قرآنِ مجید: صراطِ مستقیم، سرچشمۂ رحمت اور اتمامِ حجت

درس نمبر: 272، سورۃ الانعام، آیات: 153 تا 157

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

صراطِ مستقیم کی پیروی اور گمراہی کے راستوں سے بچاؤ

سابقہ کتبِ سماوی کا مقصد: تکمیلِ نعمت اور رہنمائی

قرآنِ کریم: با برکت کتاب اور حصولِ رحمت کا ذریعہ

نزولِ قرآن اور انسانیت پر اتمامِ حجت

آیاتِ الٰہی سے روگردانی کا عبرتناک انجام اور کامیابی کی راہ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (153) ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ (154)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور (اے پیغمبر! ان سے) یہ بھی کہو کہ: ”یہ میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا اس کے پیچھے چلو، اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کردیں گے۔“ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تم متقی بنو ﴿153﴾ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ نیک لوگوں پر اللہ کی نعمت پوری ہو، اور ہر چیز کی تفصیل بیان کر دی جائے، اور وہ (لوگوں کے لئے) رہنمائی اور رحمت کا سبب بنے، تاکہ وہ (آخرت میں) اپنے پروردگار سے ملنے پر ایمان لے آئیں ﴿154﴾

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۙ (155) اَنْ تَقُوْلُـوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىٕفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَ ۙ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ (157)

ترجمہ: اور (اسی طرح) یہ برکت والی کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ لہٰذا اس کی پیروی کرو، اور تقویٰ اختیار کرو، تاکہ تم پر رحمت ہو ﴿155﴾ (یہ کتاب ہم نے اس لئے نازل کی کہ) کبھی تم یہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ) پر نازل کی گئی تھی، اور جو کچھ وہ پڑھتے پڑھاتے تھے، ہم تو اُس سے بالکل بے خبر تھے ﴿156﴾ یا یہ کہو کہ اگر ہم لوگوں پر کتاب نازل ہوجاتی تو ہم ان (یہودیوں اور عیسائیوں) سے یقیناً زیادہ ہدایت پر ہوتے۔ لو! پھر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت و رحمت کا سامان آگیا ہے! اب اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور اُن سے منہ موڑ لے؟ جولوگ ہماری آیتوں سے منہ موڑ رہے ہیں، اُن کو ہم بہت بُرا عذاب دیں گے، کیونکہ وہ برابر منہ موڑے ہی رہے ﴿157﴾

جو یہود اور نصاریٰ تھے ان پر کتابیں تو نازل ہو گئی تھیں اور ان کو بھی اس میں ہدایت یعنی مل سکتی تھی اگر وہ اس سے ہدایت لینا چاہتے، اور ان پر بھی رحمت ہو سکتی تھی اگر وہ اس رحمت کو حاصل کرنا چاہتے، لیکن چونکہ انہوں نے اپنی کتابوں سے منہ موڑا اور ہدایت حاصل نہیں کی لہٰذا محروم رہے۔ اب یہ ہے کہ جن حضرات، جن مطلب، جو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے جو یہود و نصاریٰ نہیں تھے تو ان کو یہ بات ہو سکتی تھی، ذہن میں آ سکتی تھی کہ اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم اس پر عمل کرتے۔ اور مطلب جو یہود و نصاریٰ پہ ہیں ان سے تو ہم بے خبر تھے۔ تو اللہ جل شانہ فرما رہے ہیں کہ تمہارے اوپر بھی حجت تمام ہو گئی ہے۔ اب تمہارے لیے بھی کتاب نازل کی گئی ہے جس میں تمہارے لیے ہدایت ہے اور اگر اس پر عمل کرتے ہو تو تمہارے لیے رحمت ہے۔ تو لیکن یہ ہے کہ اب، یعنی، کوئی انکار نہیں کر سکتا تو جو انکار کر رہے ہیں تو ظاہر ہے وہ نقصان میں جا رہے ہیں۔ اور اگر اس کتاب پر کوئی عمل کر لے اور آخرت کے دن پر یقین کر لے کہ اللہ کے ساتھ ملنا ہے تو اللہ جل شانہ اس پر رحمت فرمائے گا، ان کو وہاں پر کامیاب فرمائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہاں پر خسارے میں رہیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو رسول اللہ اور کتاب اللہ، دونوں کے تعلیمات، دونوں کی تعلیمات پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔