حق سے روگردانی اور انسانی غفلت کا عبرتناک انجام

درس نمبر: 292، سورۃ الاعراف، آیات: 75 تا 79

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قومِ ثمود کا تکبر اور انجامِ بد

ماضی کو بھولنا اور وقتی فائدے کی محبت

تکلیف میں عاجزی، آسانی میں بے پروائی

بار بار کی غفلت اور عبرت کی ضرورت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ (75) قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ (76) فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (77) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ (78) فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰـكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ (79)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اُن کی قوم کے سرداروں نے جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، اُن کمزوروں سے پوچھا جو ایمان لے آئے تھے کہ: ”کیا تمہیں اِس بات کا یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ: ”بیشک ہم تو اُس پیغام پر پورا ایمان رکھتے ہیں جو اُن کے ذریعے بھیجا گیا ہے“ ﴿75﴾ وہ مغرور لوگ کہنے لگے: ”جس پیغام پر تم ایمان لائے ہو، اُس کے تو ہم سب منکر ہیں“ ﴿76﴾ چنانچہ انہوں نے اُونٹنی کو مار ڈالا، اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی، اور کہا: ”صالح! اگر تم واقعی ایک پیغمبر ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو!“ ﴿77﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں زلزلے نے آپکڑا، اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے ﴿78﴾ اس موقع پر صالح اُن سے منہ موڑ کر چل دیئے، اور کہنے لگے: ”اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا، اور تمہاری خیر خواہی کی، مگر (افسوس کہ) تم خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے“ ﴿79﴾

اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اصل میں واقعی جب انسان اپنی برائی پہ ڈٹ جائے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ضائع کر دے، تو پھر ان کو نصیحت، ان کے لیے نصیحت بے کار ہو جاتی ہے۔ تو ان لوگوں نے چونکہ فیصلہ کر لیا تھا، حالانکہ اپنے سے پہلے قومِ عاد کے بارے میں ان کو آگاہی ہو گی، لیکن بس انسان وقتی طور پر چیزوں سے زیادہ اثر لیتا ہے، نہ ماضی سے زیادہ اثر لیتا ہے، نہ مستقبل سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ماضی کو بھول جاتا ہے، مستقبل کی پرواہ نہیں کرتا۔ تو اس کو اللہ پاک نے ایک ہی آیت میں اس چیز کو سامنے واضح فرما دیا، كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْاٰخِرَةَ۔ ہرگز نہیں، بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو، اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے وہ چھوڑ دیتے ہو۔ اور یہ جو واقعات جتنے بھی آئے ہوئے ہیں، یہ اس بات پہ گواہ ہیں کہ لوگ اپنے ماضی کا بھی خیال نہیں کرتے۔ جتنی سخت سے سخت تکلیفیں آ چکی ہوں، بلکہ یہی بات ہے کہ ایک شخص ہے بیمار ہے۔ تو بیمار ہے تو بہت زیادہ دعائیں کرتا ہے اور لوگوں سے بھی کہتا ہے، اور بس نیت کر لیتا ہے کہ اب میں ٹھیک ہو گیا تو بالکل صحیح کام کروں گا، یہ نہیں کروں گا، وہ نہیں کروں گا۔ وہ سارا کچھ کرنے کے بعد جس وقت ٹھیک ہو جاتا ہے، بالکل پھر وہی کا وہی ہو جاتا ہے۔ بالکل ہمارے معاشرے میں سامنے کی باتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح وہ بھول جاتا ہے۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ انسان کو اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں، ہمارے پاس بھی لوگ آتے ہیں۔ بعض دفعہ کوئی لوگ بھیج دیتے ہیں، بعض دفعہ خود ان کو کسی طریقے سے پتا چل جاتا ہے۔ تو وہ جب آتے ہوئے، بڑی ناگفتہ بہ حالت ہوتی ہے، اور پریشان ہوتے ہیں، اور ہر چیز ماننے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ لیکن جب اللہ پاک ان کو صحت عطا فرماتے ہیں، برے حالات سے، یعنی وہ نکل آتے ہیں، تو بس پھر اس کے بعد پرواہ نہیں ہوتی۔ پھر بعد میں جب ان چار پانچ سال کے بعد پھر کوئی دھچکا لگتا ہے، پھر ٹیلی فون کرتے ہیں، جی حضرت! میں نے آپ سے بیعت ہوا تھا، یہ ہو گیا تھا، وہ ہو گیا تھا۔ تو یہ ساری چیزیں مطلب ہمیں بھی نظر آ رہی ہیں، تو جیسے ہمیں نظر آ رہی ہیں ہماری تو بڑی لمٹڈ، یعنی مطلب وہ ہے۔ تو پیغمبروں کی تو بڑی بات تھی، مطلب ظاہر ہے، ان کا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایسی چیزوں سے بچائے جو کہ ہمیں خطرناک حالات کی طرف لے جائیں۔ ہماری اللہ پاک حفاظت فرمائے ایسی چیزوں سے،

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

حق سے روگردانی اور انسانی غفلت کا عبرتناک انجام - درسِ قرآن - پہلا دور