حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت اور معاشرتی اصلاح

درس نمبر: 294، سورۃ الاعراف، آیات: 85 تا 87

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حضرت شعیب نے قوم کو ناپ تول میں کمی سے روکا۔

بغیر اجازت دوسروں کی چیزیں استعمال کرنا حق تلفی ہے۔

دنیاوی خوشحالی اللہ کی رضا کا ثبوت نہیں ہے۔

تکلیف کو اپنے اعمال کا ثمرہ سمجھنا چاہیے۔

حضرت موسیٰ فقیر تھے جبکہ فرعون بادشاہ تھا۔

اپنے اعمال کا احتساب کریں اور برائی سے توبہ کریں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۚ (85) وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ (86) وَ اِنْ كَانَ طَآىٕفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآىٕفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ (87)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور مدین کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کو بھیجا۔

یہ مدین جو ہے ایک قبیلے کا نام تھا، اسی کے نام سے ایک بستی بھی تھی۔

حاشیہ: جس میں حضرت شعیب علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اُن کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کچھ پہلے کا ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسر تھے۔ یہ ایک سرسبز و شاداب علاقہ تھا، اور یہاں کے لوگ خاصے خوش حال تھے۔ رفتہ رفتہ ان میں کفر و شرک کے علاوہ بہت سی بدعنوانیاں رواج پا گئیں۔ ان کے بہت سے لوگ ناپ تول میں دھوکا دیتے تھے۔ بہت سے زور آور لوگوں نے راستوں پر چوکیاں بنارکھی تھیں، جو گزرنے والوں سے زبردستی کا ٹیکس وصول کرتے تھے۔ کچھ لوگ ڈاکے بھی ڈالتے تھے۔ نیز جو لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس جاتے نظر آتے، انہیں روکتے اور تنگ کرتے تھے۔ ان کی ان بدعنوانیوں کا ذکر اگلی دو آیتوں میں آرہا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے تقریر اور خطابت کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، اسی لئے وہ ”خطیب الانبیاء“ کے لقب سے مشہور ہیں۔ لیکن ان کی مؤثر تقریروں کا قوم نے کچھ اثر نہ لیا۔ اور آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنی۔ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کے واقعات سب سے زیادہ تفصیل سے سورۂ ہود (11:84 تا 95) میں آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ تفصیل سورۂ شعراء (26:176 تا 191) اور سورۂ عنکبوت (29:36) میں آئی ہے، اور سورۂ حجر (15:78) میں مختصر حوالہ آیا ہے۔

ترجمہ: انہوں نے کہا: ”اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ لہٰذا ناپ تول پورا پورا کیا کرو، اور جو چیزیں لوگوں کی ملکیت میں ہیں، اُن میں اُن کی حق تلفی نہ کرو۔

یہاں پر ایک نکتے کی بات ہے، وہ یہ ہے کہ یہ جو وہ لوگ بدعنوانیاں کرتے تھے، معاشرتی تھیں۔ یعنی ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔ اور جیسے بیوائیں یا یتیم ہیں، ان کی ملکیتوں پہ تصرف کرتے تھے اس طرح۔ جیسے آج کل بھی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے نکالے۔ تو یہ جو چیز ہے، مطلب معاشرتی ہے اب اگر کوئی اس کی اصلاح کرے گا تو اس کو معاشرے میں صرف وہ جو مجرم لوگ ہیں، ان کی مخالفت ہونی چاہیے نا۔ باقی لوگوں کو تو فائدہ ہو رہا ہے۔ تو باقی لوگ کیوں مطلب اس کو support نہیں کریں۔ تو یہ جو ہے نا مطلب گویا کہ دو طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ایک تو جو لوٹ کھسوٹ والے ہیں وہ زیادہ ہو جائیں بہت۔ اور دوسری طرف یہ والی بات ہے کہ وہ جو لوگ جن کا استحصال ہو رہا ہے وہ کمزور ہوں۔ مطلب یہ دو باتیں مطلب ہو سکتی ہیں۔ تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ معاشرے میں کس level کا انحطاط تھا۔ تو یہ بات ظاہر ہے حضرت شعیب علیہ السلام نے اس کو کافی اس کی تبلیغ کی لیکن ان کے اوپر اثر نہیں ہوا بلکہ الٹا انہوں نے شعیب علیہ السلام کو تنگ کرنے کی کوشش کی۔ شعیب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شعیب علیہ السلام عرب تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب ہے۔ باقی انبیائے کرام جو ہیں نا وہ مطلب دوسرے جیسے فلسطین کے ہیں یا عراق میں بھی اس وقت ہوتا نا تو یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ۔ تو بہرحال یہ ہے کہ شعیب علیہ السلام خطیب تھے یعنی خطیب الانبیاء تھے بہت عمدہ طریقے مطلب بات سمجھاتے تھے لیکن ان لوگوں نے بات نہیں مانی۔

حاشیہ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ناپ تول میں کمی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کی حق تلفی کیا کرتی تھی۔ اس آیت میں لفظ ”بخس“ استعمال کیا گیا ہے، جس کے لفظی معنی کمی کرنے کے ہیں، اور یہ لفظ خاص طور پر کسی کا حق مار لینے کے معنی میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن کریم میں یہ فقرہ تین جگہ بڑی تاکید کے ساتھ آیا ہے، اور اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اُس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لیا جائے، اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اُس کی خوش دلی کے بغیر استعمال کی جائے۔

حج کے اندر جو مسائل لوگ مطلب گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ جس کی وجہ سے نقصان کرتے ہیں اپنا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کی چیزیں بغیر اجازت کے استعمال کرتے ہیں۔ ہاں جی مطلب پرواہ نہیں کرتے کسی کے جوتے پہن کے چلے گئے ہاں کسی کا جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ چھتری استعمال کر لی کسی کا اور کیسے استعمال کیا یہ پرواہ لوگ نہیں کرتے۔ تو یہ باتیں غلط ہیں۔ مطلب اجازت لے کر طیب خاطر کے ساتھ ایک تو یہ بات ہے دوسرا pressurize کر کے لوگوں سے کوئی چیز اینٹھلینا مثلا آج کل یہ چیز ہے کہ جیسے کوئی کسی کو خوشی نصیب ہو جائے تو کہتے ہیں ہمیں treat دے دو اور اتنا pressure کرتے ہیں pressurize کرتے ہیں کہ وہ بے چارے مجبور ہو جاتے ہیں اور مطلب ظاہر ہے وہ طیب خاطر کے بغیر۔ یا یہ جو شادی بیاہ میں اس قسم کے جو مسائل ہوتے ہیں تو اس میں بھی لوگوں کا pressure ہوتا ہے۔ جو لوگ اس سے بچنا چاہیں تو ان کو ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور سمجھتے ہیں بخیل ہے اور یہ کنجوس ہے اور یہ اس طرح ہے اور یہ مطلب جو ہے نا یا رشتے داروں کا حق نہیں ادا کرتا۔ کیا حق ہے اس قسم کا؟ ایک دفعہ کسی خاتون نے مجھے فون کیا کہ مطلب کوئی اس طرح شادی میں وہ نہیں جوڑے ووڑے جو دیتے ہیں تو مطلب اس نے میرا حق مارا میں نے کہا کون سا حق؟ یہ تو حق نہیں ہے۔ نہ آپ کا حق تھا نہ اس نے مارا۔ یہ تو کوئی ایسی چیز ہی نہیں ہے۔ ہاں جی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس کو لوگوں نے حق سمجھا ہوتا ہے کہ جی ہمارا حق ہے۔ حالانکہ وہ تو رسمی ہے رسمی چیزیں رسموں کا کیا حق ہوتا ہے؟ ہاں جی۔ تو اس کا تو کوئی حق نہیں ہوتا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ لوگوں نے اس کو حق سمجھا ہوا ہے۔ تو فرمایا کہ

ترجمہ: اور زمین میں اُس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ لوگو! یہی طریقہ تمہارے لئے بھلائی کا ہے، اگر تم میری بات مان لو ﴿85﴾ اور ایسا نہ کیا کرو کہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں، ان کو اللہ کے راستے سے روکو، اور اُس میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم کم تھے، پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کر دیا،

یہ بات یہ

حاشیہ: ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا، اور یہ بھی کہ ان کو خوشحالی زیادہ نصیب ہوئی۔

ترجمہ: اور یہ بھی دیکھو کہ فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ہے ﴿86﴾ اور اگر تم میں سے ایک گروہ اُس پیغام پر ایمان لے آیا ہے جو میرے ذریعے بھیجا گیا ہے، اور دوسرا گروہ ایمان نہیں لایا، تو ذرا اُس وقت تک صبر کرو جب تک اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے“ ﴿87﴾

یہ اصل

حاشیہ: درحقیقت اُن کی ایک بات کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مؤمنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ جو لوگ ایمان نہیں لائے، وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر اُن کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہئے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔ ابھی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو۔

یہ ایک یونیورسل غلط فہمی ہے۔ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں اگر خوشی دی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہیں۔ اور اگر کسی کو دنیا میں تکلیفیں دی گئی ہیں تو لوگ سمجھیں کہ یہ تو ان کے اوپر عذاب ہے۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کرتے ہیں۔ اس کا آسان علاج یہ ہے اس بات کا کہ اپنے لیے اگر کوئی تکلیف آئی ہے تو اس کو اپنے اعمال کا ثمرہ سمجھیں اور توبہ استغفار کریں۔ دوسروں کے بارے میں نیک گمان کریں۔ ہاں جی یعنی یہ مطلب اس کا حل ہو سکتا ہے کہ اور دوسروں مطلب خود کو خوشحالی ملے تو اس کو سمجھے کہ شاید کہیں وہ ڈھیل نہ ہو مطلب استدراج نہ ہو۔ اور اگر دوسروں کو مل جائے تو کہیں ٹھیک ہے اللہ تعالی نے ان کو عطا فرمایا ہے۔ تو بہرحال یہ جو ہے نا یہ ایک بہت مسئلہ ہے جو کہ چلا آ رہا ہے کافی عرصے سے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دنیا میں خوشحالی کسی کو حاصل ہے تو آخرت میں بھی ان کو خوشحالی حاصل ہوگی حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ آسان سی بات ہے فرعون اور موسی علیہ السلام۔ فرعون جو ہے نا وہ مطلب مطلق العنان حکمران تھے۔ اور موسی علیہ السلام فقراء انبیاء میں ہیں۔ جیسے علی رضی اللہ تعالی عنہ فقراء صحابہ میں سے ہیں علی رضی اللہ تعالی عنہ۔ اس طرح موسی علیہ السلام فقراء انبیاء میں ہیں۔ یعنی جب آ رہے تھے تو مطلب یہ ہے کہ وہ ایک بہت ہی مطلب کمبل ہاں جی دونوں کے لیے ہاں جی۔ تو یہ مطلب یعنی فقراء اور یہ جو جب مدین تشریف لے گئے تو ان کی جو دعا ہے اس سے بھی یہ پتہ چلتا ہے رب إني لما أنزلت إلي من خير فقير۔ مطلب میں اس ہر چیز کا محتاج ہوں جو کہ تو مجھے مطلب تو یہ فقراء انبیاء میں تھے۔ یعنی مطلب ظاہر ہے کہ بالکل۔ اس طرح عیسی علیہ السلام بھی فقراء انبیاء میں تھے۔ ان کا تو یہ حال تھا کہ یعنی کوئی چیز ملکیت میں نہیں رکھتے تھے۔ تو وہ جو ہے نا وہ ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں کھاتے پیتے جس میں پیتے بھی تھے۔ تو کسی کو دیکھا کہ وہ لپ سے جو ہے نا پانی پی رہے ہیں مطلب تو وہ بھی دے دیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ یہ حضرات تھے۔ باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فقر مشہور ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری فقر جو تھا وہ کیسے تھا؟ یعنی مطلب کئی کئی دن فاقہ آگ نہیں جلتی تھی۔ تو یہ تو ایسی بات نہیں ہے۔ سلیمان علیہ السلام بادشاہ تھے۔ داؤد علیہ السلام بادشاہ تھے۔ لیکن سارے پیغمبر تو ایسے نہیں تھے۔ لیکن دوسری طرف دیکھیں تو فرعون بادشاہ شداد بادشاہ نمرود بادشاہ اور یہ بڑے بڑے نمرود جو ہے نا وہ یعنی super power لوگوں میں سے تھے۔ super power تھے اس وقت کے۔ ہاں جی اس طرح کسری قیصر ہاں جی۔ تو یہ بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں اور یہ جو ہے نا مطلب ہے کہ انہوں نے سکندر اعظم جو ہے۔ تو یہ کیا ان کو دیکھ کر ہم سمجھیں کہ بس یہی بات بنے؟ اگر یہ اصول ہو گیا تو معاملہ تو خطرناک ہو گیا۔ ہاں جی وہ تو پھر ظاہر ہے مطلب ہے کہ تو ایسا نہیں ہے۔ ہر وقت اپنے اعمال کا احتساب کرنا چاہیے اور جو صحیح اعمال ہیں ان کو جاری رکھنا چاہیے اور جو برے اعمال ہیں ان سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين۔ ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم۔ وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم۔ سبحان ربك رب العزة عما يصفون۔ وسلام على المرسلين۔ والحمد لله رب العلمين برحمتك۔

حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت اور معاشرتی اصلاح - درسِ قرآن - پہلا دور