اہلِ جنت کے انعامات، دوزخیوں سے مکالمہ اور اصحابِ اعراف کا احوال

درس نمبر: 284، سورۃ الاعراف، آیات: 43 تا 47

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

جنت میں باہمی کینوں سے پاکی اور اللہ کا شکر

جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان سچائی کا مکالمہ

دین میں ٹیڑھ پیدا کرنے اور آخرت کا انکار کرنے والوں کا عبرتناک انجام

جنت کی اُمید اور دوزخیوں کے ساتھ شامل ہونے سے پناہ مانگنا

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (43) وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؕ قَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَ ۙ (44) الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ (45) وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ (46) وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (47)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور اُن کے سینوں میں (ایک دوسرے سے دُنیا میں) جو کوئی رنجش رہی ہوگی، اُسے ہم نکال باہر کریں گے۔

یہاں پر ایک خاص قسم کی بات ہے کہ چونکہ جنت میں ہر قسم کی تکلیف نہیں ہوگی اس لیے وہاں جو کسی میں کسی وجہ سے باہمی عداوت، کینے اور کدورت کا کوئی رہا ہوگا دنیا میں وہ یہیں نکال دیا جائے گا۔ تو یہ ہے کہ پھر

حاشیہ: اور تمام جنتی محبت، دوستی اور بھائی چارے کے ماحول میں رہیں گے۔

اصل میں ہوتا ہے مطلب دیکھیں ہوتا کیا ہے؟ فیصلہ اللہ تعالی کا مجموعی اعمال پر ہے۔ مجموعی اعمال سے مراد یہ ہے کہ ظاہر ہے غلطیاں بھی ہوتی ہیں، ٹھیک کام بھی ہوتے ہیں، گناہ بھی ہوتا ہے، ثواب بھی ہوتا ہے۔ تو اس کا جو اوور آل رزلٹ پلس مائنس کا ملا کے اگر پلس آتا ہے تو وہ جنتی ہوتے ہیں۔ اور اگر مائنس آتا ہے تو جہنمی ہوتے ہیں لیکن مسلمان کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ جہنمی بھی ہے لیکن اس کی سزا جب وہ بھگت رہا ہوگا جب وہ پوری ہو جائے گی تو وہ پھر زیرو پہ آ جائے گا پھر اس کے بعد پلس پہ آ جائے گا۔ اور اس کے بعد پھر جنت میں پہنچا دیا جائے گا دوزخ سے نکال دیا جائے گا۔ اب یہ مطلب ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیں کافر کے لیے تو ہمیشہ کے لیے جہنم ہے مسلمان کے لیے وقتی طور پہ جہنم ہے۔ تو جس وقت وہ پہنچ جائے گا تو اس کے وہ جی مثال کے طور پر کسی کے ساتھ بغض عداوت رہی ہے رنجش رہی ہے دنیا میں۔ تو وہ تو پلس مائنس کی وجہ سے بیلنس ہو کے جنت تو آ گیا لیکن وہ چیز تو موجود ہے مثلاً تو وہ اللہ تعالی ادھر سے نکال دیں گے۔ اور اللہ پاک ان کے آپس میں الفت و محبت پیدا کر لیں گے وہ چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ ٹھیک ہے یہی بات ہے۔

ترجمہ: اُن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے: ”تمام تر شکر اللہ کا ہے، جس نے ہمیں اس منزل تک پہنچایا۔ اگر اللہ ہمیں نہ پہنچاتا تو ہم کبھی منزل تک نہ پہنچتے۔ ہمارے پروردگار کے پیغمبر واقعی ہمارے پاس بالکل سچی بات لے کر آئے تھے۔“ اور اُن سے پکار کر کہا جائے گا کہ: ”لوگو! یہ ہے جنت! تم جو عمل کرتے رہے ہو، اُن کی بنا پر تمہیں اس کا وارث بنا دیا گیا ہے۔“ ﴿43﴾ اور جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے کہ: ”ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا، ہم نے اُسے بالکل سچا پایا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے بھی اُسے سچا پایا؟“ وہ جواب میں کہیں گے: ”ہاں!“ اتنے میں ایک منادی اُن کے درمیان پکارے گا کہ: ”اللہ کی لعنت ہے اُن ظالموں پر ﴿44﴾ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے، اور اُس میں ٹیڑھ نکالنا چاہتے تھے، اور جو آخرت کا بالکل انکار کیا کرتے تھے۔“ ﴿45﴾ اور ان دونوں گروہوں (یعنی جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک آڑ ہوگی، اور اعراف پر (یعنی اُس آڑ کی بلندیوں پر) کچھ لوگ ہوں گے جو ہر گروہ کے لوگوں کو اُن کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔

حاشیہ: یوں تو اعراف والے جنت اور جہنم دونوں کا خود نظارہ کر رہے ہوں گے، اس لئے اُنہیں جنتیوں اور دوزخیوں کو پہچاننے کے لئے کسی علامت کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن یہاں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ جنت اور دوزخ والوں کو دُنیا میں بھی ان کی علامتوں سے پہچانتے تھے، اور چونکہ یہ لوگ صاحب ایمان تھے، اس لئے انہیں دُنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے اتنی حس عطا فرمادی تھی کہ یہ متقی پرہیزگار لوگوں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ نیک لوگ ہیں، اور کافروں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ کافر ہیں (تفسیر کبیر امام رازی)۔

مطلب یہ اعراف چونکہ درمیانی جگہ ہے جہاں پر وہ جنت اور دوزخ کے درمیان بالکل ہوں گے۔ تو ایسی صورت میں وہ جب نظر ڈالیں گے تو دونوں طرف کے لوگوں کو پہچانیں گے ان کی نشانیوں سے۔

ترجمہ: اور وہ جنت والوں کو آواز دے کر کہیں گے: ”سلام ہو تم پر!“ وہ (اعراف والے) خود تو اُس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، البتہ اشتیاق کے ساتھ اُمید لگائے ہوئے ہوں گے ﴿46﴾ اور جب اُن کی نگاہیں کو دوزخ والوں کی سمت موڑا جائے گا تو وہ کہیں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان ظالم لوگوں کے ساتھ نہ رکھنا۔“ ﴿47﴾ اور اعراف والے اُن لوگوں کو آواز دیں گے جن کو وہ اُن کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ہر قسم کے امتحان سے بچائے اور ایمان پر قائم رکھے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے برے اعمال سے محفوظ فرمائے۔ اور اللہ تعالی ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہ رَبِّ العلمین۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا انک اَنْتَ السمیع العلیم۔ وَتُبْ علینا انک اَنْتَ التَّوَّابُ الرحیم۔ سُبْحَانَ ربک رَبِّ العزۃ عَمَّا یصفون وَسَلَامٌ علی المرسلین۔ وَالْحَمْدُ للہ رَبِّ العلمین برحمتک یا اَرْحَمَ الراحمین۔

اہلِ جنت کے انعامات، دوزخیوں سے مکالمہ اور اصحابِ اعراف کا احوال - درسِ قرآن - پہلا دور