جسم کے 360 جوڑوں کا صدقہ اور اس کی ادائیگی کے آسان طریقے

درس نمبر 181، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • انسانی جسم میں موجود 360 جوڑوں (سلامی) پر شکرانے کے طور پر صدقے کا وجوب۔
  • صدقہ صرف مال تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی و سماجی اعمال بھی صدقہ ہیں۔
  • دو لوگوں کے درمیان انصاف و صلح کرانے کی فضیلت۔
  • سواری اور روزمرہ معاملات میں دوسروں کی مدد کرنے کا اجر۔
  • اچھی بات کہنا، مسجد کی طرف چل کر جانا اور راستے سے تکلیف دہ چیزیں ہٹانا۔
  • چاشت کی نماز کی اہمیت (جو 360 جوڑوں کے صدقے کے قائم مقام بن جاتی ہے)۔

آدمی پر ہر جوڑ کے بدلے میں صدقہ واجب ہے

(122) ﴿عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامٰى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيْهِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيْنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْتَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيْهَا إِلَى الصَّلَوةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيْطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ﴾ (متفق عليه)

وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ اَيْضًا مِنْ رِّوَايَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِيْ آدَمَ عَلٰى سِتِّيْنَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللّٰهَ وَحَمِدَ اللّٰهَ وَ هَلَّلَ اللّٰهَ وَسَبَّحَ اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ اللّٰهَ وَ عَزَلَ حَجَراً عَنْ طَرِيْقِ النَّاسِ اَوْ شَوْكَةً اَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيْقِ النَّاسِ اَوْ اَمَرَ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ نَهٰى عَنْ مُنْكَرٍ، عَدَّدَ السِّتِّيْنَ وَ الثَّلَاثِ مِائَةٍ فَإِنَّهُ يُمْسِيْ يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ.“

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کے تمام جوڑوں پر صدقہ واجب ہے جب سورج نکلتا ہے۔ دو انسانوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا سواری پر سامان رکھوانے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔ عمدہ بات کہنا صدقہ ہے، جو قدم نماز کی طرف اٹھتا ہے صدقہ ہے، راستہ سے تکلیف دہ چیز کا اٹھانا صدقہ ہے۔

امام مسلمؒ نے اس حدیث کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، انہوں نے بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام بنی آدم کے تین سو ساٹھ اعضا پیدا کئے گئے ہیں پس جو شخص اللہ اکبر کہے، اللہ کی حمد کرے، تہلیل و تسبیح بیان کرے، استغفار کہے، راستے سے پتھر (کی رکاوٹ) کو دور کرے یا کانٹا اور ہڈی کو راستہ سے ہٹادے یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرے (ان کاموں کی گنتی) تین سو ساٹھ ہو جائے تو وہ اس حال میں شام کرے گا کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے دور کر لیا۔“

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔

تشریح: كُلُّ سُلَامٰى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ: ہر جوڑ کے بدلے میں ایک صدقہ ہے۔ جوڑ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے اسی کی برکت سے انسان کے اعضاء کام کرتے ہیں، لہٰذا اس نعمت کے شکرانہ کے طور پر روزانہ انسان کو اتنا ہی صدقہ کرنا چاہئے کہ اللہ ان جوڑوں کو صحیح و سالم رکھے۔

تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ: ”دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا بھی صدقہ ہے“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ صرف مال و دولت دینے کا نام نہیں بلکہ صلح کروا دینا یہ بھی مال خرچ کرنے کی طرح ہے۔

وَتُعِيْنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا: کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھا دینا یا اس کا سامان اٹھا کر رکھوانے میں مدد کرنا بھی صدقہ ہے۔ ابن بطالؒ فرماتے ہیں یہ تو دوسرے کے جانور میں مدد کرنے کا اجر ہے، اگر وہ اپنی ہی سواری پر سوار کر لے تو اس کا اجر تو اس سے بھی زیادہ ہوگا۔

وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ: ”اچھی بات کرنا صدقہ ہے“ یہی معنی میں قرآن کی یہ آیت بھی ہے ”قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَا اَذًى.

وَكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيْهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ: ہر وہ قدم جس سے چل کر آدمی نماز کی طرف جائے یہ بھی صدقہ ہے۔

دوسری روایت میں یہ وضاحت بھی آئی ہے۔

مَنْ تَطَهَّرَ فِيْ بَيْتِهِ ثُمَّ مَشٰى إِلٰى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللّٰهِ لِيَقْضِى فَرِيْضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللّٰهِ كَانَتْ خُطْوَتُهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالأُخْرٰى تَرْفَعُ دَرَجَةً.

وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ: اپنے نفس کو جہنم سے دور کر لیا یا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اعمال کرنا اپنے جوڑوں کے بقدر اپنے جسم کو جہنم کی آگ سے بچانا ہے

یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ آدمی کچھ بھی نہ کر سکے تو صرف چاشت کی نماز 360 جوڑوں کے بدلہ میں ہو جاتی ہے۔

تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب الصلح. (باب فضل الاصلاح بين الناس و العدل بينهم) وكتاب الجهاد (باب فضل من حمل متاع صاحبه في السفر) وصحيح مسلم كتاب الزكاة (باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف) واخرجه احمد ٨١٨٩/٣، و سنن ابن حبان ٣٣٨١، و البيهقي ١٨٧/٤ تا ۱۸۸ ومشكوة ايضاً.