نیکیوں کی اہمیت اور حسنِ اخلاق کی فضیلت

درس نمبر 180، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • نیکیوں کی تکریم کا نبوی حکم
  • چھوٹی نیکیوں کی قبولیت کا الہی نظام
  • مخلوقِ خدا پر شفقت کا روحانی اثر
  • خندہ پیشانی سے ملنے کا معاشرتی فائدہ
  • حسنِ اخلاق کی حدود و قیود
  • دشمن کے ساتھ بھی کشادہ دلی کا نبوی اسوہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

خندہ پیشانی سے اپنے بھائی سے ملنا بھی نیکی ہے

(121) ﴿عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئاً وَلَوْ اَنْ تَلْقٰى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلِيْقٍ﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ نیکی میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھ، اگرچہ تو اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت شگفتگی اختیار کرے۔“

مطلب یہ ہے کہ نیکی چاہے کچھ بھی ہو اس کو حقیر نہیں سمجھا جائے کیونکہ اللہ کے لیے ہے۔ تو جو چیز بھی اللہ کے لیے ہو وہ معمولی نہیں ہوتی، اور اللہ ہی اس کا اجر دیتا ہے۔

تشریح: نیکی میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھنا اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ آدمی کسی بھی نیکی کو خواہ وہ دیکھنے کے اعتبار سے چھوٹی کیوں نہ ہو اس کو کر لینا چاہئے ہو سکتا ہے اللہ کے دربار میں یہی چھوٹی نیکی قبول ہو جائے۔

یہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد صاحب تھے، بڑے صاحبِ کشف اور بہت باکمال ہستی تھے۔ تو ایک دفعہ وہ جا رہے تھے۔ تو راستہ بہت پگڈنڈی، مختصر، تنگ تھی۔ کیچڑ تھا، آگے پیچھے۔ تو اس پہ کتا بیٹھا ہوا تھا۔ اور یہ جمعے کی نماز کے لیے جا رہے تھے۔ کپڑے صاف پہنے ہوئے تھے، ظاہر ہے غسل بھی کیا ہوگا۔ تو ویسے ان کے دل میں آیا۔ کہ دیکھے، یہ کتا تو غیر مکلف ہے، اگر یہ میرے لیے راستہ چھوڑ دے تو اس کو تو کچھ بھی نہیں ہوگا، ظاہر ہے کہ ادھر ادھر اتر جائے۔ میرے کپڑے ناپاک ہو سکتے ہیں، پھر مجھے مسئلہ ہو جائے گا۔ یعنی صرف اپنے ساتھ اس نے خیال کیا۔ کتے نے ان کو دیکھا، اور کمیونیکیشن اللہ پاک نے قائم کر لی۔ تو کتا وہ ان کو کہہ رہا ہے، بے شک میں اتر جاؤں گا، میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں واقعی غیر مکلف ہوں۔ لیکن اگر میں اتر گیا نا، اور اس کی وجہ سے تو نے اپنے آپ کو مجھ سے بڑا سمجھا نا، تو اتنی گندگی تیرے دل میں آ جائے گی کہ پھر اس کو سات سمندر نہیں دھو سکیں گے۔ اس طرح تو آپ ان کپڑوں کو دھو کے پھر دوبارہ پاک صاف کر لیں گے، لیکن وہ تم صاف نہیں کر سکو گے۔ تو اس پر چھلانگ لگائی انہوں نے، اور مطلب یہ ہے کہ اس کو راستہ دے دیا کتے کو۔

پھر اس کے بعد الہام ہوا ان کو۔ کہ یہ جو علم میں نے آج تجھے دیا ہے، اس کے ذریعے دیا ہے، اس کی جنس سے دیا ہے، جس پر تو نے ایک دفعہ رحم کھایا تھا، اور وہ ٹھنڈ سے ٹھٹھر رہا تھا، تو تو نے اس کے اوپر بوریا ڈال دیا تھا کہ یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ تو اس کو آرام پہنچاتا ہوں، تو آج میں نے تجھے اتنا بڑا علم اس کی جنس سے دے دیا۔ اب وہ کام جو اس نے کیا تھا اس وقت، اللہ پاک نے قبول فرما لیا۔ اللہ پاک نے اس کے ذریعے سے اس کو یہ علم عطا فرمایا۔ تو مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

پھر آخر میں فرماتے ہیں کہ

اگرچہ اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔ مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خندہ پیشانی سے ملنا نیکی ہے کیونکہ اس سے مخاطب کو خوشی اور فرحت حاصل ہوتی ہے، اور مسلمانوں کے دلوں کو (جائز) طریقے سے خوش کرنا نیکی ہے۔

یہ میں نے قصداً یہ بات درمیان میں ڈالی ہے۔ کیونکہ میں جس زمانے میں ہوں، جس دور میں ہوں، اس میں ہر چیز سے وہ ادھر ادھر کی باتیں نکل سکتی ہیں، ٹیڑھی سوچ والے ٹیڑھی باتیں نکالا کرتے ہیں نا؟ تو مسلمانوں کا دل خوش کرنا، جائز طریقے سے بھی ہوتا ہے، ناجائز طریقے سے بھی ہوتا ہے۔ اب کسی غیر محرم کا دل خوش کرے تو وہ تو جائز نہیں ہوگا۔ اس کی ایسی خواہش جو کہ شریعت کے خلاف ہو، تو نقصان ہو جائے گا۔ کسی، مطلب ظاہر ہے کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا حق نہیں ہے اور آپ اس کو اس کا وہ دے دیں کہ اس کا دل خوش ہو جائے، کسی اور کا حق مار کے۔ تو یہ تو جائز نہیں ہوگا نا۔ تو وہ لوگ اس طرح کرتے ہیں، مثالیں دیتے ہیں اس طرح۔ یعنی اپنی ضرورت کے لیے اس قسم کی حدیثیں بھی بیان کرتے ہیں، لیکن آپ نے تو دیکھنا ہے کہ اللہ کا حکم کیا ہے۔

اس سے محبت پیدا ہوتی ہے جو مطلوب و محبوب عمل ہے۔ بعض محدثین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دشمن بھی ملاقات کے لئے آئے تب بھی اس سے خوشی سے ملاقات کی جائے جیسے کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھے ایک شخص کی برائی بیان فرما رہے تھے کچھ دیر کے بعد وہی آدمی حاضر ہو گیا تو آپ ﷺ اس سے بھی بہت ہی بشاشت کے ساتھ ملے۔

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب البر، (باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء)، واخرجه الترمذي مطولاً، والبغوى في المشكوة.

اس سے ہمیں پتہ چلا کہ مسلمان بھائی کے ساتھ، خندہ پیشانی، کے ساتھ ملنا اللہ تعالی کی رضا کے لیے بہت مفید عمل ہے، اس کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں ساری سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ کی رضا کے لیے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔