اندھی تقلید کا عبرتناک انجام اور دوسروں کی خاطر گناہ کی حماقت
درس نمبر: 282، سورۃ الاعراف، آیات: 38 تا 39
جہنم میں داخل گروہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔
اللہ کے ہاں سرداروں اور ماتحتوں دونوں کا عذاب دگنا ہے۔
ایمان صادق کے قول پر بغیر مشاہدے کے عمل ہے۔
کسی پارٹی کے لیے جھوٹ بولنا عقل کے خلاف ہے۔
دوسروں کی خاطر گناہ کرنا اعلیٰ درجے کی بیوقوفی ہے۔
عقل کا استعمال انسان کو برے انجام سے بچاتا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ ؕكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ؕحَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰـكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ (38) وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ (39)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اللہ فرمائے گا کہ: ”جاؤ، جنات اور انسانوں کے اُن گروہوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔“ (اس طرح) جب بھی کوئی گروہ دوزخ میں داخل ہوگا، وہ اپنے جیسوں پر لعنت بھیجے گا،
حاشیہ: یعنی جو لوگ سرداروں کے ماتحت تھے، وہ اپنے اُن سرداروں پر لعنت بھیجیں گے جنہوں نے اُنہیں گمراہ کیا تھا، اور سردار اپنے ماتحتوں پر لعنت بھیجیں گے کہ انہوں نے اُن کی حد سے زیادہ تعظیم کر کے انہیں گمراہی میں اور پختہ کر دیا۔
ترجمہ: یہاں تک کہ جب ایک کے بعد ایک، سب اُس میں اکٹھے ہوجائیں گے تو اُن میں سے جو لوگ بعد میں آئے تھے، وہ اپنے سے پہلے آنے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ: ”اے ہمارے پروردگار! انہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈالا تھا، اس لئے ان کو آگ کا دُگنا عذاب دینا۔“ اللہ فرمائے گا کہ: ”سبھی کا عذاب دُگنا ہے، لیکن تمہیں (ابھی) پتہ نہیں ہے۔“ ﴿38﴾ اور پہلے آنے والے بعد میں آنے والوں سے کہیں گے: ”تو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت تو حاصل نہ ہوئی۔ لہٰذا جو کمائی تم خود کرتے رہے ہو اُس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔“ ﴿39﴾
اصل میں یہ ایک انتہائی عبرت کا موقع ہوگا۔ لیکن اس وقت عبرت لینا کوئی کام نہیں دے گا۔ کیونکہ جو ہونا ہوگا وہ ہو چکا ہوگا۔ اس وقت یہ قرآن پاک میں جو بتایا گیا ہے، تو اس سے ہم عبرت لے سکتے ہیں۔ اصل میں یہی بات ہے کہ مشاہدہ اور ایمان، یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں کہ اس کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔ ایمان جو ہے، یہ اصل میں صادق کے قول پر عمل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو پیغمبر بھیجے ہیں، ان پیغمبروں کی بات کو ماننا ہے۔ اور اگر کوئی بعد میں خود اس کو دیکھ لے، تو اس کا پھر یہ ہے کہ وہ نہیں ہوتا۔ جیسے موت کے بعد سب لوگ دیکھ لیں گے، لیکن اس وقت کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو یہاں پر یہ صورت حال ہوگی کہ یہاں تو یہ سرداروں کے پیچھے ہیں اور زندہ باد اور فلاں اور یہ سارے نعرے لگاتے ہیں، اچھلتے کودتے ہیں۔ لیکن وہاں پر یہ صورت حال ہوگی کہ چونکہ دونوں جہنم جا چکے ہوں گے۔ دونوں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔ یعنی ہر ایک یہ کہے گا کہ اس کی وجہ سے میرے ساتھ ایسا ہوا۔ تو یہاں پر دو قسم کے گروہ ہیں۔ ایک وہ گروہ ہے جو سرداروں کا گروہ ہے۔ اور ایک ہے جو ان کے ماننے والوں کا گروہ ہے۔ تو جو سرداروں کا گروہ ہے، پہلے وہ لوگ جو کہ ان کے پیچھے چلنے والے ہیں، وہ ان پر غصہ ہوں گے، ان پر لعنت بھیجیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہم یہاں پر آ گئے ہیں۔ اور وہ جو سردار ہوں گے، وہ ان پر لعنت بھیجیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہماری یہ حالت ہے، اگر تم لوگ ہماری اتنی تعظیم نہ کرتے، تو ہم لوگوں کو نخرہ نہ ہوتا۔ تو یہ کریں گے۔ پھر یہ ہے کہ مطلب جو عام لوگ ہوں گے، وہ سرداروں کے بارے میں کہیں گے کہ ان کی، ان کی وجہ سے ہم لوگوں نے غلطیاں کیں اور گمراہی کے راستے پہ چل پڑے، تو ان کو دوگنا عذاب دیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ
حاشیہ: ہر ایک کا عذاب پہلے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔
یعنی دوگنا ہوتا جائے گا۔
حاشیہ: لہٰذا اگر سرداروں کو اس وقت دُگنا عذاب دے دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود تم اتنے شدید عذاب سے محفوظ رہو گے، بلکہ ایک وقت آئے گا کہ خود تمہارا عذاب بھی بڑھ کر ان کے موجودہ عذاب کے برابر ہو جائے گا، چاہے اُن کا عذاب اُس وقت اور بڑھ جائے۔
تو یہاں پر بات یہ ہو گئی کہ یہ انسان، یعنی جب ان کے اوپر سختی آتی ہے، تو پھر اس وقت وہ سمجھ بھی جاتا ہے۔ اور دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ کہ ان کی وجہ سے ایسا ہوا، حالانکہ اللہ پاک نے عقل جو سب کو دی ہے، اس کا استعمال اگر کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ مثال کے طور پر دیکھیں۔ یہاں میں مثال دیتا ہوں۔ کوئی پارٹی بازی وغیرہ ہے اگر۔ اب ایک پارٹی کے لیے ایک انسان جھوٹ بولتا ہے۔ ایک پارٹی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے۔ تو جس کے لیے جھوٹ بول رہا ہے فائدہ تو وہ اٹھا رہا ہے، یعنی دنیاوی فائدہ وہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے اگر یہ عقل سے کام لے کہ میں اس کی وجہ سے جہنم میں جلوں گا، تو میں کیوں اس کے لیے جھوٹ بولوں؟ صرف یہی بات اگر انسان سوچے، تو انسان کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ کہ میں ان کے لیے کیوں بھئی، عذاب مجھے بھگتنا پڑے گا اس کا۔ ٹھیک ہے، ان کو اپنا بھگتنا پڑے گا، لیکن مجھے تو بھگتنا پڑے گا، تو میں ان کے لیے جھوٹ کیوں بولوں؟ میں ان کے لیے دھوکہ کیوں کروں؟ میں ان کے لیے کرپشن کیوں کروں؟ میں ان کا ساتھ غلطی میں کیوں دے دوں؟ اب یہ ساری باتیں عقل کی ہیں۔ اور عقل سے انسان اس کو سمجھ سکتا ہے کہ کوئی کسی کے لیے جھوٹ نہ بولے۔ کوئی کسی کے لیے دھوکہ نہ کرے۔ اپنے لیے اگر کرتا ہے، تو وہ بھی گناہ ہے اور نقصان ہے۔ دیکھو، اس میں ایک حال ہے کہ وہ کم از کم دنیاوی فائدہ جو بھی ہوگا، وہ اس کو مثلاً حاصل ہوگا۔ تو اس کے لیے اگر وہ کرتا ہے، مجرم تو ہے، لیکن بیوقوف اس درجے کا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں نا، شیخ چلی۔ وہ ایک دفعہ اپنے جو دانے تھے، وہ پسوانے کے لیے گیا تھا۔ تو پاس پڑی ہوئی بوریاں جو دوسروں کی تھیں، ان سے دانے اٹھا اٹھا کے وہ اپنے اس میں ڈال رہا تھا۔ تو لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا، میں بیوقوف ہوں نا۔ انہوں نے کہا بیوقوف ہوتے، تو تم دوسروں کی بوری میں اپنے ڈالتے۔ کہتے، پھر تو میں ڈبل بیوقوف ہو جاتا نا۔ تو مطلب میں صرف سنگل بیوقوف ہوں۔ تو اصل میں تو چالاک تھا، لیکن بہرحال یہ بات اس نے نخرہ بنایا۔ اب یہ واقعتاً اگر ایک انسان اپنے لیے کر رہا ہے، تو یہ بیوقوف تو ہے گناہ گار تو ہے۔ لیکن جو دوسرے کے لیے کر رہا ہے، وہ تو اعلیٰ درجے کا بیوقوف ہے۔ کہ دوسرا فائدہ اٹھائے اور پھر آپ اس کے لیے استعمال ہوں۔ یہ کیسی فضول حرکت ہے؟ یہ اصل میں اگر آج دیکھیں، تو آج ہمارے بہت سارے سیاسی جو مسائل ہیں، وہ دور ہو جائیں۔ اگر صرف ہم آج اس بات کو بھی اپنا لیں اور ہمارے معاشرے کے اندر جتنی بھی برائیاں ہیں جو دوسروں کے لیے کی جا رہی ہیں، وہ رک جائیں۔ اور اچھی خاصی، مطلب اصلاح ہو جائے۔ لیکن اس عقل تک آنے کے لیے شیطان نہیں چھوڑتا۔ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ دوسروں کے لیے جو برائی کر رہا ہے، وہ نفس کی وجہ سے بھی ہے، لیکن اس کا رول کم ہے، بیوقوفی کا رول اس میں زیادہ ہے۔ یعنی اس میں عقل استعمال نہ کرنے والا رول بہت زیادہ ہے۔ اگر انسان عقل استعمال کر لے، تو اس سے بچ سکتا ہے۔ تو یہاں پر، مطلب یہاں پر دیکھو نا اللہ پاک نے کیسے اس کی نظیر بتائی ہے کہ جو لوگ دوسروں کے لیے برائی کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے گمراہ ہو چکے تھے۔ وہ ان ان کے اوپر پھر لعنت بھیجیں گے۔ جن کے لیے آج زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے، تو ان کے اوپر لعنت بھیجیں گے۔ اور وہ ان پر لعنت بھیجیں گے۔ لیکن پھر کیا ہوگا؟ پھر تو صرف بس ایک قسم کا یہی اپنے غصے کو بس ظاہر کرنے والی بات ہوگی، تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے برے انجام سے محفوظ فرمائے، ہر قسم کے برے انجام سے محفوظ فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔