حجتِ بالغہ، انسانی اختیار اور احکامِ شریعت کی پابندی

درس نمبر: 270، سورۃ الانعام، آیات: 149 تا 150

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اللہ کی حجتِ بالغہ اور ہدایت میں عدمِ جبر

قوانینِ فطرت اور انسان کا محدود دائرۂ عمل

بے اختیار کائنات اور بااختیار انسان کا امتحان

حلال و حرام کے حدود اور خواہشاتِ نفس سے اجتناب

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ (149) قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ (150)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”ایسی دلیل تو اللہ ہی کی ہے جو (دلوں تک) پہنچنے والی ہو۔ چنانچہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (زبردستی) ہدایت پر لے آتا۔ ﴿149﴾

حاشیہ: یعنی تم تو فرضی دلائل پیش کر رہے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیج کر اپنی حجت پوری کر دی ہے، اور ان کے بیان کئے ہوئے دلائل دلوں میں اُترنے والے ہیں۔ اُن کی تصدیق اس حقیقت نے بھی کر دی ہے کہ جن لوگوں نے انہیں جھٹلایا، وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے شکار ہوئے۔ لہٰذا یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو زبردستی ہدایت پر لے آتا، لیکن اس سے تمہاری یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی کہ تم اپنے اختیار سے پیغمبروں کے ناقابل انکار دلائل کو قبول کر کے ایمان لاؤ۔

ترجمہ: ان سے کہو کہ: ”اپنے وہ گواہ ذرا سامنے لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے“۔ پھر اگر یہ خود گواہی دے بھی دیں تو تم اُن کے ساتھ گواہی میں شریک نہ ہونا، اور اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر مانتے ہیں ﴿150﴾

بہرحال یہ جو بات ابھی فرمائی جا رہی ہے۔ بنیادی بات تو یہ ہے کہ جیسے بار بار یہ آتا ہے قرآن پاک میں کہ اللہ پاک زبردستی نہیں کرتا۔ اللہ جل شانہ نشانیاں بتاتا ہے۔ اللہ جل شانہ راستہ بتاتا ہے۔ اللہ جل شانہ سمجھاتا ہے۔ پیغمبروں کے ذریعے سے اور کتاب کے ذریعے سے۔ لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اللہ جل شانہ زبردستی کسی کو، کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک کا یہ قانون نہیں ہے اگر قانون ہوتا تو سب کو پہلے سے کر لیتا اور کوئی بھی اس اللہ پاک کے حکم سے ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ اگر اللہ چاہتا۔ تو جب اللہ پاک نے اس یہ نظام بنایا تو اس نظام کے مطابق چلنا چاہیے۔ جیسے مثال کے طور پر قوانین بھی اللہ پاک نے بنائے ہیں کہ آگ وہ جلاتی ہے اور پانی سے پیاس بجھتی ہے۔ اور چیزیں صاف ہوتی ہیں۔ اور اس طریقے سے زہر کھانے سے انسان مرتا ہے یا بیمار ہوتا ہے۔ اب یہ ساری چیزیں جو ہیں نا اللہ پاک کے قوانین ہیں۔ یعنی اس میں یہ تو نہیں ہے کہ ہم لوگوں نے کوئی اس میں قوانین بنائے، نہیں، قوانین تو اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں ہم صرف ان قوانین کے مطابق ان کو استعمال کر سکتے ہیں۔ سائنس بھی یہ تو نہیں کہتا کہ مطلب میں نے یہ چیزیں بنائی ہیں، ہاں البتہ سائنس ان چیزوں کو discovery کے بعد، تجربات اور مشاہدات کے بعد ان سے کام لینے کے طریقے سوچ سمجھ کر اور وہ وہ کر کے ان کو استعمال کرتے ہیں، اصل چیز تو ان کوئی بھی چیز انسان نے نہیں بنائی، سب اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ اب دیکھو ایک ذرہ ہے نا ایک ذرہ زمین کا۔ ذرہ، وہ بھی کوئی نہیں بنا سکتا۔ بنا ہوگا اس کو استعمال کیا جا سکے گا۔ جب بنا ہوگا، مثال کے طور پر اب جس material سے بنا ہے وہ material اللہ نے بنایا ہوگا۔ تو material تو خود نہیں بنا سکتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو ساری چیزیں ہیں یہ تو اللہ پاک نے بنائی ہیں، اس میں تو اللہ پاک کا جیسے قانون جاری و ساری ہے اسی طریقے سے اللہ پاک کا یہ قانون بھی جاری و ساری ہے کہ اللہ تعالیٰ زبردستی کسی کو مطلب ایمان پہ نہیں لاتا ہاں البتہ یہ ہے کہ جو محنت کرتا ہے، کوشش کرتا ہے اللہ اس میں مدد فرماتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنی ذمہ داری پوری کرو۔ اور وہ یہ ہے کہ ان تمام نشانیوں کو دیکھو اور اس سے سبق حاصل کر لو۔ اور اس سے معلوم کر لو کہ کیا ہو رہا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں جب اللہ کی مرضی کے مطابق ہو رہی ہیں۔ تو ان کو تو اختیار نہیں دیا گیا یعنی دنیا کی یعنی تکوینی طور پر کسی چیز کو اختیار نہیں ہے۔ ہوا کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے چلے۔ پانی کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے چلے۔ اس طرح۔ کسی بھی چیز کو اختیار نہیں ہے یہ چیزیں کیا ہیں یہ بے اختیار ہیں۔ تو لہٰذا اللہ پاک اس کو جیسے استعمال کرنا چاہتا ہے یہ تو استعمال کر لے۔ تمہیں اختیار دیا گیا ہے۔ تم ان چیزوں سے سبق حاصل کر لو جو بے اختیار ہیں، اس سے دیکھو کہ کس کا اختیار اس پر چلتا ہے۔ اسی کے اختیار جو ہے وہ تم یعنی اختیاری طور پر استعمال کر لو، یعنی شریعت کو۔ اور شریعت پر عمل کر لو، جو اللہ پاک نے فرمایا ان کو مانو اور جن کو حرام قرار دیا ہے ان کو حرام مانو جن کو حلال قرار دیا ہے ان کو حلال مانو، حلال کو حرام نہ کہو، حرام کو حلال نہ کہو۔ جو چیز اللہ پاک نے جیسے بتائی ہے جیسے رکھی ہے جس طریقے سے برتنے کے لیے فرمایا ہے۔ اس پہ عمل کر لو اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔