صدقہ کا وسیع مفہوم اور اس کی مختلف صورتیں
درس نمبر 179، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- صحابہ کرامؓ کا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ
- ذکر و اذکار (تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل) کا بطورِ صدقہ ثواب
- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے
- حلال طریقے سے فطری خواہش کی تکمیل پر اجر و ثواب
- حسنِ نیت کے باعث مباح (جائز) کاموں کا نیکی بن جانا
- ضرورت کے وقت علماء اور مفتیانِ کرام سے پوشیدہ شرعی مسائل پوچھنے کا جواز
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
تسبیح و تحمید بھی صدقہ ہے
(120) ﴿الرَّابِعُ عَنْهُ: أَنَّ نَاساً قَالُوا: يَارَسُولَ اللّٰهِ، ذَهَبَ اَهْلُ الدُّثُوْرِ بِالْاُجُوْرِ، يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّيْ، وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ، وَيَتَصَدَّقُوْنَ بِفُضُوْلِ اَمْوَالِهِمْ قَالَ: "اَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مَاتَصَدَّقُوْنَ بِهِ: اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةً، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِيْ بُضْعِ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ"، قَالُوا: يَارَسُولَ اللّٰهِ اَيَأْتِيْ اَحَدُنَا شَهْوَتَهُ، وَيَكُوْنُ لَهُ فِيْهَا اَجْرٌ؟! قَالَ: "اَرَاَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِيْ حَرَامٍ اَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذٰلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ اَجْرٌ"﴾ (رواہ مسلم)
ترجمہ: "حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چند لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مالدار لوگ اجر و ثواب کو لے گئے، وہ ہماری طرح نمازیں قائم کرتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے زائد اموال کو خیرات کرتے رہتے ہیں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے خیرات کے مقابلہ میں اس نعمت سے نہیں سرفراز کیا کہ تمہارا ”سبحان اللہ“ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا، ”الحمدللہ“ کہنا اور ”لا الہ الا اللہ“ کہنا صدقہ ہے اور امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا صدقہ ہے۔ اور تمہارا اپنی بیوی کی شرمگاہ کو آنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنی شہوت کی تکمیل کرتے ہیں اس پر بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ ذرا بتائیں اگر کوئی شخص حرام شرمگاہ کو آتا ہے تو کیا اسے گناہ نہیں ہوگا! اسی بناء پر جب کوئی شخص حلال شرمگاہ کو آئے تو اس کو اجر و ثواب بھی ہوگا۔
یعنی یہ دلیل دے دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ حرام کے ساتھ انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا ہے، تو نقصان ہوتا ہے۔ تو حلال کے ذریعے سے اللہ کا حکم پورا ہوتا ہے، یعنی اس نے اپنے آپ کو حرام سے بچایا، اور حلال کی طرف آ گیا، تو اس پر اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے۔
تشریح: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ: مالدار لوگ ہم فقراء سے آگے بڑھ گئے۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ تھا، اس لئے فقراء صحابہ نے یہ شکایت کی کہ مالدار باقی اعمال میں تو ہم سے برابر ہیں مگر اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں صدقہ کر کے ہم سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ان کو اس بات کی فکر تھی کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔
صدقہ صرف مالی نہیں، بدنی بھی ہو سکتا ہے اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً: ”ہر تسبیح صدقہ ہے“ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ”سبحان اللہ، الحمد للہ“ وغیرہ پر وہ ثواب ملتا ہے جو مال کے صدقہ کرنے میں ملتا ہے، اسی طرح سے اس حدیث میں ”سبحان اللہ، الحمد للہ“ وغیرہ کو صدقہ کرنے والے کی مثال دی گئی ہے۔
نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف مال کے خرچ کرنے کا نام نہیں کہ آدمی یہ کہے کہ میں صدقہ کیسے کروں میرے پاس تو مال ہی نہیں اس حدیث میں فرمایا گیا کہ ”تسبیح و تحمید“ بھی صدقہ ہے اسی وجہ سے ایک دوسری روایت میں آتا ہے ”کل معروف صدقۃ“ ہر نیکی صدقہ ہے، علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مباحات میں بھی نیت کرنے سے وہ بھی نیکی بن جاتی ہے۔
اَيَأْتِيْ اَحَدُنَا شَهْوَتَهُ؟: شرم گاہ سے اپنی ضرورت پوری کرے یہ بھی صدقہ ہے، اس سے معلوم ہوا جو کام بھی شریعت کے مطابق کیا جائے وہی نیکی بن جاتا ہے اگرچہ آدمی اپنی فطری ضرورت ہی کو پورا کرے یہ عمل بھی نیکی بن جاتا ہے جب کہ نیک صالح اولاد کی نیت ہو، پاک دامنی کی نیت ہو، ساتھ ساتھ اپنی نظری تفکرات کو حرام جگہ سے بچانے کی نیت ہو۔
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دین کی ایسی باتیں جس کو عموماً چھپایا جاتا ہے مگر ایسی بات کا بھی کسی عالم ومفتی سے ضرورت کے وقت میں سوال کرنا نہ مکروہ ہے اور نہ ادب کے خلاف ہے۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال کیا گیا نا، جو عام طور پر تو لوگ چھپاتے۔ تو یہ بھی وہ ہے۔ نہ ادب کے خلاف ہے اور نہ مکروہ ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے۔