قومِ عاد: آباء پرستی کی گمراہی، سرکشی اور عبرتناک انجام
درس نمبر: 290، سورۃ الاعراف، آیات: 70 تا 72
آباء و اجداد کی اندھی تقلید اور حق سے انکار
بے دلیل بت پرستی اور اللہ کے غضب کا فیصلہ
اہلِ ایمان کی نجات اور جھٹلانے والوں کا خاتمہ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (70) قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (71) فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ (72)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: انہوں نے کہا: ”کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں، اور جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں، انہیں چھوڑ بیٹھیں؟ اچھا اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہمارے سامنے وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دے رہے ہو!“ ﴿70﴾ ہود نے کہا: ”اب تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور قہر کا آنا طے ہوچکا ہے۔ کیا تم مجھ سے (مختلف بتوں کے) اُن ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں، جن کی تائید میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی؟ بس تو اب تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں“ ﴿71﴾ چنانچہ ہم نے اُن کو (یعنی ہود علیہ السلام کو) اور اُن کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ذریعے نجات دی، اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ ڈالی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اور مؤمن نہیں ہوئے تھے ﴿72﴾
یہ اصل میں قوم عاد اس کے بارے میں جو بات تھی۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کے پاس آئے۔ اور ان کو دعوت دی۔ تو انہوں نے وہی چیز جو کہ کافر لوگ کرتے آ رہے ہیں۔ کہ وہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اس چیز پر دیکھا ہے۔ تو ہم تمہارے کہنے سے کیوں اس کو چھوڑ دیں؟ مطلب یہ والی بات سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ تو ہود علیہ السلام نے ان سے پھر وہ یہی بات کی کہ مطلب تم کیوں اس طرح، تو اس پر وہ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے اگر تم عذاب کی بات کر رہے ہو تو وہ عذاب ہمارے اوپر لے آؤ۔ تو پھر ہود علیہ السلام نے ان سے کہا کہ وہ عذاب تمہارے لیے طے ہو چکا ہے۔ یہ بات ہے کہ مطلب کفار جو ہیں جتنے بھی ہیں۔ وہ یعنی اپنی زندگی کے جو مزوں میں ہیں۔ یا اپنی عادتوں میں ہیں۔ یا اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں اتنے مست ہوتے ہیں۔ کہ وہ اس کو تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتے۔ اور جو چیزیں ان کے آباؤ اجداد کی طرف سے آ رہی ہوتی ہیں۔ ان کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ اصل میں واقعتاً ایسے ہی ہوتا ہے کہ جو لوگ مطلب اپنے آباؤ اجداد کے اوپر فخر کرتے ہیں کہ ہم ایسے ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد ایسے تھے۔ تو پھر وہ ان کی ہر غلط اور صحیح چیز کو لے لیتے ہیں۔ صحیح چیز کو بھی لیتے ہیں، غلط چیز کو بھی لیتے ہیں۔ حالانکہ طریقہ کار یہ ہے کہ جو غلط چیز ہے وہ کسی کی نہ لی جائے اور صحیح چیز لے لی جائے۔ تو لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے، وہ ہر ایک چیز لیتے ہیں، تو چونکہ ان کے ہاں بتوں کی عبادت جاری تھی۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اس پر پایا، ہم اس کو کیوں چھوڑیں؟ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے انجام سے بچائے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ اس کے بعد جو آتا ہے ثمود کا واقعہ۔ تو ثمود کا واقعہ کافی تفصیلی ہے، ان شاء اللہ اس کو پھر کل بات کریں گے۔