دینِ حق کی اساس: وحی، عقل اور علمی دلیل کی اہمیت
درس نمبر: 268، سورۃ الانعام، آیات: 141 تا 144
کھیتی کی کٹائی پر غریبوں کا شرعی حق ادا کرو۔
بغیر شرعی دلیل جانوروں کو حرام ٹھہرانا ظلم ہے۔
خود ساختہ دین بدلتا رہتا ہے جبکہ وحی محفوظ ہے۔
صدقہ دینے سے اللہ مال میں برکت پیدا فرماتا ہے۔
شریعت کے احکام قرآن اور سنت سے ثابت ہوتے ہیں۔
بات کہنے والے کے بجائے بات کی سچائی دیکھنی چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ وَ لَا تُسْرِفُوْا ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۙ (141) وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۙ (142) ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ؕ قُلْ ءٰٓ الذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ؕ نَبِّئُوْنِىْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۙ (143) وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (144)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے باغات پیدا کئے جن میں سے کچھ (بیل دار ہیں جو) سہاروں سے اُوپر چڑھائے جاتے ہیں، اور کچھ سہاروں کے بغیر بلند ہوتے ہیں، اور نخلستان اور کھیتیاں، جن کے ذائقے الگ الگ ہیں، اور زیتون اور انار، جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھلوں کو کھانے میں استعمال کرو، اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو اللہ کا حق ادا کرو، اور فضول خرچی نہ کرو۔
اللہ کا حق ادا کرو
حاشیہ: اس سے مراد عشر ہے جو زرعی پیداوار پر واجب ہوتا ہے۔ مکی زندگی میں اس کی کوئی خاص شرح مقرر نہیں تھی، بلکہ جب کٹائی کا وقت آتا تو کھیتی کے مالک پر فرض تھا کہ جو فقراء اس وقت موجود ہوں، اُن کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ دے دیا کرے۔ مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد اس کے مفصل احکام آئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ تفصیل بیان فرمائی کہ بارانی زمینوں پر پیداوار کا دسواں حصہ اور نہری زمینوں پر بیسواں حصہ غریبوں کا حق ہے۔ آیت نے بتایا ہے کہ یہ حق کٹائی ہی کے وقت ادا کر دینا چاہئے۔
یعنی اسی وقت اس کو علیحدہ کرنا چاہیے، اور مستحقین تک پہنچانا چاہیے۔
ترجمہ: اور فضول خرچی نہ کرو۔ یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا ﴿141﴾ اور چوپایوں میں سے اللہ نے وہ جانور بھی پیدا کئے ہیں جو بوجھ اُٹھاتے ہیں، اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔
حاشیہ: ”زمین سے لگے ہوئے“ ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ان کا قد چھوٹا ہوتا ہے، جیسے بھیڑ بکریاں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی کھال زمین پر بچھانے کے کام آتی ہے۔
ترجمہ: اللہ نے جو رزق تمہیں دیا ہے، اس میں سے کھاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو، وہ تمہارے لئے ایک کھلا دشمن ہے ﴿142﴾(مویشیوں کے) کل آٹھ جوڑے اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ دو صنفیں (نر اور مادہ) بھیڑوں کی نسل سے اور دو بکروں کی نسل سے۔ ذرا ان سے پوچھو کہ: ”کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے، یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اُس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟ اگر تم سچے ہو تو کسی علمی بنیاد پر مجھے جواب دو!“ ﴿143﴾
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ تم لوگ کبھی نر جانور کو حرام قرار دے دیتے ہو، کبھی مادہ جانور کو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ جوڑے پیدا کرتے وقت نہ نر کو حرام کیا تھا نہ مادہ کو۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اگر نر ہونے کی وجہ سے کوئی جانور حرام ہوتا ہے تو ہمیشہ نر ہی حرام ہونا چاہئے، اور اگر مادہ ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو ہمیشہ مادہ ہی حرام ہونی چاہئے، اور اگر کسی مادہ کے پیٹ میں ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو پھر بچہ نر ہو یا مادہ ہر صورت میں حرام ہونا چاہئے۔ لہٰذا تم نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ رکھے ہیں نہ ان کی کوئی علمی یا عقلی بنیاد ہے، اور نہ اللہ کا کوئی حکم ایسا آیا ہے۔
ترجمہ: تو پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر اس لئے جھوٹ باندھے تاکہ کسی علمی بنیاد کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرسکے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔“ ﴿144﴾
کل اس پر بات ہوئی تھی کہ ایک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا گیا دین جس کو revealed دین کہتے ہیں۔ اور ایک ہوتا ہے man made religion، لوگوں نے جو خود اپنی مرضی سے بنایا ہوتا ہے۔ تو جو مرضی سے جنہوں نے بنایا ہوتا ہے وہ اپنے طور پر جو ان کی سمجھ میں آئے وہ کر لیتے ہیں۔ پھر بعد میں دوسرے لوگوں کے جو سمجھ میں آئے تو وہ کر لیتے ہیں۔ لہذا وہ چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اب دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جو عیسائی تھے وہ اور تھے، اس دور کے جو عیسائی ہیں وہ اور ہیں۔ مطلب اس دور کے عیسائی بہت ساری باتیں مطلب پرانے دور کی نہیں مانتے۔ اور باقاعدہ ان کو یعنی اپنے چرچ سے یعنی وہاں سے حاصل ہوتا ہے۔ کیوں وجہ کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی base نہیں رہا۔ جب base نہیں رہا تو لوگوں کی observation، لوگوں کی understanding، لوگوں کے مزاج کے مطابق جو ان کے سمجھ میں آیا انہوں نے کر لیا اور کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح یہود بھی اپنی کتابوں میں تحریف کرتے تھے اپنی مرضی کے مطابق۔ مالدار کو ایک حکم بتاتے، غریب کو دوسرا حکم بتاتے۔ جب ضرورت پڑتی تو آگے پیچھے کوئی چیز کر لیتے۔ تو ان کا بھی اس قسم کا حال ہے۔ تو اللہ جل شانہ یہاں پر دو باتوں کی طرف ہمیں متوجہ فرما رہے ہیں۔ یا تو کوئی عقلی بنیاد ہو جیسے دنیاوی کوئی بات ہو تو اس میں عقلی بنیاد چلتی ہے۔ مطلب دیکھو ایک چیز گندی ہے نہ کھاؤ صاف ہے تو کھاؤ جیسے hygienic مطلب وہ کہتے ہیں۔ تو یہ عقلی بنیاد ہے۔ شرعی بنیاد کے لیے revealed حکم چاہیے۔ مطلب جس دین پر آپ ہیں وہ اترا ہوا ہو، پتہ چل رہا ہو کہ فلاں کتاب میں ہے، فلاں reference ہے، فلاں ساری چیزیں مطلب اس کے حساب سے بتا دو۔ تو یہ بھی صحیح ہے۔ تو اس کا مطلب ہے ہمارے پاس دو بنیادیں ہیں۔ یا تو یہ بات ہے کہ ہم لوگ عقلی بنیادوں پر فیصلہ کر لیں کسی چیز کا اگر وہ revealed religion کے ساتھ ٹکراتا نہیں ہے۔ کیونکہ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جیسے اللہ تعالی فرماتے ہیں يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ۔ اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ اب یہ ہماری observation کے بظاہر خلاف ہے۔ observation یہ کہتا ہے کہ سود اس میں پیسہ آتا ہے تو بڑھ جاتا ہے۔ اور جو صدقہ ہے اس میں پیسے کم ہوتے ہیں بظاہر۔ تو یہ خبر بظاہر اپنی observation کے لیکن بالکل بعد میں جب اس کو analyze کیا جائے تو وہی بات ہی ثابت ہوتی ہے۔ کہ جو سود خور ہوتے ہیں ان کا مال کم ہوتا ہے جو صدقہ دیتے ہیں ان کا مال بڑھتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو ایک خاص چیز درمیان میں شامل ہو جاتی ہے وہ برکت ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ وہ بات ہو جاتی ہے۔ اب دیکھیں ایک ہوتا ہے ہماری plus کے اوپر نظر۔ ٹھیک ہے نا۔ ہماری کس چیز کے اوپر نظر ہے؟ plus کے اوپر نظر ہے کہ آ رہا ہے، یہ plus یہ plus یہ plus۔ minus ہمارے ذہن سے مخفی ہوتا ہے۔ minus کا مطلب کیا ہے کہ اب دیکھو ایک آدمی صدقہ دیتا ہے اس کا فضول مال ضائع نہیں ہوتا یہ minus ہے۔ minus minus ہو جاتا ہے۔ اس کا بیماریوں پہ دوسری چیزوں پہ مال ضائع نہیں ہوتا یہ minus minus ہو جاتا ہے۔ اس طرح اور مطلب یہ ہے کہ وہ غلط چیزوں پر مطلب خرچ نہیں ہوتا minus minus ہو جاتا ہے۔ وہ اکثر وہ ہمارے کہتے ہیں نا کہ بزرگوں کے پاس جو لوگ آ جاتے ہیں نا students وغیرہ تو ان کے والدین کو بڑی فکر ہو جاتی ہے کہ وہ یہ تو study بھی نہیں کر سکیں گے اور یہ تو fail ہو جائیں گے اور یہ تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا اور شیطان ان کو کہانیاں سناتے ہیں۔ وہ اس چیز کو نہیں دیکھتے کہ ایک گھنٹہ ادھر بیٹھ کے جو انہوں نے وقت لگایا ہے اس کی وجہ سے اس کے کتنے گھنٹے بچ گئے ہیں۔ مثلا tv کے سامنے اب نہیں بیٹھیں گے اگر اس پر اثر ہو گیا ہے فضول مطالعے نہیں کریں گے ادھر ادھر کی چیزیں ادھر فضول پھریں گے نہیں فضول گپ شپ نہیں لگائیں گے یہ سارا وقت بچ رہا ہے نا۔ net result کیا ہے؟ net result تو فائدہ ہے۔ لیکن وہ اس net result کے اوپر شیطان نہیں نظر ڈالنے دیتا۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہاں پر یہ فرمایا کہ اللہ پاک نے ایک تو وہ عقل کی بنیاد پر کہ عقل کی کوئی دلیل دو۔ تو عقل کا بتا رہا ہے کہ اگر یہ ہو تو پھر یہ ہونا چاہیے اگر یہ ہو تو پھر یہ ہونا چاہیے۔ تو آپ لوگوں کی observation تو ساری مختلف ہیں عقلی بنیاد پر نہیں ہے۔ یا پھر revealed ہونا چاہیے تو پھر reference دے دو۔ کس نے بھیجا ہے کس نے کہا ہے۔ تو یہی طریقہ ہے۔ یہ اصل میں میں آپ کو ایک بات بتاؤں کہ قرآن اور سنت چونکہ complete ہے۔ لہذا جو بھی حکم ہوگا اگر حکم ہوگا تو صحیح ثابت ہوگا۔ یعنی قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہوگا یا کسی حدیث شریف سے ثابت ہوگا۔ یا ان دونوں کے analysis سے ثابت ہوگا جس کو اجتہاد کہتے ہیں اور فقاہت کہتے ہیں۔ تو مطلب ثابت ہوگا۔ ہاں البتہ یہ بات ہے کہ یہ بعض دفعہ چیزیں کشفوں کی بنیاد پر معلوم ہو جاتی ہیں تو کشف کوئی نئی چیز نہیں بتائے گا۔ نئی بتائے گا تو اس کو نہیں مانیں گے۔ کشف کوئی اسی قرآن و سنت کے مطابق کوئی چیز بتائے گا آپ کو اگر دلیل مشکل سے ملتی ہے یعنی ڈھونڈنے سے مشکل سے ملتی ہے تو کشف سے ذرا جلدی مل جائے گی آپ کو پتہ چل جائے گا فلاں کتاب میں ہے فلاں جگہ پر ہے۔ وہ reference آپ کو بتا دیں گے۔ وہ جیسے ایک بزرگ تھے نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ جو ہمارے جنہوں نے درس نظامی بنایا۔ تو 500 افراد مطلب ان کے ساتھ جمع ہو گئے تھے اس course کو بنانے کے لیے۔ ان علماء کے بڑے تھے۔ وہ بیعت ہو گئے ایک ان پڑھ امّی شیخ سے۔ تو ان علماء نے ادب کی وجہ سے کچھ کہا تو نہیں۔ لیکن زیر لب اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہمارے استاد کو کیا ہو گیا۔ کہ دیکھیں نا ایک ان پڑھ سے مطلب بیعت۔ یہ بہت سارے علماء کے ذہن میں ہوتا ہے نا، وہ کہتے ہیں عالم سے بیعت ہونا چاہیے۔ تو مطلب، وہ بات تھی۔ تو ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آ رہی تھی۔ تو حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اس بات کا وہ تھا کہ یہ مسئلہ ختم ہو جائے۔ یعنی ان کے اوپر بھی بات کھل جائے۔ تو انہوں نے اپنے شیخ سے درخواست کی کہ حضرت اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے کچھ بیان فرما دیں، ہمارے ساتھی علماء کو تھوڑے سے وہ ہیں، تو مجھے تو مسئلہ نہیں ہے لیکن ان کو چونکہ وہ ہے، تو ذرا ان کو فائدہ ہو جائے گا۔ حضرت نے پہلے تو، لیکن پھر بعد میں مان گئے۔ مان گئے تو رات کو تہجد کے وقت خوب اللہ کے سامنے روئے کہ یا اللہ ایک بہت بڑے عالم کی عزت کا مسئلہ ہے۔ تو ان کی مدد فرما۔ اب صبح بیان کے لیے بیٹھ گئے تو قرآن پاک کی آیت کریمہ پڑھی۔ جیسے حافظ پڑھتے ہیں۔ اور عالم پڑھتے ہیں۔ کچھ احادیث شریفہ، اس کے بعد جو علمی بیان شروع کیا، تو اتنی گہری باتوں میں چلے گئے۔ ریفرنس یہ فلاں نے جی یہ لکھا ہے، فلاں نے یہ لکھا ہے، فلاں نے۔ اب علماء حیران ہیں کہ یہ کہاں سے ان کو پتہ ہے بھئی، یہ تو یہ تو ان پڑھ ہیں۔ یہ کہاں سے؟ تو اخیر میں جوش سے کہا کہ اے علمائے کرام! یاد رکھو، تم نے کتابوں کے چھوٹے چھوٹے حروف سے پڑھا، ہمیں اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے بڑے حروف سے سکھایا۔ اب یہ چیز کشف ہے۔ اب اگر وہ اپنی طرف سے کچھ چیزیں بتاتے تو وہ تو نہیں ماننی چاہیے تھیں کیونکہ وہ علمی بات نہ ہوتی۔ لیکن وہ ریفرنس دے رہے ہیں، حوالے دے رہے ہیں، کتابوں کے بارے میں باتیں بتا رہے ہیں، تو وہ ہے تو کشفاً ائی ہوئی لیکن چیزیں تو علمی ہیں۔ آپ تو اس کے ریفرنس سے مان رہے ہیں، آپ کو اس کے کشف سے نہیں مان رہے، سمجھ میں آ گئی نا بات۔ آپ اس کے علم سے مان رہے ہیں کیونکہ جو علم اس کی زبان پہ جاری ہو رہا ہے، وہ بے شک کہاں سے، کہاں سے آ رہا ہے، وہ آپ کو اس سے کیا؟ آیا وہ کتاب سے آ رہا ہے یا اوپر سے آ رہا ہے، آپ کو اس سے کیا؟ آپ کو تو اس ریفرنس کی ضرورت ہے نا کہ ریفرنس مطلب بتا دیں۔ حاتم طائی کا بیٹا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ تو فلاں ہیں عیسائیوں کا ایک گروہ تھا، مطلب ایک سیکٹ تھا، تو ان کا ایک عقیدہ تھا، تو اس کے خلاف وہ بات کر رہے تھے۔ تو انہوں نے کہا، آپ تو فلاں ہیں، تو آپ کے اس میں تو۔ اب ظاہر ہے بات صحیح تھی، کیونکہ ظاہر ہے اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیت تو نہیں (پڑھی تھی) نہ ان کو پتا تھا کہ بھئی کون ہوں۔ لیکن وہ جو تھی، وہ بھی صحیح بات تھی۔ اور اس کے مطابق جو بات ہونی چاہیے تھی، وہ بھی صحیح بات تھی، لہذا فوراً مان گئے، مسلمان ہو گئے۔ کیونکہ اس کو پتہ چل گیا کہ ان کو صحیح باتیں معلوم ہو رہی ہیں۔ یہ نہیں پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا ہے تو سوال ہی نہیں ہے۔ بھئی جس طرح بھی پتہ چلا ہے۔ آپ کو کیا؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے صحابہ کرام بہت ڈرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے تھے۔ اور یہ ڈر یہ ہوتا تھا کہ اگر ہم غلط بات کر لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے سے اللہ بات کھول دیں گے۔ پھر کیا ہو گا؟ بات تو سامنے آ جائے گی۔ اب اس وقت وحی کے ذریعے سے کھولا جاتا تھا۔ اب اگر کسی کو اللہ تعالیٰ قلبی بصیرت کے ذریعے سے، کشف کے ذریعے سے یا الہام کے ذریعے سے، وہ بات کھول دے، تو کون سا مشکل ہے؟ کام کرنے والا تو وہی، ایک ہی ہے۔ وحی بھیجنے والا بھی وہی تھا۔ کشف کرانے والا بھی وہی ہے۔ الہام کرانے والا بھی وہی ہے، آپ کو end result کے ساتھ کام ہے، اس کو دیکھو، کہ وہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ end result اگر صحیح ہے، آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ دلیل کو دیکھو، دلیل کیا ہے؟ دلیل غلط، کتاب میں بھی لکھا ہے، پھر بھی نہ مانو۔ کیونکہ کتاب میں بھی تو غلط دلیل دی جا سکتی ہے نا، مطلب، ظاہر ہے حوالہ دیا گیا، غلط دیا گیا۔ کتنے سارے لوگ ہیں جو غلط دلائل دیتے ہیں کتابوں میں۔ تو اگر کتاب میں بھی غلط دلیل ہو، یعنی قرآن و سنت کا غلط ریفرنس ہو، تو آپ نہیں مانیں گے۔ اور کشف کے طور پر صحیح دلیل دی گئی، ریفرنس صحیح دے دیا گیا، مانیں گے۔ یہ نہیں ہے، وہ کشف! وہ پشاور جیل۔ تو اس کے پاس ایک نالا ہے۔ تو گاڑی ٹائر پنکچر ہو گیا تھا، ٹائر کھول رہے تھے۔ تو اس کے ایک پہیے کے نٹ سارے گر گئے۔ نالے میں۔ اب وہ بیچارہ پریشان ہے کہ میں کیا کروں؟ تو جیل کی کھڑکی سے ایک قیدی جو پاگل قیدی تھا وہ دیکھ رہا تھا، کہتا کیا ہوا؟ کہتا میرے نٹ گر گئے۔ تو اب میں گاڑی کیسے لے جاؤں؟ کہتے عجیب آدمی ہو۔ آپ اس طرح کر لیں کہ ہر تین تین نٹ لگا دو چاروں پہیوں کو۔ اور ورک شاپ تک پہنچا دو وہاں پھر۔ تو اس کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن تم تو پاگل ہو۔ کہتے پاگل تو ہوں لیکن تیری طرح بیوقوف تو نہیں ہوں۔ تو اس کو نہیں دیکھنا ہوتا ہے کہ بھئی کون کہہ رہا ہے دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟ تو یہ بات ہے، اگر ہم اس کو دیکھیں تو پھر بہت ساری باتیں سمجھ میں آ جائیں گی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔