اصلاحِ زندگی، حقیقتِ عبادت اور دل کی زرخیزی

درس نمبر: 287، سورۃ الاعراف، آیات: 56 تا 58

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

زمین میں نافرمانی نہ پھیلانا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے بھی اس کے فضل کی امید رکھنا

"قدرت کی نشانی: مردہ زمین کا زندہ ہونا اور عقیدۂ آخرت کا ثبوت"

اچھی زمین کی طرح دل کو صاف رکھنا تاکہ قرآنی نصیحت اور نیک صحبت دل پر اثر کرے

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56) وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِ جُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (57) وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًا ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ (58)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور زمین میں اُس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو،

حاشیہ: زمین پر اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو بھیجا تو شروع میں نافرمانی کا کوئی تصور نہیں تھا، اور اس طرح زمین کی اصلاح ہو چکی تھی۔ جن جن لوگوں نے بعد میں نافرمانی کے بیج بوئے انہوں نے زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد مچایا۔

ترجمہ: اور اُس کی عبادت اس طرح کرو کہ دل میں خوف بھی ہو اور اُمید بھی۔

حاشیہ: یہاں دعاء کا صیغہ اکثر مفسرین کے نزدیک عبادت کے لئے آیا ہے، اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ عبادت سے کیا ہے۔ اور سچی عبادت کی شان اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ عبادت کرنے والے کے دل میں اپنی عبادت پر ناز ہونے کے بجائے یہ خوف ہونا چاہئے کہ نہ جانے میں عبادت کا حق ادا کر سکا یا نہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کی مستحق ہے یا نہیں۔ دوسری طرف اسے اپنی عبادت کی کوتاہیوں سے مایوسی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ اُمید بھی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اسے قبول فرما ہی لے گا۔ یعنی اپنی کوتاہی کا خوف اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بنیاد پر اُمید، دونوں چیزوں کا امتزاج ہے جو کسی عبادت میں سچائی پیدا کرتا ہے۔

ترجمہ: یقیناً اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے ﴿56﴾ اور وہی (اللہ) ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) کے آگے آگے ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم انہیں کسی مردہ زمین کی طرف ہنکا لے جاتے ہیں، پھر وہاں پانی برساتے ہیں، اور اُس کے ذریعے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو بھی زندہ کر کے نکالیں گے۔ شاید (ان باتوں پر غور کر کے) تم سبق حاصل کر لو۔﴿57﴾

حاشیہ: یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ایک مردہ زمین میں جان ڈال دیتا ہے، اسی طرح وہ مردہ انسانوں میں بھی جان ڈالنے پر قادر ہے۔ مردہ زمین کے زندہ ہونے کے واقعات تم روزمرہ دیکھتے ہو، اور یہ بھی مانتے ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتا ہے۔ اس سے تمہیں سبق لینا چاہئے کہ انسانوں کو دوبارہ زندگی دینے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر سمجھنا کتنی بڑی بے وقوفی ہے۔

ترجمہ: اور جو زمین اچھی ہوتی ہے اُس کی پیداوار تو اپنے ربّ کے حکم سے نکل آتی ہے، اور جو زمین خراب ہو گئی ہو، اُس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیوں کے مختلف رُخ دکھاتے رہتے ہیں، (مگر) اُن لوگوں کے لئے جو قدردانی کریں ﴿58﴾

حاشیہ: اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح اچھی زمین کی پیداوار بھی خوب ہوتی ہے، اسی طرح جن لوگوں کے دل میں طلب کی پاکیزگی ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جس طرح ایک خراب زمین پر بارش پڑنے کے باوجود اُس سے کوئی فائدہ مند پیداوار حاصل نہیں ہوتی، اسی طرح جن لوگوں کے دل ضد اور عناد سے خراب ہو چکے ہیں، اُن کو اللہ تعالیٰ کے کلام سے بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

یعنی انسان اپنے اندر طلب پیدا کرے۔ تو وہ جو طلب ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دل کی زمین صاف ہو جاتی ہے، پاک ہو جاتی ہے، اور پھر اس پر اللہ جل شانہ کا کلام بہت اثر کرتا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت بھی بہت اثر کرتی ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، کوئی گستاخی کر کے اپنے آپ کو اور بھی خراب کر لیتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

اصلاحِ زندگی، حقیقتِ عبادت اور دل کی زرخیزی - درسِ قرآن - پہلا دور