قومِ ثمود کی سرکشی اور عبرتناک انجام

درس نمبر: 291، سورۃ الاعراف، آیات: 73 تا 74

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حضرت صالح علیہ السلام کی دعوتِ توحید اور قوم کی نعمتیں

اللہ کی اونٹنی (بطور معجزہ اور آزمائش)

عہد شکنی، اونٹنی کا قتل اور عذابِ الٰہی

مادی طاقت پر غرور اور نفس کی پیروی کا انجام

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (73) وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (74)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔

حاشیہ: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی، اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے مؤمن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے، یہ ان کی اولاد تھی، اور ثمود اُن کے دادا کا نام تھا۔ اسی لئے ان کو عادِ ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اُس علاقے میں آباد تھی جس کو اُس وقت ”حجر“ کہا جاتا تھا، اور آج کل اُسے ”مدائن صالح“ کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں، اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے، آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ عرب کے مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے، اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر انہیں اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس قوم میں بھی رفتہ رفتہ بت پرستی کی بیماری پیدا ہوگئی تھی، اور اس کے نتیجے میں بہت سی عملی خرابیاں پھیل گئی تھیں۔ حضرت صالح علیہ السلام اسی قوم کے ایک فرد تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کو راہِ راست دکھانے کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا۔ لیکن یہاں بھی وہی صورت پیش آئی کہ قوم کی اکثریت نے ان کی بات نہیں مانی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے جوانی سے بڑھاپے تک مسلسل اُن کو تبلیغ جاری رکھی۔ آخر کار ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ ہمارے سامنے کے پہاڑ سے کوئی اُونٹنی نکال کر دکھا دیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے دُعا فرمائی، اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اُونٹنی بھی نکال کر دکھا دی۔ اس پر کچھ لوگ تو ایمان لے آئے، مگر بڑے بڑے سردار اپنے عہد سے پھر گئے، اور نہ صرف یہ کہ اپنی ضد پر اڑے رہے، بلکہ جو دوسرے لوگ ایمان لانے کا ارادہ کر رہے تھے انہیں بھی روک دیا۔ حضرت صالح علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آجائے گا، اس لئے انہوں نے فرمایا کہ کم از کم اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اس اُونٹنی کو تم آزاد چھوڑے رکھو، اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ۔ اور اُونٹنی کو چونکہ پورے کنویں کا پانی درکار ہوتا تھا اس لئے اس کی باری مقرر کر دی کہ ایک دن اُونٹنی کنویں کا پانی پیئے گی اور دوسرے دن آبادی کے لوگ پانی لیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ قوم کے کچھ لوگوں نے اُونٹنی کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا، اور آخر کار ایک شخص نے جس کا نام قدار تھا، اس کو قتل کرڈالا۔ اس موقع پر حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں متنبہ کیا کہ اب ان کی زندگی کے صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے بعد وہ عذاب سے ہلاک کر دیئے جائیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان تین دنوں میں سے ہر دن اُن کے چہروں کا رنگ بدل جائے گا۔ یعنی پہلے دن رنگ پیلا، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن کالا ہوجائے گا۔ اس کے باوجود اس ضدی قوم نے توبہ اور استغفار کرنے کے بجائے خود حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورۃ نمل (27:48 و 49) میں فرمایا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں راستے ہی میں ہلاک کر دیا، اور ان کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔ آخر کار تین دن اسی طرح گزرے جیسے حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا، اسی حالت میں شدید زلزلہ آیا، اور آسمان سے ایک ہیبت ناک چیخ کی آواز نے ان سب کو ہلاک کرڈالا۔ حضرت صالح علیہ السلام اور اُن کی قوم کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود (11:61)، سورۂ شعراء (26:141)، سورۂ نمل (27:45) اور سورۂ قمر (54:23) میں آیا ہے۔ نیز سورۂ حجر، سورۂ ذاریات، سورۂ نجم، سورۂ الحاقہ اور سورۂ شمس میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔

ترجمہ: انہوں نے کہا: ”اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اُونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ اس لئے اس کو آزاد چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے، اور اسے کسی برائی کے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں ایک دُکھ دینے والا عذاب آپکڑے ﴿73﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کے بعد جانشین بنایا، اور تمہیں زمین پر اس طرح بسایا کہ تم اُس کے ہموار علاقوں میں محل بناتے ہو، اور پہاڑوں کو تراش کر گھروں کی شکل دے دیتے ہو۔ لہٰذا اللہ کی نعمتوں پر دھیان دو، اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو“ ﴿74﴾

تو یہ اصل میں سورۃ شمس میں بھی اس کا جیسے کہ ابھی ذکر آ گیا کہ آیا ہے ذکر۔ وہاں پر جس انداز میں ایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا نفس جو ہے، اگر اس کی اصلاح نہ ہو۔ تو اس کی سرکشی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں آ جاتے ہیں۔ یہاں پر بھی دیکھیں ساری چیز مطلب بتا دی گئی کہ کس طرح وہ اللہ کی نافرمانی میں کتنے آگے بڑھ گئے تھے۔ اور نبی ان کو سمجھاتا رہا۔ لیکن وہاں جس خاص بات کا تذکرہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ بدبخت قدار جو تھا وہ جو اٹھا، جس کو اللہ پاک نے سورۃ شمس میں أَشْقَاهَا کہا ہے۔ وہ اپنے نفس کی خواہش یعنی رنڈیوں کی وجہ سے کہ رنڈیوں نے انہیں کہا تھا کہ تم اس کو مارو، تو پھر ہم تمہارے ہو جائیں گے۔ تو اس نے مارنے کا ارادہ کیا۔ اس پر صالح علیہ السلام نے اسے کہا کہ اس کو نہ مارو، یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ تو وہ ظالم نہیں مانا۔ اور عقار کر ڈالا اس کا۔ جب یہ ہو گیا تو پھر چونکہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ تو بس اس کے بعد پھر یہ ہے کہ جیسے ابھی اس میں تفصیل آ گئی ہے کہ تین دن اس کے ان کے رنگ بدلتے گئے اور پھر بعد میں زلزلہ آیا اور چیخ کے ساتھ وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ تو یہ دو قومیں جو تھیں بالکل ساتھ ساتھ جو رہی ہیں یعنی قوم عاد اور قوم ثمود۔ ان کی سرکشی بالکل واضح تھی۔ اور اللہ جل شانہ نے ان کو ان کی سرکشی پر پکڑا اور ان کو ہلاک کر ڈالا۔ یہ دونوں ہنر والے لوگ اور طاقت والے لوگ تھے۔ قوم عاد میں طاقت بہت زیادہ تھی، زراعت کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے۔ اور ان میں ہنر بہت زیادہ تھا، یہ محلات بناتے تھے اور ہے کہ یعنی گھر بناتے تھے پہاڑوں کے اندر۔ تو اس سے پتہ چلا کہ انسان کی جو عارضی طاقت ہے یہ ان کے کچھ کام نہیں آتی اگر اللہ پاک ان کو تباہ کرنا چاہے۔ لیکن انسان اسی زعم میں وہ جس کو ہم کہتے ہیں کہ تھوڑی سی جگہ کو دیکھتے ہیں اور تھوڑے سے ٹائم کو دیکھتے ہیں۔ اس تھوڑی سی جگہ Timing space جس کو ہم کہتے ہیں۔ لوگ اس میں گرفتار ہیں۔مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی جگہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس میں ہمیں کیا حاصل ہیں۔ اور تھوڑا سا ٹائم اس میں دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ بس اسی کی وجہ سے وہ ایک وسیع جہان اور ایک وسیع وقت اس سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً پھر ان کو نہ صرف شرمندگی ہوتی ہے بلکہ ایک مستقل عذاب۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسے انجام سے بچائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

قومِ ثمود کی سرکشی اور عبرتناک انجام - درسِ قرآن - پہلا دور