خرید و فروخت کے شرعی اصول اور کاروبار میں برکت کا راز

درس نمبر 72، باب الصدق، حدیث نمبر 59

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآنی آیت کی روشنی میں باہمی رضامندی (ایجاب و قبول) کی اہمیت اور مال کے حلال ہونے کی شرط۔

دھوکے سے عیب دار چیز بیچنے والوں پر فرشتوں کی لعنت اور احادیثِ مبارکہ کے حوالہ جات و تخریج۔

خرید و فروخت میں 'خیارِ مجلس' (سودا منسوخ کرنے کا اختیار) کی تشریح۔

کاروبار میں سچائی اختیار کرنے اور چیز کا عیب ظاہر کرنے کی برکات۔

جھوٹ بولنے اور عیب چھپانے سے برکت کا ختم ہونا اور اللہ کی ناراضگی کا سبب بننا۔

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ۔

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

کاروبار میں سچ کی برکت

(59) السَّادِسُ : عَنْ أَبِيْ خَالِدٍ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ : اَلْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَ بَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِيْ بَيْعِهِمَا ، وَ إِنْ كَتَمَا وَ كَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ: چھٹی حدیث : ”حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بائع، مشتری جب تک جدا نہ ہوں اختیار باقی رہتا ہے۔ یعنی بیچنے والا اور خریدنے والا جب تک جدا نہ ہو تو اختیار باقی رہتا ہے یعنی واپس کرنے کا۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور کھول کر وضاحت کردیں تو ان کے کاروبار میں برکت ہوگی اور اگر (عیب کو) چھپائیں کذب بیانی سے کام لیں تو ان کے کاروبار کی برکت ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔“

البيعان: باع يبيع مبيعاً ضرب سے بمعنی بیچنا۔ خریدنا صفت بائع۔

الخيار: خار خيرة وخيراً ضرب سے

اسی سے ہے اللّٰهُمَّ خِرْلِيْ۔ اے اللہ میرے لئے دونوں امروں میں سے بہتر انتخاب فرما۔ الخیار پسندیدگی کہتے ہیں

بائع اور مشتری کو کب تک اختیار باقی رہتا ہے؟ یہ فقہ کا مسئلہ ہے، المعاملات کی بات ہو۔"بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں اختیار باقی رہتا ہے۔"

یعنی گویا کہ جس نے کوئی چیز خرید لی اور دوسرے نے بیچ دی، تو جو دونوں اپنی جگہ پر موجود ہیں ابھی تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے، تو ان کا اختیار باقی رہتا ہے۔

اس حدیث پاک میں فرمایا جارہا ہے کہ خریدوفروخت میں بائع ومشتری دونوں کی مکمل رضامندی ہونی چاہئے۔

"لَا تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ"

جب بائع و مشتری دونوں نے ایجاب و قبول کرلیا تو رضامندی متحقق ہوگی لہٰذا اب ایک دوسرے کا مال حلال ہوگیا تو حدیث بالا کا بھی مطلب یہ ہے کہ بائع ومشتری دونوں کو چیز کے رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ بائع و مشتری دونوں ایجاب و قبول سے فارغ نہ ہوجائیں، جب بائع ومشتری ایجاب وقبول سے فارغ ہوگئے تو اب اختیار ختم ہوجائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ سچ بولیں اور چیز کے (عیب) کو بیان کردیں تو اس سودے میں برکت ڈالدی جاتی ہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر وہ عیب کو بیان نہ کرے تو اس پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے، ابن ماجہ کی حدیث شریف ہے

واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی عیب دار چیز کو اس طرح بیچے کہ اس کے عیب کو نہ بیان کرے تو وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہتا ہے یا یہ فرمایا کہ اس پر فرشتے ہمیشہ لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ایسی لعنتی چیزوں سے محفوظ فرما دے۔ اور خرید و فروخت کے معاملے میں احتیاط کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو چیز جائز ہے اس کو اختیار کرنے کا اور جو ناجائز ہے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تخریج حدیث: صحيح البخارى كتاب البيوع (باب بين البيعان و لم يكتما و نصحا) و صحيح مسلم كتاب البيوع (باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين) اخرجه امام احمد فى مسنده 15314/5 ، مصنف ابن ابى شيبة 124/7 الدارمى 250/2 ، والطيالسى 1316 ، ابن حبان 4904.


سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔


خرید و فروخت کے شرعی اصول اور کاروبار میں برکت کا راز - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور