دنیا کی چمک دمک اور اصل کامیابی کا معیار
درس نمبر: 281، سورۃ الاعراف، آیات: 35 تا 37
رزق کی فراوانی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں ہے
کافروں کو ان کے اچھے کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں مل جانا
غیروں کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر مرعوب ہونے کے نقصانات
آخری انجام کی فکر اور اپنے عقیدے پر استقامت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (35) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (36) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ ؕ اُولٰٓىٕكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ (37)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اور اللہ نے انسان کو پیدا کرتے وقت ہی یہ تنبیہ کر دی تھی کہ:) ”اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے کچھ پیغمبر آئیں جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سنائیں، تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کر لیں گے، اُن پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ﴿35﴾ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور تکبر کے ساتھ اُن سے منہ موڑا ہے، وہ لوگ دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ ﴿36﴾ اب بتاؤ کہ اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا اُس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ ایسے لوگوں کے مقدر میں (رزق کا) جتنا حصہ لکھا ہوا ہے، وہ اُنہیں (دُنیا کی زندگی میں) پہنچتا رہے گا،
یہاں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے
حاشیہ: کہ دُنیا میں رزق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مؤمن اور کافر میں تفریق نہیں فرمائی ہے، بلکہ ہر ایک کے لئے رزق کا ایک حصہ مقرر فرما دیا ہے جو اسے ہر حال میں پہنچتا رہے گا، چاہے وہ کتنا بڑا کافر کیوں نہ ہو۔ لہٰذا اگر کسی کو دُنیا میں رزق کی فراوانی حاصل ہے، تو اُسے یہ نہ سمجھ بیٹھنا چاہئے کہ اُس کا طریقہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جیسا کہ یہ کفار مکہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کو اصل حقیقت کا پتہ اُس وقت چلے گا جب موت کا منظر ان کے سامنے آجائے گا۔
یہ کچھ لوگ اپنے آپ کو، جیسے کل بھی میں نے عرض کیا تھا، طفل تسلی دیتے ہیں کہ اگر ہم غلط راستے پر ہیں تو پھر اللہ پاک ہمارے ساتھ دنیا میں کیوں مہربانی فرما رہے ہیں؟ یہ باقاعدہ اس کا کہتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ تو یہ بات بار بار قرآن میں آتی ہے کہ یہ کوئی معیار نہیں ہے حق اور باطل ہونے کا۔ بلکہ جو کافر ہیں ان کو چونکہ آخرت میں کچھ نہیں ملے گا، نقصان ہی ملے گا، اس وجہ سے ان کے اگر کوئی اچھے کام ہیں ان کا بدلہ ان کو دنیا میں مل جاتا ہے۔ لہٰذا دنیا میں ان کی حالت نسبتاً مسلمانوں سے شاید بہتر ہی ہو۔ یعنی ایسی صورت میں کیونکہ ان کو اس کا بدلہ تو مسلمان کو تو اخیر میں ملے گا نا، اور یہاں پر بھی مل جاتا ہے۔ حدیث قدسی ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مسلمان اس کا ایمان خطرے میں پڑ جائے، تو میں کافروں کے گھر کو سونے اور چاندی کا بنوا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو چونکہ آخرت میں کچھ نہیں ملنا تو اس وجہ سے جو یہاں ان کو ملے گا بس وہی ہے۔ تو جو لوگ اچھے کام کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کو یہاں مل جاتا ہے۔ تو اب یہ صورتحال ہے کہ اگر ان کو اتنی اعلیٰ کر و فر والی زندگی زیادہ مل جاتی، تو پھر جیسے اب مسلمان ڈپریسڈ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اچھے لوگ ہیں۔ تو ایسی صورت میں اب دیکھیے مثال کے طور پر میں آپ کو کیا بتاؤں، احساس کمتری بہت خطرناک چیز ہے۔ آج کل آپ نیٹ پر جب دیکھتے ہیں اور خبریں جب پڑھتے ہیں تو اس میں بہت سارا حصہ کوئین الزبتھ کا جو اور پھر بادشاہ چارلس کا اور پھر اس کے خاندان کا اور یہ ساری چیزیں آ رہی ہیں۔ اب دیکھیے کوئی مطلب کیا بات ہے؟ بس ٹھیک ہے نا جی۔ بس وہ فوت ہو گئی، دوسرا بادشاہ آ گیا، بس بات ختم۔ اب ان کے اتنے قصے لمبا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو لمبا کیا، ان کا تو کلچر ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ مطلب اس کے پیچھے پڑ جائیں؟ تو ان کے کر و فر کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اور احساس کمتری میں تو انسان پھر گدھا بن جاتا ہے، مطلب یہ کہ انسان کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے جو اس کو بعد میں اگر کوئی اور اس کو بتائے کہ تو نے یہ کی، تو شاید وہ حیران ہو جائے کہ میں نے کیا کیا ہے؟ تو احساس کمتری جو ہے بہت خطرناک چیز ہے۔ اور اس کے لیے پھر یہی بات ہے کہ اللہ پاک نے اس حد تک، ان کو نہیں دیا جتنا کہ دینا چاہتے تھے۔ تو جو ابھی بھی ہے اس پر ہم کیوں وہ کریں؟
ترجمہ: یہاں تک کہ جب اُن کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اُن کی روح قبض کرنے کے لئے آ پہنچیں گے تو وہ کہیں گے کہ: ”کہاں ہیں وہ (تمہارے معبود) جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے؟“ یہ جواب دیں گے کہ: ”وہ سب ہم سے گم ہوچکے ہیں۔“ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ﴿38﴾
تو مطلب یہ ہے کہ یہ بہت یعنی گویا کہ عبرت کا مقام ہے کہ انسان کا آخری انجام خراب ہو جائے۔ آخری انجام بہت یعنی اہم بات ہے اور یہ ایسا انجام جس کے بعد کوئی ریٹرن نہیں ہے، کوئی مسئلہ نہیں، کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ ایسا انجام ایسی خطرناک بات ہے، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے عقائد پر، اپنے ایمان پر ثابت قدمی کے ساتھ رہنا چاہیے، اسی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ کبھی بھی ہمیں کسی اور کی دنیاوی اچھی حالت کو دیکھ کر اس انجام کو، ان کے اس انجام کو بھلانا نہیں چاہیے۔ ہاں ان کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے اور وہ بھی مطلب محفوظ طریقے سے ان کا انجام ہو۔ اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔