نظامِ تخلیق، حقیقتِ استواء اور دعا و ذکر کے آداب

درس نمبر: 286، سورۃ الاعراف، آیات: 54 تا 55

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

کائنات کی تدریجی تخلیق انسان کو تحمل سکھاتی ہے۔

استواء علی العرش معلوم مگر اس کی کیفیت مجہول ہے۔

محوری گردش سے دن رات کا نظام بنتا ہے۔

دعا میں اونچی آواز اور ناممکن مطالبات ممنوع ہیں۔

ثوابی ذکر چپکے چپکے کرنا ریا سے خالی ہے۔

دل کے علاج کے لیے ذکرِ جہری جائز ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (54) اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۚ (55)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: یقیناً تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے،

یہ چھ دن کیا ہیں؟

حاشیہ: یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب دنوں کا حساب موجودہ سورج کے طلوع وغروب سے نہیں ہوتا تھا۔

کیونکہ سورج بنا ہی نہیں تھا۔ تو اس وقت کیا اس کا حساب ہو سکتا تھا؟

حاشیہ: اُس وقت کے دن کا شمار بظاہر کسی اور معیار پر کیا گیا ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور یوں تو اللہ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت تھی کہ وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے پوری کائنات وجود میں لے آتا، لیکن اِس عمل کے ذریعے انسان کو بھی جلد بازی کے بجائے اطمینان اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

یہ تَخَلُّقوا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ یہ اللہ پاک کے مطلب جو اخلاق ہیں یعنی اطوار ہیں طریقے ہیں تو اس کو یعنی ہمارے لیے بھی وہ کیا ہے معیار بنایا گیا ہے۔ جو انسان کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جو نہیں ہو سکتا اس پر تو مکلف ہی نہیں ہے۔ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا۔ لیکن جس چیز کا انسان مکلف ہے اس میں اللہ پاک کے جو اخلاق ہیں اس کو جیسے اللہ پاک تحمل فرماتے ہیں تو ہمیں بھی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اللہ پاک جلدی نہیں پکڑتے ہمیں بھی بہت جلدی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ اس طریقے سے مطلب اللہ پاک غفور ہیں ہمیں بھی معاف کرنا چاہیے۔ اللہ پاک رحیم ہیں تو ہمیں بھی رحم کرنا چاہیے مطلب یہ۔ تو یہاں پر یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس کو پلک جھپکنے میں نہیں بنایا بلکہ اس کو ایک ترتیب دی کچھ یعنی جس کو ہم کہتے ہیں تدریجی انداز میں اس کو بنایا۔ اب دیکھیں ماں کے پیٹ میں بچہ ہے وہ نو مہینے میں دس میں اس کا پورا process مکمل ہوتا ہے۔ اللہ پاک چاہیں تو آن کی آن میں ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ پاک کی قدرت ہے کہ وہ اس کو ایک خاص ترتیب سے ایک mechanism ایک طریقہ کار تخلیق جس کو ہم کہتے ہیں اس کے ذریعے سے اللہ پاک نے بنایا۔ تو اللہ پاک نے کائنات کو بھی تخلیق فرمایا تو اس تخلیق کو بھی اسی طرح ایک process سے گزارا گیا۔ اور وہ ایک چھ دن میں جو اللہ کو پتا ہے کہ وہ چھ دن کیا ہیں، اس کا کیا معیار تھا، وہ اللہ پاک کو پتا ہے، اس کے حساب سے اللہ پاک نے بنایا۔

ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ ؕ

یہاں پر استویٰ کا لفظ آیا ہوا ہے ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ۔

حاشیہ: ’استواء‘ عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں: ”سیدھا ہونا“، ”قائم ہونا“، ”قابو پانا“ اور بعض اوقات اس کے معنی بیٹھنے کے بھی ہوتے ہیں۔

لیکن یہ اللہ پاک کے ہاں اس کا کیا معنی ہے؟ یہ اللہ پاک کو پتا ہے۔ جیسے ابھی ہم نے بات کی کہ دن کیا تھا، تو اس طرح استویٰ کا بھی مطلب اللہ کو پتا ہے کہ اللہ پاک کیسے وہ۔ کیوں وجہ کیا ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اصطلاحات ہوتی ہیں، وہ کچھ لوگوں کے ہاں کچھ ہوتی ہیں اور کچھ لوگوں کے ہاں کچھ ہوتی ہیں۔ مثلاً ہمارے گاؤں ہے جہانگیرہ، تو اس کے ساتھ دریائے کابل بہتا ہے۔ دریائے کابل کے بالکل اس پار جہانگیرہ کے سیدھ میں ایک گاؤں ہے اس کو نڑئی کہتے ہیں، یا نوے کلے نودے۔ تو وہاں کے لوگ کمینہ یہ خاکسار کو کہتے ہیں اور ہمارے گاؤں میں کمینہ کا وہی معنی ہے جو اردو میں ہے۔ وہ بھائی خان ایک بڑے اچھے معزز آدمی تھے اس نڑئی کے۔ تو وہ ایک آدمی وہ کہہ رہے تھے، وہاں نڑے کے کہ بھائی خان بڑا کمینہ ہے۔ اور وہ تو ہمارے گاؤں میں بھائی خان کا رشتہ دار تھا کوئی۔ تو بڑا غصہ ہو گیا کہ قریب تھا کہ اس کے اوپر جھپٹ پڑتا۔ کہ اس کے ساتھ بات چونکہ اس نے جاری رکھی اس نے کہا کہ وہ کار میں آ رہا تھا تو میرے لیے کار کھڑی کی مجھے اپنے ساتھ بٹھا دیا۔ تو فوراً سمجھ گیا اچھا یہ کمینہ کا دوسرا معنی لے رہا ہے۔ تو معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ اب یہ بات ہے اسی طریقے سے اسْتِوَاء، اسْتِوَاء کا مطلب جو عام عربی میں ہے۔ وہ تو یہی ہے سیدھا ہونا، قائم ہونا، قابو پانا۔ یہ سب چیزیں۔ لیکن ظاہر ہے اللہ پاک کے لیے جو مناسب ہے۔ وہ تو اللہ پاک ہی جانتے ہیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ اس کا جو حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا اسْتِوَاء کے بارے میں۔ اسْتِوَاء عَلَى الْعَرْشِ۔ تو یہ متشابہات میں سے ہے۔ تو فرمایا، اَلِاسْتِوَاءُ مَعْلُومٌ اسْتِوَاء کا پتا ہے، معلوم ہے، ہوتا ہے۔ وَالْكَيْفُ مَجْهُولٌ اور اس کی جو کیفیت ہے وہ نہیں معلوم۔ وَالسُّؤَالُ عَنْهُ بِدْعَةٌ اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام نے نہیں کیا تو بس ہم کیوں کریں پھر؟ تو یہ بات ہے کہ یہ استواء کا مطلب۔

حاشیہ: اللہ تعالیٰ چونکہ جسم اور مکان سے پاک ہے، اس لئے اس کے ی بہ معنی سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ جس طرح کوئی انسان تخت پر بیٹھتا ہے، اس طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ بھی عرش پر بیٹھے ہیں۔ ”استواء“ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے، اور جمہور اہل سنت کے نزدیک اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے متشابہات میں شمار کیا گیا ہے جن کی کھود کرید میں پڑنے کو سورۂ آل عمران کے شروع میں خود قرآن کریم نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس کا کوئی بھی ترجمہ کرنا مغالطہ پیدا کر سکتا ہے۔ اسی بنا پر ہم نے یہاں اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ نہ اس پر کوئی عملی مسئلہ موقوف ہے۔ اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق استواء فرمایا جس کی حقیقت ہماری محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے۔

ترجمہ: وہ دن کو رات کی چادر اڑھا دیتا ہے، جو تیز رفتاری سے چلتی ہوئی اُس کو آ دبوچتی ہے۔ اور اُس نے سورج اور چاند تارے پیدا کئے ہیں جو سب اُس کے حکم کے آگے رام ہیں۔ یاد رکھو کہ پیدا کرنا اور حکم دینا سب اُسی کا کام ہے۔

تو یہ جو دن کے بعد رات آنا ہے، یہ اللہ پاک کی قدرتوں میں سے قدرت ہے۔ اللہ پاک نے زمین کو پانچ حرکتیں دی ہیں، ان میں سے ایک حرکت دوری ہے، دوسری وہ محوری ہے۔ تو محوری گردش کی وجہ سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ سورج کے سامنے جو حصہ آتا ہے وہ حصہ روشن ہوتا ہے اور جو نہیں آتا وہ تاریکی ہوتی ہے۔ تو تاریکی کا حصہ رات ہے اور جو روشن حصہ ہے وہ دن ہے۔ اس لیے وہاں پر دن ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ جو محور ہے یہ سیدھا بالکل نہیں ہے۔ اگر سیدھا ہوتا تو دن اور رات برابر ہوتے۔ لیکن یہ یہ ہے کہ تھوڑا سا ٹیڑھا ہے، ساڑھے تئیس درجے پہ ٹیڑھا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کے جو دن رات ہیں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یعنی بڑھتے ہیں پھر کم ہوتے ہیں پھر بڑھتے ہیں پھر کم ہوتے ہیں۔ تو اس طریقے سے مطلب گویا کہ اس کے اندر یہ پورا نظم پیدا کیا گیا ہے۔ جس کا باقاعدہ حساب ہو سکتا ہے ہم لوگ حساب کرتے ہیں نمازوں کے اوقات کے نقشے جو ہم بناتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر بناتے ہیں۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک نے اپنی قدرت سے ایسا نظام بنایا ہے۔ کہ اس کے اندر عجیب و غریب لیکن ہم چونکہ اس نظام کے عادی ہیں لہٰذا ہمیں محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی عجیب بات ہے۔ جو چیز انسان نے کبھی نہیں دیکھی ہو اور پھر دیکھ لے تو اس کو عجیب لگتی ہے اور جس کے ساتھ وہ پیدا ہوا ہے تو اس کو کیا عجیب لگے گا؟ تو یہی بات ہے۔

ترجمہ: بڑی برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے! (54) تم اپنے پروردگار کو عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے پکارا کرو۔ یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(55)

حاشیہ: اس حد سے گزرنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ بہت اونچی آواز سے دُعا مانگی جائے، اور یہ بھی کہ کوئی ناجائز یا ناممکن چیز طلب کی جائے، جو دُعا کے بجائے (معاذ اللہ) مذاق بن جائے، مثلاً یہ دُعا کہ میں ابھی آسمان پر چڑھ جاؤں۔ کفار بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی دُعائیں مانگنے کا مطالبہ کرتے تھے۔

تو یہ بات غلط ہے، اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔ دعا کا اپنا ایک ادب ہے۔ ان آداب کے ساتھ مطلب دعا مانگنی چاہیے۔ باقی یہ ہے کہ اللہ پاک سب کچھ کر سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ہم لوگوں کو اللہ پاک نے جس انداز میں پیدا کیا جیسے نا اللہ پاک ایک، اللہ پلک جھپک میں پوری کائنات کو پیدا کر دے لیکن اللہ پاک نے ایسے پیدا نہیں کیا۔ اس طریقے سے اللہ جل شانہ نے مطلب کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کہ باقاعدہ اسباب کے تحت رکھی ہوئی ہیں۔ تو وہ اسباب کے خلاف اگر کوئی شخص ایسے یقینی اسباب کے خلاف اگر کوئی دعا کر لے تو یہ بے ادبی کی دعا ہو گی۔ جیسا کوئی آدمی کہہ دے کہ میں شادی نہ کروں میرا بیٹا ہو جائے یہ۔ اب یہ بے ادبی کی گستاخی کی دعا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ پاک نے ایک نظام بنایا ہوا ہے اس نظام کا مذاق اڑا رہا ہے۔ تو یہ بات ہے کہ اس قسم کی بات مطلب نہیں مانگنی چاہیے اور چپکے چپکے۔ اس میں بھی بعض لوگ جو ذرا سیدھے قسم کے لوگ ہیں، گہرے سوچ والے نہیں ہیں، وہ اس میں بھی غلطی کر جاتے ہیں اور وہ یہ ہے، چپکے چپکے پکارا کرو تو یہ دعا کی بات ہے۔ اس کو لوگ ذکر کی طرف لے جاتے ہیں، ہاں۔ تو وہ ذکر جو ہے، وہ بھی جو ثوابی ذکر ہے، اس کا چپ چپ کے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ ریا سے خالی ہے۔ جو اپنے علاج کے لیے ذکر ہے، اس میں اتنی پابندی ضرور ہے کہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ لیکن باقی اپنے علاج کے لیے اگر وہ ذکر اس طرح کرتا ہے کہ اس سے اس کا دل متاثر ہو جائے، تو اس پر پابندی نہیں ہے۔ یہ بات ہے مطلب بعض لوگ ذرا اس میں بھی سختی کرتے ہیں۔ اور اس کی اس کا جو بنیادی نقطہ ہے نا وہ یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے اپنے سلسلوں کو fix کر دیا ہے، مطلب وہی اسی کو صحیح سمجھتے ہیں باقیوں کو صحیح نہیں سمجھتے۔ مثلاً نقشبندی سلسلے میں خاموشی کے ساتھ ہے۔ تو جو نقشبندی حضرات ہیں بعض ناسمجھ تو وہ کہتے ہیں یہ ذکر جہری وہ بدعت ہے۔ تو نہیں مطلب وہ بدعت نہیں ہے، کیونکہ اس میں یہ ہم اس کو مقصد نہیں سمجھ رہے، ہم اس کو ثواب کے ذریعے نہیں سمجھ رہے، ہم اس کو صرف یعنی اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں ثواب ان الفاظ کا ہو جاتا ہے۔ وہ اس میں جو ضرب و جہر ہے اس میں ہم ثواب نہیں سمجھتے۔ کیونکہ ضرب و جہر جو ہے وہ صرف انسان کے دل کو متاثر کرنے کے لیے ہے، باقی یہ نہیں ہے۔ اب دیکھیں ویسے آپ کسی دل کو مکا ماریں تو مر جائے گا یا مطلب ہے کہ منع کریں گے ڈاکٹر۔ لیکن جس وقت وہ کیا ہوتا ہے وہ جو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، تو پھر کیا کرتے ہیں اس کے ساتھ؟ CPR۔CPR وہ تو پوری کشتی ہوتی ہے دل کے ساتھ۔ تو اس وقت وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ یہ کہ علاج کے لیے۔ تو وہ ہمارے ایک ڈاکٹر تھے ہمارے دوست تھے، تو اس نے کہا کہ میرے patients میں ایک دم ایک عورت تھی وہ گر گئی، ہارٹ اٹیک ہو گیا اس کو۔ میرے پاس اس وقت کچھ اور وسائل نہیں تھے، تو وہ نیچے گری ہوئی تھی، تو میں نے اپنا انگوٹھا جو پیر کا تھا اس کے دل پر رکھ کر اس کو جھٹکا دیا۔ تو اس کا دل تو جاری ہو گیا لیکن اس کی تین پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ تو ان کے بیٹوں نے میرے خلاف کیس کر دیا۔ کیس کر دیا تو میں نے ان کو بتایا، میں نے کہا بالکل تم بے شک کیس کرو، لیکن مجھے صرف ایک بات پوچھنے دو کہ تمہیں صحیح پسلیوں کے ساتھ مردہ ماں چاہیے تھی یا ٹوٹی پسلیوں کے ساتھ زندہ ماں؟ میں تو اس کو، مر تو گئی تھی، میں تو اس کو واپس لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تو اس میں تو پھر جلدی ہوتی ہے، جلدی میں تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو پھر وہ سمجھ گئے تو انہوں نے بات چھوڑ دی۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ چیز ہوتی ہے کہ بعض دفعہ انسان کو اپنے علاج کے لیے out of the way جانا پڑتا ہے۔ تو وہ علاجی بات ہوتی ہے۔ وہ مقصدی بات نہیں ہوتی، وہ علاج، اس میں مقصد علاج ہوتا ہے اور باقی procedure مقصد نہیں ہوتے، وہ ذریعے ہوتے ہیں۔ بس یہ بات سمجھ میں آ جائے تو ان شاء اللہ العزیز کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ترجمہ: یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(55)

اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

نظامِ تخلیق، حقیقتِ استواء اور دعا و ذکر کے آداب - درسِ قرآن - پہلا دور