افضل اعمال کی ترتیب اور حقوق العباد کی اہمیت

درس نمبر 176، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سب سے افضل عمل: اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد
  • غلام آزاد کرنے کے درجات اور محبوب چیز خرچ کرنے کی فضیلت
  • ضرورت مند، فقیر اور کام کرنے والے کی مدد کی اہمیت
  • بے ہنر اور کمزور شخص کے کام میں مدد کا ثواب
  • اپنے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا بھی ایک صدقہ ہے
  • حقوق العباد کی ادائیگی اور دوسروں کو تکلیف سے بچانے کی ترغیب

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

افضل اعمال کی ترتیب

(117) ﴿الأَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”الْإِيْمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِهِ“ قُلْتُ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَ أَ كْثَرُهَا ثَمَنًا“، قُلْتُ: فَإِنْ لَّمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِيْنُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ“، قُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ العَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ“﴾ (متفق عليه)

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا خدا پر ایمان رکھنا۔ اور اس کے راستہ میں جہاد کرنا۔ میں نے عرض کیا کونسا غلام آزاد کرنا بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو گھر والوں کو زیادہ پیارا ہو اور جس کی قیمت بھی زیادہ ہو، میں نے عرض کیا اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کام کرنے والے (فقیر عیالدار) کی مدد کرے۔

کام کرنے والے، فقیر، عیال دار، دیکھو تین باتیں اس میں کیا کچھ بتا دیا۔ یعنی محض سوال کرنے والے نہیں، عیال دار ہے اس کو واقعی ضرورت ہے، فقیر ہے کچھ مال نہیں اس کے پاس لیکن کام کرتا ہے۔

ترجمہ: یا جو دوست کام نہ کر سکے اس کا کام کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ آپ بتائیں اگر میں ان سے بعض عمل کرنے سے کمزور رہوں آپ ﷺ نے فرمایا تو لوگوں سے اپنی شرارت روک لے یہ کام بھی تیرے نفس پر تیری طرف سے صدقہ ہے۔“

دیکھیں، نفس جب کوئی شر کی طرف جاتا ہے آپ جب اسے روکیں تو یہ مجاہدہ ہے اور یہ مجاہدہ چونکہ اللہ کی رضا کے لیے ہے اس پر اجر ہے، ثواب ہے۔ لہذا اپنے شر سے لوگوں کو روکنا، یہ ماشاءاللہ اس پر اجر ہے۔

ایک دفعہ ہم گاڑی میں جا رہے تھے تو ہمارے ایک ساتھی تھے اس نے بہت خوبصورت عطر لگایا ہوا تھا، میں نے اس کی تعریف کی میں نے کہا بڑا اچھا عطر لگایا ہے۔ تو فرمایا میں اپنی بدبو سے اپنے ساتھیوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ دیکھو کتنی اچھی بات کر لی، میں اپنی بدبو سے اپنے ساتھیوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ اب دیکھیں اگر اس سے بدبو آ رہی تو اس وقت تو معذور تھے اس وقت، لیکن چونکہ اس کو پتہ ہے کہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہو گی تو اس نے عطر لگایا، کس لیے لگایا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو، ماشاءاللہ ایک عمل ہو گیا۔

جیسے آپ راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دیں، اس پر اجر ہے۔ تو اس طریقے سے کسی کو اپنے شر سے بچانا، کسی کو اپنے سے ہونے والی تکلیف سے بچانا، یہ بھی صدقہ ہے۔

فرمایا:

تشریح: اَیُّ الاَعْمَالِ اَفْضَلُ: یعنی جس کا ثواب سب سے زیادہ ہو۔ ”اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰهِ“ اللہ پر ایمان رکھنا ہی تمام اعمال کی جڑ اور بنیاد ہے، اس کے بغیر تو کوئی بھی خیر معتبر نہیں ہوتی۔

وَالْجِهَادُ فِیْ سَبِیْلِهِ: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ ”اَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ اَنْفَسُهَا عِنْدَ اَهْلِهَا“ گھر والوں کو زیادہ محبوب ہو، جیسے کہ قرآن میں آتا ہے ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ“ کہ تم نیکی کے کامل درجہ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ایسی چیز خرچ نہ کرو جو تم کو محبوب ہے۔ ”وَاَكْثَرُهَا ئَمَنًا“ اس کی قیمت زیادہ ہو، یعنی وہ ایسا غلام ہو جو بہت زیادہ سمجھ دار اور زیادہ نفع والا ہو۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام آزاد کرنے میں اور قربانی کے جانور میں فرق ہوگا کہ اگر ایک ہزار روپے کے ایک طرف دو غلام ملتے ہو تو دوسری طرف ایک ہی قیمتی غلام ملتا ہے تو اب یہاں پر دو غلام کو آزاد کرنا افضل ہوگا بنسبت ایک قیمتی غلام کے۔ اور قربانی کے جانور میں ایک ہزار کے دو جانور کے بنسبت ایک موٹا تازہ جانور جو ایک ہزار کا ایک ہی ہو وہ زیادہ افضل ہوگا۔ کیونکہ قربانی میں جانور کا موٹا تازہ ہونا زیادہ افضل ہے۔ ۔ سبحان اللہ، بڑی عجیب لطیف بات نکالی ہے ۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ نفع والا عدد کے زیادہ ہونے سے زیادہ افضل ہے۔ اَوْ تَصْنَعُ لَاَ خْرَقَ: بے ہنر کا کام کردو۔ ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر ہنرمند کا کام میں مدد کرنا یہ ہنر والے کے کام میں مدد کرنے سے افضل ہے۔ کیونکہ جس کو وہ ہنر آتا ہی نہیں اور وہ کام بھی اس کے ذمہ ہے تو وہ کام کیسے ہوگا اور جس کو وہ ہنر آتا ہے تو آج نہیں کل وہ اپنا کام مکمل کرلے گا۔

تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب العتق، (باب ائ الرقاب افضل؟) و صحيح مسلم كتاب الايمان، (باب بيان كون الايمان بالله افضل الاعمال)، اخرجه احمد ۲۱۳۸۹/۸، نسائى ۳۱۲۹، ابن ماجة، سنن دارمی ۳۰۷/۲، ابن حبان ۱۵۲، مصنف عبدالرزاق ۲۰۲۸۹، والبيهقى ۲۷۳/۲۔

اللہ پاک ہم سب کو ایسی پیاری پیاری باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

افضل اعمال کی ترتیب اور حقوق العباد کی اہمیت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور