر کسی کی کم استطاعت ہے تو کم کر لے، اللہ پاک کو ہر صورت میں پسند ہے۔ اور منافقین تو کسی بات پر بھی خوش نہیں ہوتے، وہ تو ہمارے اوپر پھبتیاں کسیں گے۔ تو ہمیں ان کی پروا نہیں کرنی چاہیے، جو بھی کہیں، ہم کہتے ہیں ہمارا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ان کے لیے تو ہے نہیں تو ہم ان کی باتوں کا کیوں اثر لیں؟ اس طریقے سے ہم لوگ اچھے کاموں کے لیے استعمال ہوں گے اور برے کاموں سے بچیں گے ان شاء اللہ۔
**تجزیہ اور خلاصہ:**
**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
**سب سے جامع عنوان:** انفاق فی سبیل اللہ: صحابہ کرام کا بے مثال جذبہ اور منافقین کا طرزِ عمل
**متبادل عنوان:** صدقہ و خیرات میں حسنِ ظن کی اہمیت اور ریاکاری سے اجتناب
**اہم موضوعات:**
* آیتِ صدقہ کا نزول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیاں
* صدقہ کرنے کے لیے صحابہ کا محنت مزدوری کرنا
* حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت ابو عقیل انصاریؓ کا بارگاہِ رسالت ﷺ میں صدقہ پیش کرنا
* زیادہ یا کم صدقہ کرنے والوں پر منافقین کا طعنہ اور استہزاء
* مسلمانوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے کی تاکید
* لوگوں کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کرنے کی ترغیب