معاشرتی بے حیائی اور عذابِ الٰہی کی مختلف شکلیں
درس نمبر: 293، سورۃ الاعراف، آیات: 80 تا 84
قومِ لوط ہم جنسی کی خباثت کے باعث ہلاک ہوئی۔
ٹرانس جینڈر بل جیسی خباثت سے عذابات آ سکتے ہیں۔
اس امت پر عذاب آپس کی نااتفاقی اور جنگ ہے۔
خوابِ نبوی کے ذریعے اہلِ کراچی کو تنبیہ کی گئی۔
کراچی کی بدامنی اور اسٹریٹ کرائم دراصل عذاب ہے۔
آنکھیں کھولنے کے لیے قرآن اور حدیث دیکھنا چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (80) اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ (81) وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ (82) فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ (83) وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ (84)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور ہم نے لوط کو بھیجا، جب اُس نے اپنی قوم سے کہا: ”کیا تم اُس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دُنیا جہان کے کسی شخص نے نہیں کی؟ ﴿80﴾
حاشیہ: حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے۔ بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اُردن کے شہر سدوم (Sodom) میں پیغمبر بنا کر بھیجا۔ سدوم ایک مرکزی شہر تھا، اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں۔ کفر و شرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (Homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دُنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچائے، اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی، اور ان تمام بستیوں کو اُلٹ دیا گیا۔ آج بحرمیت (Dead Sea) کے نام سے جو سمندر ہے، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تو اُس میں ڈوب گئی ہیں، یا اُس کے آس پاس تھیں جن کا نشان واضح نہیں رہا۔ حضرت لوط علیہ السلام کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا، پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کہا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ اُمت تھی جس کی طرف اُن کو بھیجا گیا تھا۔ ان کے واقعے کی سب سے زیادہ تفصیل سورۂ ہود (11:69 تا 83) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورۂ حجر (15:52 تا 73)، سورۂ شعراء (26:160 تا 174) اور سورۂ عنکبوت (29:26 تا 35) میں بھی ان کے واقعے کی کچھ تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نیز سورۂ ذاریات (51:24 تا 37) اور سورۂ تحریم (66:10) میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔
ترجمہ: تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لئے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں،) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو“ ﴿81﴾ اُن کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ: ”نکالو اِن کو اپنی بستی سے! یہ لوگ ہیں جو بڑے پاکباز بنتے ہیں!“ ﴿82﴾ پھر ہوا یہ کہ ہم نے اُن کو (یعنی لوط علیہ السلام کو) اور ان کے گھر والوں کو (بستی سے نکال کر) بچالیا، البتہ اُن کی بیوی تھی جو باقی لوگوں میں شامل رہی (جو عذاب کا نشانہ بنے) ﴿83﴾ اور ہم نے اُن پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی۔ اب دیکھو! ان مجرموں کا انجام کیسا (ہولناک) ہوا؟ ﴿84﴾
اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔ اللہ خیر کرے، آج کل بھی ہماری اسمبلی میں ایک بل پیش ہوا چاہتا ہے۔ اور وہ ہے بہت شرمناک، وہ transgender کے نام سے۔ اس میں بھی بنیادی بات یہی ہے۔ یعنی اس کو فروغ دینے کے لیے یہ چیز کی کوشش کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں کے شر سے بچائے۔ یہ ہمارے اندر موجود ہیں۔ اور یہ خباثت اگر اس میں یہ کامیاب ہو گئے، تو پھر اللہ تعالیٰ نہ کرے یہاں بھی عذابات آ سکتے ہیں جیسے کہ ابھی یہ عذاب کرونا کا گزر گیا یا جو دوسرا عذاب یہ سیلاب کا ہے۔ ایک وہ ہے، مطلب یعنی وہ آتا ہے جو ویڈیوز وغیرہ بناتے ہیں۔ تو اس میں انہوں نے، یعنی اس چیز سے بھی لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور وہ کہتے ہیں کہ یہ عذاب نہیں ہے۔ عذاب تو وہ ہوتا ہے جو کہ بالکل ہی تباہی مچا دے اور وہ بستیاں الٹا دے یا چیزیں سب کو ختم کرے۔ یہ وہ عذاب اصل میں اس کو سمجھ رہے ہیں جو گزشتہ امتوں پہ آتے تھے۔ گزشتہ امتوں پہ عذاب جب آتے تھے تو وہ مکمل ہی ان کا وہ کر لیتے تھے، قلع قمع کر لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس امت پر اس قسم کا عذاب نہیں آتا کہ پوری کی پوری ختم کی جائے۔ البتہ مختلف صورتوں میں، حدیث شریف میں موجود ہے، مختلف صورتوں میں وہ اس قسم کا عذاب آتا ہے۔ جیسے یہ آپس میں جنگ و جدل، یہ بھی ایک عذاب ہوتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش جب نہیں بنا تھا تو مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں آئی تھیں۔ پھر اس کے بعد جب یہ آیا تو یہ مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کے بعد ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں کسی نے دیکھا اور فرمایا کہ "یہ تو آ گیا ہے لیکن اگر تم لوگ سیدھے نہیں ہوئے تو پھر آپس میں نااتفاقی کا عذاب ہوگا۔" نااتفاقی کا عذاب تو پھر آ گیا۔ یہ کراچی کا مجھے یاد ہے خوب، کہ جرمنی میں تھا میں ادھر۔ ادھر میں نے ایک پمفلٹ مجھے کسی نے دیا، یہ پمفلٹ جو ہے یہ مطلب میرے خیال میں پچاسی سے لے کر ستاسی تک چونکہ ادھر تھا، تو اس سے پہلے پہلے کی بات تھی۔ یہ پمفلٹ ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بیان تھا۔ اس میں حضرت نے فرمایا تھا کہ میرے پاس ایک بوڑھا آدمی آیا پٹھان، اور اس نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "یہاں والوں کو بتاؤ یعنی کراچی والوں کو، کہ مطلب یہ غلط کام نہ کریں بے حیائی اور اس قسم کی چیزیں تھیں، یہ نہ کریں تو ورنہ پھر یہ ہے کہ تم پر عذاب آ سکتا ہے۔ اور میری یہ بات سب تک پہنچا دو۔" کہتے ہیں میں نے اپنے محلے کے امام سے بات کی تو انہوں نے اس پہ بیان کر لیا۔ پھر اس کے بعد دوبارہ آیا کہ آپ نے میرا پیغام نہیں پہنچایا، تو میں نے کچھ اور حضرات کو بھی پہنچایا۔ تو اس کے بعد پھر آیا کہ میں نے، تم نے میرا پیغام نہیں پہنچایا تو میں ڈر رہا ہوں کہ میں کیا کروں، میری آواز تو اتنی بلند نہیں ہے۔ تو آپ سے میں درخواست کر رہا ہوں کہ آپ کس طریقے سے اس کو پہنچائیں۔ پھر حضرت نے اس پر بیان فرمایا، تو وہ بیان چھپ گیا تھا۔ اس میں حضرت نے بڑی تفصیل کے ساتھ واقعات بتائے تھے، تو وہ چیزیں جو تھیں کراچی میں، وہ تو میں نے خود اپنی آنکھوں سے بھی دیکھی تھیں۔ 1974 کے اس بارے میں، تو وہ چیزیں تو میں نے دیکھیں جو اس کے بیان میں موجود تھیں۔ تو اس کے بعد فوری طور پر کچھ عرصے کے بعد، وہ عذاب جو آیا کہ پورا کراچی شہر جو کہ اتنا محفوظ شہر تھا کہ رات کے دو بجے بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ رات ہے۔ اس طرح شہر وہ جاگ رہا ہوتا تھا اور امن و امان تھا سارا کچھ، غریب پرور تھا۔ غریب پرور سے مراد یہ ہے کہ غریب لوگوں کا، مطلب یہ ہے کہ یہاں اگر تین روپے کا کھانا ملتا تھا وہاں دس آنے کا ملتا تھا۔ اتنا مطلب غریب پرور شہر تھا۔ لیکن پھر ایسا ہوا کہ افو پھر جب ہم گئے تو کافی عرصے کے بعد، تو دیکھا کہ گیٹس لگے ہوئے ہیں streets کے اوپر۔ اور کوئی محفوظ نہیں تھا، اب بھی دیکھ لیں آپ کہ کون سی صورت ہے، کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، وہ street criminals جو ہیں مطلب وہ پوری زندگی اپنا چھائے ہوئے ہیں۔ تو مقصد یہ ہے کہ عذاب یہ ہے، یہ عذاب ہے۔ ان چیزوں کو عذاب نہ سمجھ کر وہ اصل میں ان باتوں کو ہلکا کرنا چاہتے ہیں جو کہ مذاق کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرمائے۔ اور ہمیں، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے تو قرآن پاک کی آیات ہیں، احادیث شریفہ ہیں، ہمیں اس کو دیکھنا چاہیے ویسے لوگوں کی باتیں نہیں سننی چاہئیں۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔