مشرکانہ رسومات کا اصل سبب: حبِ دنیا اور عقیدۂ آخرت کی کمزوری

درس نمبر: 266، سورۃ الانعام، آیات: 133 تا 136

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. آخرت پر سچے یقین کے بغیر انسان دنیاوی نفع و نقصان کے ڈر سے شرک اور بے بنیاد رسموں کا شکار ہو جاتا ہے۔
  2. عرب کے مشرکین نے جہالت کے سبب لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے اور بیٹوں کو ذبح کرنے جیسی قبیح رسمیں اپنا رکھی تھیں۔
  3. انہوں نے پیداوار میں اللہ اور بتوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے اور اللہ کے مقابلے میں بتوں کے حصے کی زیادہ پرواہ کرتے تھے۔
  4. شرک کا یہ طرزِ عمل صرف ماضی کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی لوگ دنیاوی فائدے کے لیے اللہ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
  5. توحید کا حقیقی آغاز آخرت پر کامل یقین سے ہوتا ہے جو انسان کے تمام عقائد اور اعمال کو درست کر دیتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ (133) اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (134) قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ (135) وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآىٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآىٕهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآىٕهِمْ ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ (136)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور تمہارا پروردگار ایسا بے نیاز ہے جو رحمت والا بھی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دُنیا سے) اُٹھالے، اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لے آئے، جیسے اُس نے تم کو کچھ اور لوگوں کی نسل سے پیدا کیا تھا ﴿133﴾ یقین رکھو کہ جس چیز کا تم سے وعدہ (۶۵) کیا جارہا ہے اُس کو آنا ہی آنا ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے ﴿134﴾ (اے پیغمبر! ان لوگوں سے) کہو کہ: ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کرو، میں (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہا ہوں۔پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس دُنیا کا انجام کس کے حق میں نکلتا ہے۔ یہ حقیقت (اپنی جگہ) ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔"﴿135 اور اللہ نے جو کھیتیاں اور چوپائے پیدا کئے ہیں، ان لوگوں نے اُن میں سے اللہ کا بس ایک حصہ مقرر کیا ہے۔ چنانچہ بزعم خود یوں کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا ہے، اور یہ ہمارے اُن معبودوں کا ہے جن کو ہم خدائی میں اللہ کا شریک مانتے ہیں۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو (کبھی) اللہ کے پاس نہیں پہنچتا، اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے، وہ ان کے گھڑے ہوئے معبودوں کو پہنچ جاتا ہے۔ ایسی بُری بُری باتیں ہیں جو انہوں نے طے کر رکھی ہیں! ﴿136﴾

حاشیہ: عرب کے مشرکین کی کچھ بے بنیاد رسموں کا بیان ہے۔ ان لوگوں نے کسی معقول اور علمی بنیاد کے بغیر مختلف کاموں کو من گھڑت اسباب کی بنیاد پر حلال یا حرام قرار دے رکھا تھا۔ مثلاً خود اپنی اولاد کو انتہائی سنگ دلی سے قتل کر دیتے تھے۔ اگر لڑکی پیدا ہوئی ہو تو اسے اپنے لئے بڑی شرم کی بات سمجھ کر اسے زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے، بعض لوگ اس وجہ سے بھی لڑکیوں کو دفن کر دیتے تھے کہ اُن کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اس لئے انسانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لڑکیاں رکھیں۔ لڑکوں کو بعض اس وجہ سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کو کہاں سے کھلائیں گے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ نذر مان لیتے تھے کہ ہمارا جو دسواں لڑکا ہوگا، اسے اللہ یا بتوں کے نام پر ذبح کردیں گے۔ اس کے علاوہ اپنے مویشیوں اور کھیتوں کی پیداوار کے بارے میں بھی عجیب وغریب عقیدے گھڑ رکھے تھے۔ اُن میں سے ایک کا بیان اس آیت میں ہے، اور وہ یہ کہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور مویشیوں کے دودھ یا گوشت میں سے کچھ حصہ تو اللہ کے نام کا رکھتے تھے (جو مہمانوں اور غریبوں میں تقسیم کے لئے ہوتا تھا) اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے تھے جو بت خانوں پر چڑھایا جاتا تھا، اور اُس سے بت خانوں کے نگراں فائدہ اُٹھاتے تھے۔ اوّل تو یہ بات ہی بے ہودہ تھی کہ اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک کرکے اُن کے نام پر پیداوار کا کچھ حصہ رکھا جائے۔ اُوپر سے ستم ظریفی یہ تھی کہ جو حصہ اللہ کے نام کا رکھا تھا، اگر اُس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں چلا جاتا تو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، البتہ اگر بتوں کے حصے میں سے کوئی چیز اللہ کے نام کے حصے میں چلی جاتی تو اُسے فوراً واپس کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔

یہ بس بڑی عجیب بات تھی، مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی ایک بات ہوئی تھی، مولانا عزیز الرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے۔ کہ ایک دفعہ مجھے کسی گھر میں ختم کے لیے بلایا۔ تو پھر وہ حلوہ دو قسم کا رکھا گیا، ایک چینی کا تھا، ایک گڑ کا تھا۔ تو جو گڑ کا حلوہ تھا، تو اس نے، انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے نام کا ہے۔ اور جو چینی کا حلوہ تھا نا، جو ذرا مزیدار تھا نا، تو اس کا، اس کو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کیا ہوا تھا۔ تو کہتے ہیں میں نے کہا کہ خدا کے بندو! ایسا شرک جو ہے، وہ تو مشرکینِ مکہ نے بھی نہیں کیا تھا جیسے تم نے کیا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں لوگوں میں پھر چلی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاں۔۔۔ ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔ جو مشرکین ہوتے ہیں نا، چاہے کفار کے مشرکین ہوں چاہے ہمارے ہاں کے مشرکین ہوں۔ ان میں ایک بات کامن ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اصل مقصد اس دنیا کی چیز کو سمجھتے ہیں۔ مطلب اصل مقصد اس دنیا کی چیز کو سمجھتے ہیں۔ اور دنیا کی چیزوں کے بارے میں اگر ان کو کوئی ذرہ بھر بھی بات کہہ دے نا کہ اگر آپ نے یہ رسم نہیں کی تو فلاں نقصان ہو جائے گا۔ فلاں نقصان ہو جائے گا۔ اب یہی بات ہے کہ اس کو ڈرا کر اس رسم پہ مجبور کر لیتی ہے۔ ان کا آخرت کے ساتھ کوئی مطلب اس وقت تعلق نہیں ہوتا کہ آخرت کے بارے میں کچھ سوچیں۔ ان کی سوچ، جیسے ہندو لوگ ہیں، وہ تو آخرت کا یقین نہیں رکھتے تو وہ تو کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں پھر آئیں گے۔ اگر اچھے اعمال ہم نے کیے تو دنیا میں اچھی پوزیشن میں آ جائیں گے، جس کو جنم کہتے ہیں۔ اور اگر برے اعمال کریں گے تو پھر ہم دوسری بری شکل میں آ جائیں گے، جیسے بچھو آ جائیں گے یا کوئی اور مطلب چیز بن جائے گی ہم سے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے۔ اس کو اواگون کا عقیدہ کہتے ہیں۔ تو وہ بھی آخرت پہ چونکہ یقین نہیں رکھتے، لہٰذا وہ ابھی کرونا گزرا ہے۔ تو کرونا کا بت انہوں نے بنا لیا ہے۔ اور اس کو پوج رہے ہیں۔ تاکہ مطلب یہ ہے کہ کرونا ہم سے ٹل جائے۔ اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو مطلب یہاں کے لوگ بھی ہیں، وہ بھی یہی مطلب ہے کہ ان کو ڈر ہو جاتا ہے، اوہو! اگر ہم نے یہ چڑھاوا نہیں چڑھایا تو ہمیں نقصان ہو جائے گا۔ اور اگر چڑھا دیا تو پھر ہمیں فائدہ ہو جائے گا۔ تو وہ، وہ اس قسم کی چیزیں ان لوگوں نے مانی ہوتی ہیں، تو یہ دنیا کے لیے کرتے ہیں، آخرت کے لیے نہیں کرتے۔ جہاں آخرت کی سوچ آ گئی وہاں سے توحید شروع ہو گئی۔ مطلب وہاں توحید پر شروع ہو جاتی ہے۔ آخرت کا عقیدہ جس وقت صحیح معنوں میں کسی میں آ گیا۔ اس وجہ سے قرآنِ پاک نے بنیادی تین عقیدوں پر بحث کی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ آخرت بالکل سورہ بقرہ کی ابتدا میں وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ یعنی ایمان بالغیب کے فوراً بعد کیا آتا ہے، وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ یعنی وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اگر صحیح معنوں میں اگر کسی کا ہو۔ تو پھر اس کے بعد وہ کچھ چیزیں ساری خود ہی ٹھیک کرنا چاہیں گے۔ اگر غلط فہمی کی وجہ سے ٹھیک نہیں تھیں تو جیسے ان کو پتہ چل جائے گا وہ ٹھیک کر لیں گے۔ اور اگر مطلب دنیا ان کا مقصود ہو تو پھر جھوٹے پیروں کے پاس جائیں گے۔ کرپٹ عاملوں کے پاس جائیں گے۔ مطلب دھوکہ باز لوگوں کے پاس جائیں گے، خود بھی دھوکے کریں گے۔ کیوں؟ ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کو، ان کو دنیا چاہیے۔ تو دنیا کے لیے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اللہ جل شانہ اس دنیا کی محبت کو ہمارے دلوں سے نکال لے۔ اور آخرت کی طرز کا تصور لے آئے اور اللہ کی محبت، اللہ کے رسول کی محبت سے ہم سب کو سرشار کر دے۔ اور ہمارے عقائد کو بھی درست فرما دے، ہمارے اعمال کو بھی درست فرما دے، اسی پر استقامت نصیب فرمائے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔