عبادات اور غیر اختیاری تکالیف پر اللہ کے ہاں اجرِ عظیم
درس نمبر 175، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- ہر نیک اور بد عمل کا فائدہ یا نقصان انسان کے اپنے لیے ہے
- نیک اعمال پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی گنا اضافے کی بشارت
- نیکی کرنے کے بعد دنیاوی نقصان پر شکایت کرنے کی ممانعت
- اختیاری مجاہدات: شریعت کے احکامات (نماز، روزہ، حقوق) کی پابندی
- غیر اختیاری مجاہدات: بیماری، نقصان اور تکالیف پر زیادہ اجر کا ملنا
- مصیبت پر ﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ﴾ پڑھنے والوں کے لیے رحمت و ہدایت کی نوید
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
وَقَالَ تَعَالٰى: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ﴾ (الجاثیۃ: 15)
ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے، ”جو کوئی نیک عمل کرے گا تو وہ اپنے لئے کریگا۔“
تشریح: اس آیت میں ایمان والوں کو ترغیب دی جارہی ہے، کہ جتنے نیک اعمال بھی تم کرو گے اس کا پورا بدلہ تم کو ہی ملے گا، تمہارے نیک اعمال سے اللہ جل شانہ کی ملکیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اگر تم کوئی گناہ کرو تو اس سے بھی اللہ جل شانہ کی ملکیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو کچھ بھی تم کرو گے تم اپنے ہی فائدہ اور نقصان کے لئے کرو گے اس لئے سمجھ داری یہ ہے کہ خوب نیک اعمال کئے جائیں تا کہ اس کا بدلہ خوب ملے، بدلہ دینے میں اللہ کوئی کمی بھی نہیں فرماتے۔ ایک کا بدلہ دس کے ساتھ اور پھر ”وَاللّٰهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ“ (۱) جس کے لئے اللہ جتنا چاہئے بڑھا دیتے ہیں۔
”وَالْاٰيَاتُ فِى الْبَابِ كَثِيْرَةٌ“ اس باب میں بہت سی آیات ہیں۔ ”وَاَمَّا الْاَحَادِيْثُ فَكَثِيْرَةٌ جِدّاً وَّهِيَ غَيْرُ مُنْحَصِرَةٍ فَنَذْكُرُ طَرَفاً مِّنْهَا“ اور جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو وہ بھی بہت سی ہیں جس کا شمار ہی نہیں، ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر کریں گے۔
اللہ اکبر۔ ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس وقت ہم کوئی نیک عمل کرتے ہیں مثلاً نماز پڑھتے ہیں، اللہ تعالی نصیب فرماتے رہیں، تو بعض دفعہ بعض لوگ جب دنیا کا کوئی نقصان ان کو ہو جاتا ہے تو ایک قسم کی شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم تو نماز پڑھنے والے ہیں ہمیں دنیا کا نقصان کیوں ہوا؟ کیوں ہوا؟ اور بعض لوگ زبان سے کہہ بھی دیتے ہیں۔ انتہائی بے وقوفی کی بات ہے۔
دیکھیں اللہ جل شانہ نے یہاں پر دو قسم کے مجاہدے رکھے ہیں۔ ایک مجاہدہ اختیاری ہے۔ یعنی شریعت نے کسی چیز کے بارے میں حکم فرمایا آپ اس کو کریں چاہے مشکل بھی ہو۔ مثلاً نماز کے لیے صبح کے وقت اٹھنا بڑا مشکل ہوگا لیکن آپ کو پڑھنی ہوگی۔ تو یہ ایک مجاہدہ ہے۔ روزے رکھنے پڑیں گے، زکوۃ دینی پڑے گی، حج کرنا پڑے گا، معاملات صاف رکھنے پڑیں گے، لوگوں کے حقوق پورے کرنے پڑیں گے، یہ سب مجاہدے ہیں۔ تو ایک تو مجاہدہ وہ ہے جو اختیاری ہے۔
ایک مجاہدہ وہ ہے جو غیر اختیاری ہے۔ تو ایسی صورت میں کبھی تکلیف ہو سکتی ہے، کبھی بیماری آ سکتی ہے، کبھی نقصان ہو سکتا ہے مال کا کبھی جان کا، کبھی نفسیاتی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ تو اب یہ ساری باتیں غیر اختیاری مجاہدات ہیں۔ تو غیر اختیاری مجاہدات پر بھی اجر ملتا ہے۔ بلکہ اختیاری مجاہدات سے زیادہ اجر ملتا ہے۔
اب اگر اللہ پاک نے کسی کے لیے غیر اختیاری مجاہدہ خود مقرر فرمایا ہے تو اس کو دینا چاہتا ہے۔ اللہ کا تو اس سے کچھ بھی نہیں مطلب ہوتا۔ یعنی اللہ پاک کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہے اگر آپ بیمار ہو یا اگر آپ کو تکلیف ہو تو اللہ کو تو اس سے کوئی خوشی نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ آپ کو دینے کے لیے۔ ﴿اَلَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ أُولٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ﴾۔ مطلب یہ کہ اگر کسی مصیبت زدہ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو ظاہر ہے اگر اچھا آدمی ہو تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ ﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ﴾۔
پھر اللہ پاک اس کے بدلے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اوپر رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو کہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اب اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ پاک اس میدان پر لے جانا چاہتے ہیں۔ یعنی جو غیر اختیاری مجاہدات کے ذریعے سے کمانا ہوتا ہے۔
تو اگر آپ کو اللہ پاک نے کوئی ایسی حالت دی ہے تو بجائے اس پر چیں بجبیں ہونے کے، ایک تو اس پر خوش ہو جاؤ کہ اللہ پاک مجھے کچھ دینا چاہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ عافیت کے لیے دعا کرو۔ دعا سے تو کسی نے نہیں روکا۔ تو دعا کا الٹا اجر مزید ہوگا۔ دعا کا بھی اجر ہوگا اور اس مصیبت کا بھی اجر ہوگا۔
لہذا بجائے اس کے کہ اس پر انسان پریشان ہو کر ادھر ادھر کے غلط خیالات دل میں لائے، تو اس کو سمجھ جانا چاہیے کہ اللہ پاک نے دینے کے لیے نظام بنایا ہوا ہے۔
اس وجہ سے بعض لوگوں کو جو تکلیفیں ملیں گی، ان کو جو آخرت میں اس کا اجر ملے گا، تو بعض لوگ جن کو وہ چیزیں نہیں پڑی ہوں گی، ان کے سامنے نہیں آئی ہوں گی، تو وہ کہیں گے کاش ہماری جلد قینچیوں سے کاٹی جاتی لیکن آج ہمیں یہ اجر مل جاتے۔ تو ہمیں اللہ تعالی پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ کی طرف سے جو بھی آتا ہے اس میں حکمت ہوتی ہے۔ اور اس وجہ سے اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ یہی ہمارے لیے سب سے بڑی فائدے کی چیز ہے۔