دین پر عمل آسان ہے: احکامِ الٰہی اور انسانی طاقت

درس نمبر: 283، سورۃ الاعراف، آیات: 40 تا 42

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

منکرین اور متکبرین کے لیے جنت میں داخلہ ناممکن ہے۔

شریعت میں احکامات انسان کی استطاعت کے مطابق دیے گئے۔

مکمل کوشش کے بعد بھول چوک پر گرفت نہیں ہوتی۔

مجبوری اور نفسانی خواہش کی پیروی میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔

روحانی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پرہیز اور حفاظت لازمی ہے۔

تمام احکامات انسانی فائدے اور نجات کے لیے مقرر ہیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ (40) لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (41) وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ ٘ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (42)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: (لوگو!) یقین رکھو کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور تکبر کے ساتھ اُن سے منہ موڑا ہے، اُن کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اور وہ جنت میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک کوئی اُونٹ ایک سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہو جاتا،

یعنی ایک ناممکن کام کے ساتھ اس کو تشبیہ دی گئی۔ کہ چونکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس طرح یہ لوگ بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

ترجمہ: اور اسی طرح ہم مجرموں کو اُن کے کئے کا بدلہ دیا کرتے ہیں ﴿40﴾ اُن کے لئے تو دوزخ ہی کا بچھونا ہے، اور اُوپر سے اُسی کا اوڑھنا۔

یعنی نیچے بھی آگ اور اوپر بھی آگ۔

ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو اُن کے کئے کا بدلہ دیا کرتے ہیں ﴿41﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ـــــ (یاد رہے کہ) ہم کسی بھی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے ـــــ

یعنی اس کا مطلب ہے کہ

حاشیہ: نیک عمل کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر یہ وضاحت فرمادی کہ نیک عمل کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو، کیونکہ ہم نے کوئی حکم انسانوں کو ایسا نہیں دیا جو ان کی استطاعت میں نہ ہو۔ نیز شاید اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی طاقت کی حد تک نیک عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہو، اور پھر بھی اس سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اُس پر گرفت نہیں فرماتے۔

یعنی یہ یہ بات ہم سب کو سمجھنی چاہیے کہ اللہ جل شانہ نے ہم لوگوں کو انہی کام کرنے کے احکامات دیے ہیں جو کہ آپ کر سکتے ہیں۔ جو ہم نہیں کر سکتے اس کا ہمیں حکم نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے وہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ تو بیٹھ کر نماز پڑھے گا۔ بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر پڑھے، اشارے سے پڑھے۔ حج اس پر فرض نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے یا جانے کی طاقت نہیں ہے۔ تو ظاہر ہے اس پر فرض نہیں ہے۔ لیکن جس پر فرض ہے اس کو کرنا پڑے گا۔ اسی طریقے سے زکوٰۃ ہے جس کے پاس نصاب کے برابر مال نہیں ہے اور وہ بھی پورا سال گزرنے کے ساتھ اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ تو اگر اس کنڈیشن میں آ جائے تو پھر اس کے اوپر زکوٰۃ فرض ہو جائے گی۔ روزہ بھی اگر کوئی طاقت نہیں رکھ سکتا تو اس کا فدیہ دے گا۔ یا اس وقت اگر نہیں رکھ سکتا تو بعد میں رکھے گا۔ مقصد یہ ہے کہ جو کام انسان نہیں کر سکتا، اس کی طاقت سے باہر ہو، اللہ جل شانہ اس کے کرنے کا نہیں ارشاد فرماتے۔ اور دوسری طرف اشارہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص یعنی اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کرتا ہے کہ میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں، الارم لگا دے، یہ ساری چیزیں وہ کر لے۔ لیکن اس کے باوجود بھی مطلب ظاہر ہے وہ ایسے حالات ہو جائیں کہ یا اس کو الارم نہ بجے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ یا وہ الارم نہیں لگا چکا لیکن ذہن میں اس کا آ چکا ہوتا ہے کہ میں نے لگایا ہوا ہے، مطلب مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں۔ اب اس صورت میں اگر اس سے رہ گیا تو مطلب ظاہر ہے اس کو پھر گناہ نہیں ہو گا۔ ہاں، نماز تو قضا کر کے پڑھنی پڑے گی لیکن بہرحال اس کو وہ قضا قصدًا قضا کرنے والا گناہ وہ نہیں ہو گا۔ تو اس طریقے سے مطلب جو بھی کام ہے وہ انسان کو اس کی حالت کے مطابق ہی دیں گے۔ یعنی اس کا وہ کرتے ہیں۔ وہ ایک دفعہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلب بٹھا دیا کہ صبح صادق ہو جائے تو اذان دے دینا، مطلب سب سو گئے۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے رہے تو بیٹھے ہوئے تھکے ہوئے افق کی طرف دیکھ رہے تھے۔ تو تھکا ہوا بھی تھا اور ساتھ یہ ہے کہ بیٹھا ہوا بھی تھا۔ اور ٹیک بھی لگائی ہو گی تو ایسی صورت میں تو پھر نیند کسی وقت بھی آ دبوچتی ہے۔ تو نیند آ گئی تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے۔ پھر بعد میں سب کو جگایا تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اس کے لیے نہیں بٹھایا تھا۔ کہ آپ وہ سب کو جگائیں گے۔ تو انہوں نے بالکل وہی سادہ لہجے میں کہا کہ یا رسول اللہ جو کام آپ کے ساتھ ہوا وہ میرے ساتھ بھی ہوا ہے۔ یعنی مطلب جیسے آپ کو نیند آ گئی اس طرح میرے میں، مجھے بھی نیند آ گئی۔ تو مقصد پھر یہ ہے کہ یہ جو کام انسان نہیں کر سکتا وہ پھر اللہ تعالیٰ معاف فرماتے ہیں۔ یہ بات ہے لیکن اپنی طرف سے جتنی کوشش انسان کر سکتا ہے وہ ضرور کرے گا۔ ایک بات اور ہے۔ ایک تو ہوتا ہے نا انسان کی اپنی جس کو کہتے ہیں نا مجبوری یا یوں سمجھ لیجیے کہ وہ کر نہیں سکتا۔ ایک یہ بات ہوتی ہے کہ نفس نے اس کو مجبور بنایا ہوتا ہے، یعنی نفس اس کو نہیں کرنے دیتا۔ تو اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لیے تیاری بھی کرنی پڑے گی جیسے اصلاح نفس ہے، وہ بھی کرنی پڑے گی ورنہ یہ بات ہے کہ پھر مجرم ہو گا۔ کیونکہ ہر ایک پھر کہے گا جی مجھے نفس میرا نہیں کرنے دے رہا تھا۔ تو وہ تو پھر اس کی معافی تو نہیں ہے۔ اس کا تو کرے گا کیوں کہ وہ ایک عارضی چیز ہے۔ یعنی اگر دور کرنا ہے کوئی، تو یہ بھی تو دور کر سکتا ہے نا؟ تبھی تو حکم ہے۔ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا۔ تو یعنی یہ چیز بھی آتی ہے کہ انسان نفس کی اصلاح کروا سکتا ہے اور کر سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے حکم بھی ہے۔ اگر وہ نہ کروا سکتا تو پھر اس کا حکم بھی نہ ہوتا۔ اور جواب یہ ہے کہ دیکھو نا جتنے لوگوں کے نفس کی اصلاح ہو جاتی ہے تو آخر وہ کیسے ہو جاتی ہے؟ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی ہو تو سکتی ہے لیکن تم… وہ نہیں مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں ایک اکثر ایک شعر فرمایا کرتے تھے جب اس قسم کے لوگ عذر لنگ کیا کرتے تھے، تو وہ فرماتے تھے کہ:

ان کے الطاف شہیدی تو ہیں مائل سب پر
تجھ سے کیا بیر تھا گر تو کسی قابل ہوتا

تو مطلب یہ ہے کہ یہ والی بات ہے کہ انسان کو اگر اس کا ارادہ ہوتا اور اس کے لیے جتنی کوشش… میں آپ کو ایک بات بتاؤں، بعض ڈاکٹر حضرات کو میں جانتا ہوں، ان کی بیماریاں مطلب وہ ہے… جیسے ہمارے ایک ساتھی ہیں، نام میں نہیں لیتا کیوں کہ یہ بات ساری سب جگہ جا رہی ہے۔ روم میٹ میرے رہے ہیں۔ اور بہت بڑے ڈاکٹر ہیں، اسپیشلسٹ ہیں وہ… تو ان کی بچیاں ہمارے گھر آئی تھیں، خود وہ ان کے ساتھ، تو وہ تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ظاہر ہے گھروں میں بچیاں بیٹھی ہوئی تھیں ان کی۔ تو ہمارے گھر والوں نے اس سے پوچھا کہ چائے، مطلب اس میں چینی ڈالوں یا نہ ڈالوں؟ تو مطلب وہ ڈاکٹر صاحب جو ہیں نا وہ یعنی شوگر تو نہیں ہے ان کو، انہوں نے کہا شوگر تو ہے؟ کہا پھر چینی نہ رکھوں۔ انہوں نے کہا نہیں وہ چینی تو ڈالتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ پھر کیسے ڈالتے ہیں جب شوگر ہے؟ کہتے ہیں جب چینی نہیں اس میں ہوتی، پھر مزہ نہیں ہوتا۔ اب یہ ایسی چیز ہے ظاہر ہے مطلب ہے کہ؟ تو اس طرح یعنی بہت سارے ڈاکٹروں کو میں نے دیکھا اس کو خود پتا ہوتا ہے دوسروں کو بتاتے ہیں۔ بلکہ ایک مشہور ڈاکٹر تھے یہ پشاور کے، وہ ذرا منہ پھٹ قسم کے تھے بھی۔ تو ان کا پیشنٹ آیا تھا تو سموکنگ، اس سموکنگ سے روکا اس کو کہ سموکنگ نہ کرے۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب خود سگریٹ پی رہا تھا۔ تو انہوں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ خود بھی تو سگریٹ پی رہے ہیں۔ تو وہ منہ پھٹ قسم کا تھا۔ ?I want to die with this, do you also میں اس کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں، تو کیا تم بھی مرنا چاہتے ہو؟ یعنی علاج پھر کیوں کرنا چاہتے ہو، پھر جاؤ جس طرح بھی ہو تمہارے ساتھ تو ہو جائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ، یعنی بہت سارے ڈاکٹر وہ اپنا پرہیز نہیں کر سکتے۔ تو اب جو پرہیز نہیں کر سکتے تو بیمار تو ہوتے ہیں۔ جیسے اس نے کہا I want to die with this۔ ہاں، تو مطلب یہ ہے کہ پرہیز نہیں کر سکتے تو پرہیز جس طرح فزیکل چیزوں میں ہے، اس طرح روحانی چیزوں میں بھی ہے۔ وہ کیا آتا ہے؟

جس کو ہو دل و جاں عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

ہاں ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ اپنے آپ کو پھر بچائے، اپنی نظر کی حفاظت کرے۔ مطلب ظاہر ہے اگر وہ نہیں بچ سکتا تو پھر وہ یہی بات ہے کہ وہ اپنے آپ کی حفاظت کرے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو کام بھی انسان کر سکتا ہے اسی کا حکم ہوتا ہے۔ اور جو انسان نہیں کر سکتا اس کا حکم نہیں ہوتا۔ اور بہانے سازی وہاں نہیں چلے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو جیسے بچے ہوتے ہیں نا بچے۔ وہ اپنا برا بھلا نہیں جانتے ان کے بڑے جانتے ہیں۔ تو بچوں کو بچایا جاتا ہے۔ ہاں مطلب ان کو دور رکھا جاتا ہے کیونکہ ظاہر ہے… تو اب اگر ہم کہتے ہیں کہ بچوں کو ان سے زیادہ ان کے والدین جانتے ہیں۔ تو ظاہر ہے بات ٹھیک ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ بڑے ہوتے ہیں وہ سوچ سکتے ہیں کہ اس سے ان کو نقصان ہو گا، اس سے ان کو تکلیف ہو گی۔ تو وہ ان کو منع کرتے ہیں۔ اس طرح اللہ جل شانہ جو ہے وہ ہم کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں اور ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔ یعنی جو ہم ضد کرتے ہیں نا مثال کے طور پر پرہیزی کی۔ کہ یہ تو میں نے کرنا ہے۔ تو ظاہر ہے اس وقت والدین بچوں سے زیادہ ان پر مہربان ہوتے ہیں، یعنی بچے کو تو پتا ہی نہیں ہے اپنے آپ کا کہ مجھے کس چیز سے نقصان ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بھی ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے، ہمیں بچانا چاہتے ہیں۔ جو حکم بھی ہے وہ ہمارے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا ہوتا ہے؟ اگر کوئی مثال کے طور پر سارے لوگ جنت میں چلے جائیں تو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی کمی آ جائے گی؟ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں تو کوئی کمی نہیں آتی۔ اور کوئی دوزخ میں چلا جائے تو اس میں اللہ پاک کی شان کون سی… وہ تو اللہ تعالیٰ کی شان تو ویسے ہی بہت عظیم ہے اور اللہ پاک مستغنی ہے، غنی ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے اور چاہتے ہیں کہ ہم جنت چلے جائیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہر شخص کے لیے جنت بھی پیدا کی گئی ہے اور دوزخ بھی پیدا کی گئی ہے۔ تو جو فوت ہوتا ہے آدمی تو ان کو پہلے مطلب جو وہاں جائے گا تو پہلے ان کو اپنا جیسے گناہ گار آدمی ہوتا ہے پہلے اس کو جنت دکھاتے ہیں۔ کہ یہاں تو آ سکتا تھا۔ پھر اس کو دوزخ دکھاتے ہیں، اب یہ تیرا ٹھکانا ہے۔ اور جو نیک آدمی ہوتا ہے اس کو پہلے دوزخ دکھاتے ہیں۔ کہ یہ، یہاں جا سکتے تھے لیکن اللہ نے تجھ پر فضل کیا ہے یہ تمہارا ٹھکانا ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یعنی اپنے فائدے کے لیے ایسی چیزوں کو سمجھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے جس چیز کا حکم دیا ہے، ویسے نہیں دیا، اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے نمبر ایک اور وہ ہم کر سکتے ہیں۔

ترجمہ: تو ایسے لوگ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے ﴿42﴾

اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی یہ نعمت نصیب فرما دے۔ ہمیشہ کے لیے کامیابی نصیب فرما دے۔ ہر قسم کے گند، ہر قسم کی مصیبت، ہر قسم کے لغو کام، ہر قسم کے گناہ کے کام سے ہماری حفاظت فرما دے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔

دین پر عمل آسان ہے: احکامِ الٰہی اور انسانی طاقت - درسِ قرآن - پہلا دور