شک و شبہ سے پرہیز اور اطمینانِ قلب کا راستہ

درس نمبر 68، باب الصدق، حدیث نمبر 55

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• مشتبہ امور کو چھوڑ کر یقینی امور کو اپنانے کی نبوی ﷺ تعلیم۔

• سچائی سے قلب کا اطمینان اور جھوٹ سے شک و شبہ کا پیدا ہونا۔

• مومن کی فراست اور دل کے فتوے (اسْتَفْتِ قَلْبَكَ) کا صحیح مفہوم۔

• حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی روشنی میں عقل، نفس اور قلب کا باہمی تعلق۔

• خواہشاتِ نفسانی کے باعث دل کا آلودہ (polluted) ہونا اور بصیرت کا ختم ہونا۔

• روحانی سفر اور اصلاح کے لیے اہل دل (مرشد) کی رہنمائی اور اتباع کی اہمیت۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

(55) ﴿اَلثَّانِي: عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَالْكَذِبَ رِيبَةٌ.﴾ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ)


ترجمہ: دوسری حدیث: "حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (سن کر یہ کلمات) یاد کئے۔ شک میں مبتلا کرنے والی چیزوں کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے بلند ہوں (یادرکھو) سچائی باعثِ اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ کا سرچشمہ ہے۔ امام ترمذی نے کہا حدیث صحیح ہے۔


شک میں جو مبتلا کرنے والی چیزیں ہوتی ہیں ان کو چھوڑنا چاہیے۔ کیونکہ محدثین فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک میں جناب رسول اللہ ﷺ نے سچ اور جھوٹ کی ایک نہایت اہم پہچان بتلائی ہے کہ سچ وہ ہے جس سے آدمی کو اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے اس کو اردو محاورے میں دل کا ٹھکنا کہتے ہیں یعنی جس بات پر دل ٹھکے وہ سچ ہے۔ اسی بناء پر امام ابوحنیفہؒ کا مشہور مقولہ ہے کہ اپنے دل سے فتویٰ لو اگر دل میں شک ہے اگرچہ مفتی صاحبان ظاہر کو دیکھ کر جائز ہونے کا فتویٰ بھی دے دیں مگر تمہارا دل مطمئن نہیں تو اس پر عمل نہ کرو۔

کیونکہ ایک دوسری جگہ پر فرمایا گیا کہ

"اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ"

مؤمن کی فراستِ قلبی سے ہوشیار رہو کہ وہ حق تعالیٰ شانہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

مگر ایک ضروری امر یہ ہے کہ یہ قانون اور بنیاد اس قلب کے لئے ہے جو قلب خواہشاتِ نفسانی کی کدورت سے پاک ہو اور اس نے اپنے قلبِ سلیم کو اپنی خواہشات سے خراب نہ کر لیا ہو مگر عام طور سے لوگوں نے اپنے دل کو خواہشاتِ نفسانی سے خراب کر رکھا ہے اس لئے اب ضروری ہے کہ جو مفتی فتویٰ دے اسی پر عمل کریں۔

یہاں پر واقعی ایک بہت بڑے جزیہ سامنے آ رہا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان کا جو دل ہے، یہ نفس سے متاثر ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تینوں چیزیں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں۔ عقل، نفس، اور قلب۔ یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے سے اثر لیتی ہیں۔ پس اگر کسی کے نفس کی اصلاح نہ ہو چکی ہو، تو اس کا قلب بھی متاثر ہو جاتا ہے، اس کی عقل بھی متاثر ہو جاتی ہے۔

لہٰذا اس کی جو عقلی سوچ ہے وہ بھی متاثر ہوتی ہے، اور جس کو ہم انگریزی میں polluted کہتے ہیں، یعنی وہ بھی نفس سے متاثر ہوتا ہے۔ اور اس کا جو قلب ہے، وہ بھی متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے اوپر اس کی قلب کی جو آنکھ ہے اور بصیرت ہے، اُس کے اوپر نفس کی خواہشات نے جالے بنائے ہوتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ وہ اُس کے اوپر مطلب آلائشیں اس کے اوپر ہوتی ہیں اس لیے اس کو صحیح بات نظر نہیں آ رہی ہوتی۔ لیکن جو اہلِ بصیرت ہوتے ہیں، ان کو ساری باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ اب یہاں پر ایک اور نکتہ ہے۔ چونکہ قران پاک میں ہے:

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

فرمایا کہ بے شک اس قرآن میں نصیحت ہے ہر اُس شخص کے لیے جس کا دل بنا ہو، یا پھر وہ بنے ہوئے دل کی بات اہتمام کے ساتھ سننے والا ہو۔ پس پتا چل گیا کہ اگر خود انسان کا دل نہ بنا ہو، تو کسی دل بنے ہوئے شخص کے پیچھے چلے گا، اس کی بات مانے گا، تو پھر بات ان شاء اللہ بنے گی۔ تو جب تک انسان کی تکمیل نہیں ہو چکی اور راستے میں ہے، تو اس وقت تک تو اپنے جو مرشد ہے جو بھی ان کے وہ ہیں، اس کی بات پر عمل کر لیا کرے، اس کے سامنے ساری چیزیں کھول کے بیان کر لیا کرے، پھر وہ جیسے وہ کہے تو اس طرح لیکن جس وقت مطلب یہ ہے کہ اس کا اپنا دل بن جائے، پھر اس کے بعد، سبحان اللہ! اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ والی بات تو موجود ہے۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کو، یعنی جمع کیا جا سکتا ہے۔ قرآن پاک کی اس آیت کو:

إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

اور دوسری بات یہی بات فرماتے ہیں مطلب جو حدیث شریف ہے کہ:

"دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طَمَأْنِينَةٌ، وَالْكَذِبَ رِيبَةٌ"

تو ان دونوں کو اگر جمع کیا جائے اور آپس میں ایک دوسرے سے مطلب اس میں مدد لیا جائے، تو پھر ان شاء اللہ العزیز مطلب بات بن جائے گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کے قلوب کو اپنے دیے ہوئے فراست کے نور سے منور فرما دے، اور ہمیں صحیح طور پہ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما دے، اور شریعت پر ہر حال میں چلنے والا بنا دے، قبولیت کے ساتھ۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.


شک و شبہ سے پرہیز اور اطمینانِ قلب کا راستہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور