خود ساختہ مذاہب اور مشرکانہ رسومات: قتلِ اولاد، من گھڑت حلال و حرام اور دینِ الٰہی کی حفاظت

درس نمبر: 267، سورۃ الانعام، آیات: 137 تا 140

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ دین ناقابلِ تحریف ہے، جبکہ انسان اپنے گھڑے ہوئے دین میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔
  2. دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ زبردستی ایمان پر مجبور کرنے کے بجائے انسان کو اپنے ارادے کے استعمال کی چھوٹ دیتا ہے۔
  3. مشرکین نے کھیتوں اور چوپایوں کے استعمال، سواری اور حلال و حرام ہونے کے حوالے سے اپنی طرف سے بے بنیاد پابندیاں گھڑ کر اللہ پر بہتان باندھا۔
  4. حماقت اور جہالت کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کرنا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام ٹھہرانا کھلا خسارہ اور گمراہی ہے۔
  5. اپنی جگہ سے کٹ جانے والا انسان شرک اور بدعات میں مبتلا ہو کر کھائی میں گر کر پاش پاش ہونے والے کی طرح تباہ ہو جاتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ (137) وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (138) وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ (139) قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُـوْۤااَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ (140)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور اسی طرح بہت سے مشرکین کو اُن کے شریکوں نے یہ سُجھا رکھا ہے کہ اپنی اولاد کو قتل کرنا بڑا اچھا کام ہے، تاکہ وہ ان (مشرکین) کو بالکل تباہ کرڈالیں، اور اُن کے لئے اُن کے دین کے معاملے میں مغالطے پیدا کردیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہٰذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو ﴿137﴾ اور یوں کہتے ہیں کہ: ”ان چوپایوں اور کھیتیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے“۔ ان کا زعم یہ ہے کہ: ”ان کو سوائے اُن لوگوں کے کوئی نہیں کھا سکتا جنہیں ہم کھلانا چاہیں“۔

حاشیہ: اس کی تشریح کے لئے دیکھئے اسی سورت میں پیچھے آیت نمبر 112 کا حاشیہ۔ یہاں پھر وہی بات فرمائی جارہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا، اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا، لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔

اصل میں بات یہ ہے کہ بنیادی طور پر کہ برائی کی نسبت چونکہ اللہ تعالی کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ تو اس وجہ سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کر سکتے۔ لیکن چونکہ انہوں نے خود اس چیز کو opt کر لیا ہے اور اس کا ارادہ کر لیا ہے تو اللہ تعالی نے اس کو کرنے دیا کیونکہ یہ جگہ امتحان کی ہے۔ یہ بات۔

تو فرمایا کہ

حاشیہ: یہ ایک اور رسم کا بیان ہے جس کی رُو سے وہ اپنے من گھڑت دیوتاؤں کو اپنے گمان کے مطابق خوش کرنے کے لئے کسی خاص کھیتی یا مویشی پر پابندی لگا دیتے تھے کہ ان کی پیداوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ جس شخص کو چاہتے، اس پابندی سے مستثنیٰ کر دیتے تھے۔

ایک ہوتا ہے اللہ کی طرف سے revealed religion۔ یعنی اللہ پاک نے جو وحی کے ذریعے سے اتاری ہے پیغمبر کے ذریعے سے جو بات پہنچائی ہے وہ revealed ہوتا ہے۔ وہ تبدیل کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اصل اس کا وہ اللہ کی طرف سے آ رہا ہے وہ تو کسی اور کی طرف سے تو نہیں ہے۔ ایک ہوتا ہے fabricated دین۔ یعنی انسان خود بنا لے دین۔ تو وہ پھر تبدیل کر سکتے ہیں اس میں جو بھی تبدیلی کر سکتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ اسی طریقے سے جیسے ہندوؤں کا fabricated دین ہے، پارسیوں کا fabricated دین ہے، یہودیوں کا، عیسائیوں کا۔ اس میں جس، جو مرضی بات داخل کر لیں، جو مرضی بات نکال لیں۔ اب انجیل کتنی قسمیں ہیں؟ مطلب ظاہر ہے وہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ آپ مختلف زمانوں کی انجیلوں کو پڑھیں تو آپس میں کوئی consistency نہیں۔ اس طرح تورات کا، اس طرح مطلب ہے جو، کیونکہ ان میں تحریف کر چکے ہیں، اور وہ اپنی طرف سے اس میں چیزیں داخل کر لیتے ہیں، اپنی طرف سے چیزیں نکال لیتے ہیں۔ اسلام ایسا دین ہے جس کے اندر یہ چیز ممکن نہیں ہے۔ اس میں یہ ہے کہ اگر کوئی بھی بات ہوگی تو ظاہر ہے وہ پن پوائنٹ ہو جائے گی۔ جیسے ایک دفعہ یہ احمد چھوٹا سا تھا، یہ اس وقت حفظ کر رہا تھا۔ میرے پاس آیا کہ ابو آج ہم نے ایک قرآن دیکھا ہے، اس میں ایک آیت میں ایک لفظ غلط لکھا ہوا تھا، دوسرا لکھا ہوا تھا۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ تو کچھ دنوں کے بعد اس قرآن کا ذکر آ گیا کہ اس کو وزارتِ مذہبی امور نے ضبط کر لیا۔ کہ اس میں آیتیں ٹھیک نہیں لکھی ہوتیں۔ ایک باقاعدہ پورا سیکشن اس کے لیے مختص ہے وزارتِ مذہبی امور میں جو اس چیز کو find کرتے رہتے ہیں۔ کہ اگر قرآن کے اندر کسی نے اپنی طرف سے کوئی چیز لگائی ہو یا نکالی ہو تو اس کو ضبط کر لیں۔ اور اس کو پھر آئندہ مارکیٹ میں نہ آنے دیں۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے اللہ پاک کا نظام ہے، اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جبکہ باقی جگہوں پر اس قسم کے ہوتے ہیں۔ تو اب یہاں پر بھی ان لوگوں کا چونکہ مین میڈ تھا۔ لہذا اپنی طرف سے حکم لگایا کہ یہ کوئی نہیں کھا سکتا۔ پھر جن کو اجازت دیتے ہیں ان کو اجازت دیتے تھے۔ کیونکہ مین میڈ تھا۔

ترجمہ: اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن کی پشت حرام قرار دے دی گئی ہے،

حاشیہ: یہ ایک اور رسم تھی کہ کسی سواری کے جانور کو کسی بت کے نام وقف کر دیتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ اس پر سواری کرنا حرام ہے۔

وہی مین میڈ چیز۔

ترجمہ: اور کچھ چوپائے وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ اُن پر اللہ کا نام نہیں لیتے۔

حاشیہ: بعض جانوروں کے بارے میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیا جاسکتا، نہ ذبح کرتے وقت، نہ سواری کے وقت، اور نہ اُن کا گوشت کھاتے وقت۔ چنانچہ اُن پر سوار ہو کر حج کرنے کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔

تو بس اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔

ترجمہ: جو افترا پردازی یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ ﴿138﴾ نیز وہ کہتے ہیں کہ: ”ان خاص چوپایوں کے پیٹ میں جو بچے ہیں وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہیں، اور ہماری عورتوں کے لئے حرام ہیں“۔ اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو اُس سے فائدہ اُٹھانے میں سب (مرد و عورت) شریک ہوجاتے ہیں۔

حاشیہ: یعنی بچہ اگر زندہ پیدا ہو جائے تو صرف مردوں کے لئے حلال ہوگا، عورتوں کے لئے حرام، لیکن مردہ پیدا ہو تو مردوں عورتوں دونوں کے لئے حلال۔

تو اس طرح یہ بہت، یہ ہندوؤں میں ہم دیکھتے ہیں کہ اتنی ساری چیزیں مطلب ان لوگوں نے بنائی ہیں اور کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے، symbolically یہ وجہ یہ ہے، فلاں جگہ تل لگانا ہے تو اس کا یہ ہوتا ہے، فلاں چیز کا یہ ہوتا ہے۔ تو انہوں نے اپنی طرف سے fabrication کی ہے۔ اور وہ change ہوتی رہتی ہے۔ تو یہ ظاہر ہے ان کی اس fabrication کی وجہ سے۔

ترجمہ: جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب اُن کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یقیناً وہ حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک ﴿139﴾ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو کسی علمی وجہ کے بغیر محض حماقت سے قتل کیا ہے، اور اللہ نے جو رزق ان کو دیا تھا اُسے اللہ پر بہتان باندھ کر حرام کر لیا ہے۔ وہ بری طرح گمراہ ہوگئے ہیں، اور کبھی ہدایت پر آئے ہی نہیں۔ ﴿140﴾

تو اصل میں واقعی۔ اپنی جگہ سے کوئی کٹ جائے نا تو پھر وہ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوتا ہے، پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں گرتا ہے۔ تو قرآن پاک میں بھی آتا ہے کہ جس نے شرک کر لیا۔ تو ایسا ہے جیسے آسمان سے گرا۔ یا پھر کسی پرندے نے اچک لیا۔ یا پھر کسی گہری کھائی میں گر کے پاش پاش ہو گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یا بدعات وغیرہ میں مبتلا ہو جاتا ہے، یا پھر شرک اور پتہ نہیں کیا، اور گھاٹیوں میں گر جاتا ہے، عجیب و غریب۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔