احکاماتِ الٰہی کا نزول اور امت کی رہنمائی

درس نمبر 172، جلد 1، باب 12: آخری عمر میں نیک کاموں کے زیادہ کرنے کی ترغیب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث: آخری ایام میں مسلسل وحی
  • وفود کی کثرت اور نئے مسائل کے تقاضے
  • اللہ جل شانہ کا بڑھتا ہوا قرب اور وحی کی کثرت
  • قیامت تک کے لیے جامع احکامات کا نزول
  • حالات کے مطابق شانِ نزول کی اہمیت
  • وراثت کے احکام: یتیم بچیوں کا واقعہ اور قانون کا نفاذ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وفات سے قبل وحی کی کثرت۔

(115) اَلرَّابِعُ: عَنْ اَنَسٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبَيْلَ وَفَاتِهٖ، حَتّٰى تُوُفِّيَ اَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ. (متفق عليه)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ عز و جل نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی وفات سے پہلے مسلسل وحی نازل فرمائی، یہاں تک کہ آپ کا انتقال ایسی حالت میں ہوا کہ پہلے کی بنسبت وحی زیادہ نازل ہوتی تھی۔

یعنی:

حاشیہ: اَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ: آخری ایام میں پہلے کی بنسبت زیادہ وحی آپ ﷺ پر نازل ہوتی تھی۔ بعض علماء نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ آخری ایام میں وفود کی کثرت ہوئی اور کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو ان لوگوں کے کثرت سوال کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی طرف سے زیادہ احکامات نازل ہوئے۔ یا آخری ایام میں اللہ جل شانہ کا قرب زیادہ حاصل ہوا اس کی وجہ سے وحی میں کثرت ہوئی۔ یا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا اور آخرت کے تمام امور نازل کر دئیے گئے تا کہ بعد والوں کے لئے رہنمائی ملتی رہے۔

تخریج حدیث: اخرجہ صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن (باب کیفیۃ النزول، واوّل ما نزل)، صحیح مسلم اوائل کتاب التفسیر، واخرجہ احمد ۱۳٤۷۹/٤، وابن حبان ٤٤ مع اختلاف یسیر.

تو اصل میں بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وفات سے قبل، یعنی جو آخری ایام تھے، اس میں وحی زیادہ ہوتی رہی۔ اور اس کی وجہ بظاہر یہ لگتی ہے کہ چونکہ ضرورت زیادہ پڑ رہی تھی، نئے نئے حالات پیدا ہو رہے تھے، لوگ آ رہے تھے، ان کے نئے نئے تقاضے تھے، اور سوالات تھے، تو اس کے مطابق۔۔۔ کیونکہ شانِ نزول کا بہت بڑا یعنی دخل ہے قرآن پاک کے نزول میں اور وحی کے نزول میں، بہت زیادہ۔ کیونکہ جس وقت جو حالات پیش آتے تھے، اس قسم کے احکامات وہ نازل ہو جاتے تھے۔ جیسے مثال کے طور پر میراث والا واقعہ ہے، کہ وہ ایک عورت آئی اور اپنے ساتھ دو بچیوں کو لے آئی۔ یا رسول اللہ! یہ بچیاں اس صحابی کی ہیں جو شہید ہو چکا ہے آپ کے ساتھ غزوہ میں۔ تو اب ان کے چچا نے اس پر، ان کے پورے مال پہ قبضہ کر لیا ہے، اور واللہ ان کے ساتھ کوئی شادی نہیں کرے گا جب تک ان کے پاس مال نہیں ہوگا۔

یہ اس نے اپنی فریاد پیش کی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ آپ اندازہ کر لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی تکلیف ہو چکی ہوگی۔ لیکن وحی کے بغیر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات نہیں کرتے تھے، اور وحی ابھی نازل نہیں ہوئی تھی اس کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اور چلی گئی۔ اس کے بعد وحی نازل ہوئی۔

تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو فرمایا کہ جاؤ اور ان کا جو مال ہے، ان کے والد کا، اس کا دو بٹا تین ان بچیوں کو دو، کیونکہ دو بچیاں تھیں۔ ان کو دو۔ اور جو آٹھواں حصہ ہے، وہ ان کی والدہ کو دو، اور باقی ان کے چچا کو کہہ دو تمہارا ہے۔ تو یہ پہلا قانون نافذ ہوا میراث کا۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جب ضرورت پڑتی تھی تو اس کے مطابق وحی نازل ہوتی تھی۔ تب جب ضرورت زیادہ پڑنے لگی، تو وحی بھی زیادہ نازل ہونے لگی۔ یہ تو ایک وجہ بتائی گئی ہے۔

باقی وجوہات بھی ہیں۔ یعنی کہ دنیا و آخرت کے بہت سارے چونکہ آخرت، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو کوئی نبی آنا نہیں ہے۔ تو قیامت تک کے جو حالات تھے، اس کے مطابق وہ اللہ جل شانہ احکام نازل فرما رہے تھے۔ تو یہ بھی ایک وجہ تھی۔ اور، دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہوا۔ اس کی وجہ سے وحی میں کثرت ہوئی۔ بہرحال، اللہ کو پتا ہے کہ اصل وجہ کیا ہے، لیکن یہ ہے کہ آخر وقت میں وحی زیادہ نازل ہوتی تھی۔

احکاماتِ الٰہی کا نزول اور امت کی رہنمائی - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور