دین میں خود ساختہ نظریات، دنیا کا فریب اور آخرت کی حقیقت

درس نمبر: 269، سورۃ الانعام، آیات: 144 تا 148

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

دنیاوی مقاصد کے لیے تحریف کرنا اللہ پر جھوٹ ہے۔

سرکشی کے سبب یہودیوں پر بعض حلال چیزیں حرام ہوئیں۔

دنیاوی خوشحالی اللہ کے پسندیدہ ہونے کی دلیل نہیں۔

قیامت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی محض تین منٹ ہے۔

اللہ نے انسان کو امتحان کے لیے اختیار دیا ہے۔

شرعی قانون سے کوئی مستثنیٰ نہیں، آسانیوں پر شکر کریں

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ ؕ قُلْ ءٰٓ الذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (144)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ.

ترجمہ: اور اسی طرح اُونٹوں کی بھی دو صنفیں (نر اور مادہ اللہ نے) پیدا کی ہیں، اور گائے کی بھی دو صنفیں۔ ان سے کہو کہ: ”کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے، یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اُس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟ کیا تم اُس وقت خود حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ (اگر نہیں، اور یقیناً نہیں) تو پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر اس لئے جھوٹ باندھے تاکہ کسی علمی بنیاد کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرسکے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔“ ﴿144﴾

یہ اصل میں بہت general بات ہے، اگرچہ اس مسئلے کے لیے کی گئی تھی لیکن اس میں سے ایک بہت general بات نکلتی ہے کہ جب بھی انسان اپنے کسی دنیاوی مقصد کے لیے قرآن اور حدیث میں تحریف کرتا ہے یعنی کوئی اور بات اس کے اندر شامل کرتا ہے تو یہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہے۔ تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تو یہاں پر تو اس ضمن میں یہ بات کی گئی ہے لیکن یہ کوئی بھی، کسی وقت بھی کرے گا تو یہ بہت خطرناک بات ہے، اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (145) وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (146) فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ (147) سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ (148)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اُس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لئے حرام ہو،

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ جن جانوروں کو بت پرستوں نے حرام قرار دے رکھا ہے، اُن میں سے کسی جانور کے بارے میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت کا حکم ان چار چیزوں کے سوا نہیں آیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے جانوروں میں بھی کوئی جانور حرام نہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے درندوں وغیرہ کے حرام ہونے کی وضاحت فرمادی ہے۔

اصل میں بت پرستوں کی بات ہو اور تھی اور general بات اور ہے۔ تو بت پرستوں نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا تھا ان کا ذکر آیا کہ یہ تو نہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے صرف یہ اور باقی یہ کہ general بات یہ ہے کہ پھر قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر جن کا ذکر آیا ہے کہ حرام ہیں تو وہ حرام ہیں۔

ترجمہ: اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا تھا، اور گائے اور بکری کے اجزاء میں سے ان کی چربیاں ہم نے حرام کی تھیں، البتہ جو چربی ان کی پشت پر یا آنتوں پر لگی ہو، یا جو کسی ہڈی سے ملی ہوئی ہو وہ مستثنیٰ تھی۔ یہ ہم نے اُس کو اُن کی سرکشی کی سزا دی تھی۔ اور پورا یقین رکھو کہ ہم سچے ہیں ﴿146﴾

یہود جو ہیں نا، وہ اس قسم کی، مطلب وہ چیزیں نکالتے تھے جس میں بے ادبی، گستاخی اور اپنے زعم میں کہ ہم منتخب لوگ ہیں، جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں، یہ کرتے تھے تو اللہ پاک کی طرف سے ان کے اوپر عتاب آیا اور بعض چیزیں ان پر روک دیں جو کہ پہلے نہیں رکی ہوئی تھیں۔

ترجمہ: پھر بھی اگر یہ (کافر) تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ: ”تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے، اور اُس کے عذاب کو مجرموں سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔“ ﴿147﴾

حاشیہ: جھٹلانے والوں سے یہاں براہ راست تو یہودی مراد ہیں، کیونکہ وہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ مذکورہ چیزیں اُن پر اُن کی سرکشی کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ ضمناً اس میں مشرکین عرب بھی داخل ہیں جو قرآن کریم کی ہر بات کا انکار کرتے تھے جس میں یہ بات بھی شامل تھی۔ دونوں فریقوں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر ان کے قرآن کو جھٹلانے کے باوجود اُن پر کوئی فوری عذاب نہیں آرہا ہے، بلکہ دُنیا میں انہیں خوشحالی بھی میسر ہے، تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے عمل سے خوش ہے۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ اس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو بھی رزق دیتا ہے، اور خوشحالی سے نوازتا ہے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ ان مجرموں کو ایک نہ ایک دن عذاب ضرور ہوگا جسے کوئی ٹلا نہیں سکتا۔

اصل میں یہی بنیادی بات ہے جو شیطان لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کہ دنیا میں اگر کسی کو خوشی میسر آتی ہے تو سمجھتا ہے کہ میں اللہ پاک کے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں۔ یہ یہودیوں میں اور یہ ہندوؤں میں تو بہت زیادہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ تو اس قسم کی بات کرتے ہیں۔ لیکن یہ جو زندگی ہے، خیر ہندو تو اس زندگی کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ یہودی تو مانتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ جو زندگی ہے یہ تو ہے بہت عارضی۔ اگر یہاں پر کسی کو بادشاہ بھی بنا دیا جائے تو اس بادشاہت کا کیا فائدہ کہ موت کے ساتھ ہی اس پر ڈنڈے برسنے لگیں۔ اور پھر ختم نہ ہوں۔ تو یہ تو کوئی مطلب کمال کی بات نہیں ہے۔ اب اگر میں کسی کو کہہ دوں کہ دو باتوں میں سے ایک چن لو۔ یا تین منٹ میری بات مان لو، جو میں کہوں اس طرح کرو۔ یا پھر باقی دن جو تیرے ساتھ میں کرنا چاہوں گا میں کروں گا، چاہے الٹا لٹکا دوں، چاہے ماروں، چاہے کیا کروں، چاہے وہ مطلب وہ سارا کچھ مطلب یہ ہے کہ اب choice تمہارا ہے، تین منٹ تم یہ لینا چاہتے ہو یا باقی دن باقی وہ جو اس کا وہ ہے وہ advantage لینا چاہتے ہو۔ اب جو بھی عقل و ہوش والا ہو گا تو کیا فیصلہ کرے گا؟ وہ تین منٹ کا choice choose کرے گا یا وہ باقی دن والا choose کرے گا؟ ظاہر ہے وہ باقی دن والا choose کرے گا۔ اب باقی دن یہ میں نے صرف مثال دی ہے ایک دن کی۔ سمجھانے کے لیے کیونکہ بڑی چیز لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ تو قیامت کا پہلا دن پچاس ہزار سال ہے۔ پچاس ہزار سال۔ اور پچاس ہزار سال اگر یہ تمہاری زندگی سو سال بھی ہو جائے تمہاری زندگی سو سال بھی ہو جائے تو پچاس ہزار سال کو اگر چوبیس گھنٹے مان لو تو سو سال تقریباً تین منٹ بنتے ہیں۔ تو اب تین منٹ گویا کہ آپ نے دنیا کے مزے select کیے ہیں۔ اور باقی وہ باقی جو چوبیس گھنٹے سے تین منٹ منفی کرو، پھر اس کے بعد مار کٹائی تیرے ساتھ ہو اور تو چیختا رہے۔ تو یہ کیسی بات ہے اور یہ صرف میں نے ایک دن کی بات کی ہے۔ وہاں تو نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔ تو ایسی صورت میں بہت ہی بیوقوفی کی بات ہوگی اگر کوئی کرنا چاہتا ہے۔ اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ اللہ کا شکر ہے، الْحَمْدُ لِلّٰهِ، کہ اللہ نے ہمیں بچایا ہے اور ہمیں اس پر فخر نہیں کرنا چاہیے، اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ورنہ اگر ہم لوگوں کو بھی اللہ پاک ہدایت سے محروم کر دے تو ایک منٹ بھی نہیں لگتا مطلب یہ تو اللہ کا فضل ہے۔

ترجمہ: جن لوگوں نے شرک اپنایا ہوا ہے، وہ یہ کہیں گے کہ: ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی بھی چیز کو حرام قرار دیتے۔“

یعنی یہ پھر تقدیر والی بات وہی جبری عقیدے کی بات ہے۔ تو یعنی اگر اللہ ہمیں مجبور کرتے تو ہم نہیں کر سکتے تو اللہ پاک کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ البتہ بتا دیتا ہے۔ اور پھر قانون اس کا چلتا ہے۔

حاشیہ: یہ پھر وہی بے ہودہ دلیل ہے جس کا جواب بار بار دیا جاچکا ہے۔ یعنی یہ کہ اگر اللہ کو شرک ناگوار ہے تو وہ ہمیں شرک پر قدرت ہی کیوں دیتا ہے؟ جواب بار بار دیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ساری دُنیا کو اپنی قدرت کے ذریعے زبردستی ایمان پر مجبور کر دے تو پھر امتحان ہی کیا ہوا؟ دُنیا تو اسی امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ کون شخص اپنی سمجھ اور اپنے اختیار سے وہ صحیح راستہ اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں بھی رکھ دیا ہے، اور جس کی طرف رہنمائی کے لئے اتنے سارے پیغمبر بھیجے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح راستہ چننے کی توفیق عطا فرما دے۔

ترجمہ: ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اسی طرح (رسولوں کو) جھٹلایا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ تم ان سے کہو کہ: ”کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے نکال کر پیش کرسکو؟ تم تو جس چیز کے پیچھے چل رہے ہو وہ گمان کے سوا کچھ نہیں، اور تمہارا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہمی اندازے لگاتے رہو ﴿148﴾

تو واقعتاً جس کے پاس کتاب نہ ہو تو پھر تو وہمی اندازے ہی لگائے گا۔ اور جس کے پاس کتاب ہے لیکن وہ کتاب کو follow نہیں کرتا اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ بھی وہمی اندازے لگائے گا۔ مثلاً یہودیوں نے وہمی اندازہ لگایا کہ ہم منتخب لوگ ہیں۔ اور لاڈلے ہیں۔ ہمیں اول تو عذاب دیا نہیں جائے گا اور اگر دیا جائے گا تو بہت تھوڑا سا۔ اب یہ ان کا وہمی اندازہ تھا، اس کا کوئی اللہ تعالی نے ان کو کتاب میں کچھ نہیں کہا تھا۔ اپنی طرف سے انہوں نے، یا یہ آج کل مثال کے طور پر بعض سادات اپنے بارے میں اندازہ لگا رہے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے جی، ہمیں عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے، ہم تو پیدائشی بزرگ ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ ایک وہمی اندازہ ہو گا اور اس کی سزا اس کو بھگتنی ہو گی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شخص جو ہے، وہ مستثنیٰ نہیں ہے قانون سے۔ ہاں البتہ یہ بات ہے کہ یعنی جو اللہ تعالی نے آسانیاں ہمیں دی ہیں ان آسانیوں کو ہم استعمال کر لیں۔ اور اس سے فائدہ اٹھائیں نہ یہ کہ اس پر ناز کر کے ہم نقصان اٹھا لیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرما دے اور غلط باتوں سے بچائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

دین میں خود ساختہ نظریات، دنیا کا فریب اور آخرت کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور