انسانی جسم کے اعضاء پر صدقہ اور نمازِ چاشت کی فضیلت

درس نمبر 177، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • انسان کے ہر جوڑ اور کوکھلی ہڈی پر روزانہ صدقہ واجب ہونے کا بیان
  • سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنے کا صدقہ ہونا
  • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے) کی اہمیت
  • روزانہ کی ۳۶۰ صدقات کے بدلے نمازِ چاشت کی دو رکعات کی کفایت
  • نمازِ چاشت کا پچھلے تمام انبیاء (آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ) کا معمول ہونا
  • نمازِ چاشت کا وقت: اشراق کے بعد اور زوال سے پہلے تک کا عملی حساب

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

آدمی کے ہر عضو پر صدقہ ہے

(118) ﴿الثَّانِي: عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ أَيْضاً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَالِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى“﴾ (رواه مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے ہر ایک عضو پر صدقہ ہے، چنانچہ ”سبحان اللہ“ کہنا صدقہ ہے۔ ”الحمدللہ“ کہنا ”لا الہ الا اللہ“ کہنا ”اللہ اکبر“ کہنا تمام صدقات ہیں۔ ”اَمْرٌبِالْمَعْرُوْفِ وَنَهْیٌ عَنِ الْمُنْكَرِ“ صدقات ہیں اور ان تمام کے بدلے دو رکعات نماز چاشت کی کفایت کرجاتی ہے۔ سُلامَیٰ: ہر کھوکھلی، چھوٹی ہڈی جس طرح انگلیوں کی ہڈیاں۔ جسم کے عضو کو بھی کہتے ہیں

تشریح: چاشت کی نماز کی برکت يُصْبِحُ عَلٰى كُلِّ سَلَامٰى مِنْ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ: کہ آدمی کے ہر ایک عضو پر صدقہ واجب ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے، ”فِی الْاِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَّسِتُّوْنَ مَفْصِلاً“ کہ انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، تو روزانہ تین سو ساٹھ صدقہ کرنا چاہئے۔ کہ ان جوڑوں ہی کی برکت سے آدمی اٹھتا، بیٹھتا اور حرکت کرتا ہے، تو ہر ایک جوڑ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی شکر گزاری ہر ایک پر لازم ہے، اس کا شکر ادا کرنے کا آسان طریقہ بتایا گیا جو غریب سے غریب فرد بھی کرسکتا ہے وہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ وغیرہ پڑھنا ہے۔

چاشت کی نماز کی فضیلت وَيُجْزِئُ مِنْ ذَالِكَ رَكْعَتَانِ: ان تمام کے بدلے دو رکعت نماز چاشت کفایت کر جاتی ہے کیونکہ نماز میں جسم کے تمام ہی اعضاء مصروف ہو کر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ نماز چاشت دو سے بارہ رکعت تک پڑھی جاسکتی ہے۔ مگر اس میں آپ ﷺ کی عموماً عادت چار رکعت پڑھنے کی تھی، محمد ابن جریر رحمہ اللہ، طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاشت کی نماز کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیں وہ درجہ تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں۔

قاضی ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاشت کی نماز پچھلے انبیاء اور رسولوں کی نماز ہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ چاشت کی نماز حضرت داؤد علیہ السلام کثرت سے پڑھتے تھے۔ ابن نجار رحمہ اللہ نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے کہ چاشت کی نماز حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جو چاشت کی دو رکعت پر اہتمام کرے تو اس کے تمام گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہو معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الزكوة، (باب بيان ان اسم الصدقة يقع على نوع من المعروف)، ابوداؤد.

یہ تو ماشاءاللہ فضائل ہیں۔ تو اول تو یہ بات ہے کہ ہمیں "لا الہ الا اللہ"، "الحمد للہ"، "سبحان اللہ"، "اللہ اکبر" یہ صدقہ سمجھ کے ساتھ پڑھنے چاہئیں تاکہ یہ صدقہ ہوتے رہیں۔ دوسری بات ہے کہ چاشت کی نماز، یہ پڑھنی چاہیے۔ یہ اصل میں چاشت کی نماز، یہ یوں کہہ سکتے ہیں، اس کا جو ٹائم ہے وہ ایسا ہے کہ اشراق کی نماز کا ٹائم اتنا ہوتا ہے جتنا کہ عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے۔ اور چاشت کی نماز کا وقت اتنا ہوتا ہے جتنا کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوتا ہے۔ یہ دو باتیں معلوم ہو گئیں۔ اب جب دو باتیں معلوم ہو گئیں، تو سورج جب طلوع ہو جاتا ہے تو جتنا عصر کا وقت ہے اس کے اندر اندر اگر پڑھے گا نماز تو اشراق کی نماز ادا ہو جائے گی۔ اور اگر اس کے بعد یعنی اس وقت کے گزرنے کے بعد، جتنا ظہر کی نماز کا وقت ہے اتنے میں اگر کوئی پڑھے گا تو یہ چاشت کی نماز کہلائے گی، یعنی زوال تک پڑھی جا سکتی ہے۔ کیونکہ زوال کے بعد ظہر کی نماز ادا ہوتی ہے، تو زوال تک چاشت کی نماز یعنی ادا کی جا سکتی ہے۔

کم از کم آج چونکہ اس کی فضیلت سنی ہے، تو آج ضرور پڑھ لیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کبھی کوئی کسی چیز کی فضیلت سن لے اور پھر اس پر عمل کرے اسی وقت، یعنی جب ہو سکتا ہو عمل، تو اس وقت اس عمل کا نور نصیب ہو جاتا ہے۔ تو چاشت کے عمل کا نور اگر نصیب ہو جائے تو کتنی بڑی بات ہے۔ اس کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے، اور پھر اس کے بعد چاشت کی نماز پڑھ لیں تو ان شاءاللہ بہت فائدہ ہو گا۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

انسانی جسم کے اعضاء پر صدقہ اور نمازِ چاشت کی فضیلت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور