نیکی کے راستوں کی کثرت اور ایمان کی اہمیت
درس نمبر 174، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- ہر بھلائی اللہ کے علم میں ہے
- نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان کی شرط
- کافر کی نیکی اور اس کا دنیاوی بدلہ
- ادنیٰ درجے کے ایمان پر بھی نجات کی بشارت
- ایمان کی حفاظت اور دورِ حاضر کے خطرات
- موبائل ایپس (پب جی وغیرہ) کے ایمان پر منفی اثرات
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
(13) بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے میں
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﴿وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ﴾ (بقرۃ: 215) ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔“ پھر اس کا بدلہ پورا پورا دے گا کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ سے مخفی ہو۔ وَقَالَ، تَعَالٰى: ﴿وَمَاتَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ﴾ (البقرۃ: 197) ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے، ”تم جو بھلائی بھی کرتے ہو اللہ جل شانہ اسے جانتا ہے۔“ وَقَالَ تَعَالٰى: ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَّرَهٗ﴾ (الزلزلۃ: 7) ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔“ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَّرَهٗ: کہ کوئی معمولی سی بھی نیکی کرتا ہے اللہ جل شانہ اس کو جانتے ہیں اور قیامت کے دن انسان اس کے اجر کو دیکھ لے گا۔
خَیْرًا: اس سے مراد وہ خیر ہے جو شرعاً معتبر ہو، نیکی ایمان کے بغیر معتبر نہیں کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل نیک نہیں یعنی آخرت میں اس کا بدلہ نہیں ہوگا، کافر کو اللہ جل شانہ اس کی نیکی کا دنیا میں ہی بدلہ عطاء فرمادیتے ہیں، اس آیت سے بعض علماء نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ بالآخر جنت میں ضرور داخل ہوگا کیونکہ صرف ایمان یہ صرف نیکی نہیں بلکہ بہت بڑی نیکی ہے اس لئے وہ اگر ہمیشہ جہنم میں رہے تو اس نیکی کا بدلہ کہاں دیکھے گا اس لئے اس کو جہنم سے نکالا جائے گا اور جب ایک مرتبہ جنت میں داخل ہوگا تو پھر وہاں سے نہیں نکالا جائے گا۔
سبحان اللہ۔
بہت بڑی علمی بات ماشاءاللہ۔ اس میں ہے کہ چونکہ جو نیکی ہے اس کی تو اللہ پاک جزا دے گا اور کافر کو جزا ملنی نہیں ہے مطلب یہ کہ وہ تو، تو جو اہل ایمان ہوگا وہ بالآخر جنت ہی میں جائے گا کیونکہ اس کو اس، نیکی ملنی تو ہے نا، اس کا اجر تو ملنا ہے۔
تو اللہ جل شانہ ہم سب کو ہمیشہ کے لیے اہل ایمان میں سے کر دے۔ اور کسی طریقے سے ایمان ہمارا ضائع نہ ہو، آج کل دورِ فتن ہے، خطرہ ہے، کسی وقت بھی ایمان ضائع ہو سکتا ہے۔ لہذا ایسی چیزوں سے بچنا چاہیے، ایسے ماحولوں سے بچنا چاہیے۔ ایسی کتابوں سے، ایسے معمولات سے، ایسے، موبائل پر جو ایسی چیزیں Apps وغیرہ ہیں، ان سے بچنا چاہیے جن سے ایمان کو خطرہ ہو۔ بے شک، یہ PUBG وغیرہ اس قسم کی چیزیں ہیں، یہ بہت خطرناک ہیں ان سے وہ ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہیے آج کل کے دور میں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔