حلال و حرام کے الٰہی ضوابط، من گھڑت نسبتیں اور قوموں کی مقررہ میعاد
درس نمبر: 280، سورۃ الاعراف، آیات: 32 تا 34
اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ پاکیزہ رزق اور زینت کو بغیر دلیل حرام قرار دینے کی ممانعت
دُنیا میں کفار کو رزق ملنا ڈھیل ہے، جبکہ آخرت کی نعمتیں صرف اہلِ ایمان کے لیے خاص ہیں
فواحش، ظلم، شرک کی حرمت اور دین میں اپنی طرف سے باتیں گھڑنے کی سنگینی
انجام اور فیصلے کے لیے اللہ کا مقرر کردہ وقت جس میں ایک لمحے کی بھی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (32) قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (33) وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (34)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: کہو کہ: ”آخر کون ہے جس نے زینت کے اُس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے، اور (اسی طرح) پاکیزہ رزق کی چیزوں کو؟
بات پرانی جو چل رہی ہے کہ
حاشیہ: عرب قبائل نے طواف کے وقت کپڑے پہننے کو حرام سمجھا ہوا تھا، اسی طرح جاہلیت کے لوگوں نے بہت سی غذاؤں کو بلاوجہ حرام قرار دیا ہوا تھا جس کا مفصل تذکرہ سورۂ انعام میں گزرا ہے۔ نیز ”حُمس“ کے قبائل نے گوشت کی بعض قسموں کو اپنی امتیازی حیثیت ظاہر کرنے کے لئے اپنے اُوپر حرام کر لیا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔
ترجمہ: کہو کہ: ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کو یہ نعمتیں جو دُنیوی زندگی میں ملی ہوئی ہیں، قیامت کے دن خالص انہی کے لئے ہوں گی۔“
حاشیہ: یہ دراصل کفارِ مکہ کی ایک بات کا جواب ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارا موجودہ طریقہ پسند نہیں ہنہیں ہے تو وہ ہمیں رزق کیوں دے رہا ہے؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس دُنیا میں تو اللہ تعالیٰ کے رزق کا دسترخوان ہر شخص کے لئے بچھا ہوا ہے، چاہے وہ مؤمن ہو یا کافر۔ لیکن آخرت میں یہ نعمتیں صرف مؤمنوں کے لئے خاص ہیں۔ اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اگر دُنیا میں کسی کو خوشحالی میسر ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی دلیل ہے، اور اسے آخرت میں بھی خوشحالی ضرور میسر آئے گی۔
یہ اصل میں انسان اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نت نئے بہانے بناتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو طفل تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔ تو ان میں یہ بھی بات ہے کہ جن لوگوں کے اوپر یعنی ڈھیل کے طور پر نعمتوں کو کھول دیا گیا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم لوگ منتخب لوگ ہیں اور ہم لوگوں کے کوئی جرم کو جرم نہیں سمجھا جا رہا۔ لہٰذا وہ اور زیادہ ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور اور زیادہ آگے بڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو نقصان پر نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے شیطان اس بات کو مزید بڑھاتا ہے، اصل بات تو چونکہ یعنی نفس کی ہوتی ہے لیکن شیطان اس کے ذریعے ان کے اعمال کو ان کے لیے بہت زیادہ مزین کر لیتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ہماری باتیں جو ہیں مطلب زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں۔
ترجمہ: اسی طرح ہم تمام آیتیں اُن لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم سے کام لیں ﴿32﴾
یعنی نشانیاں تو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری رکھی ہیں لیکن جو ان کا علم رکھتا ہو اور پھر اس سے وہ کام لینا چاہتے ہوں تو ان کو بہت ساری چیزوں کا پتہ چلتا رہتا ہے۔
ترجمہ: کہو کہ: ”میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو، یا چھپی ہوئی۔ نیز ہر قسم کے گناہ کو اور ناحق کسی سے زیادتی کرنے کو، اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک مانو جس کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے، نیز اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کی حقیقت کا تمہیں ذرا بھی علم نہیں ہے۔ ﴿33﴾
حاشیہ: یوں تو کسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے، لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی، بلکہ اپنے بے بنیاد اندازوں پر تھی، جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔
ہوتا یوں ہے کہ انسان خود اپنی مرضی سے جن چیزوں کو اچھا سمجھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں اچھی بات تو اللہ کی طرف سے اگر ہو تو کوئی بری بات تو نہیں ہے۔ تو وہ اپنی طرف سے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ بہت سارے ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جھوٹی حدیث اس وجہ سے گھڑ لیتے تھے کہ ان کو اچھا سمجھتے کہ یہ تو اچھا کام ہے۔ مثلاً لوگوں کے اندر صلح کرنا یہ تو اچھا کام ہے۔ اب اس کے لیے اگر کوئی حدیث گھڑ لے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایسے کرو ایسا کرو ایسا کرو۔ اب وہ بات صحیح ہے لیکن یہ بات غلط ہے کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہ ہو۔ تو جس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ جرم ہے اور بہت بڑا جرم ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو منسوب کرنا تو اور بھی بڑا جرم ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے یہ شیطان ان چیزوں میں انسان کو لگا لیتا ہے۔ شیطان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کون سا غلط کام کرتے ہیں، یہ کرتے ہیں یا وہ کرتے ہیں۔ اس کو اس سے غرض نہیں بس آپ کو وہ اللہ تعالیٰ سے دور کرنا چاہتا ہے۔ جس چیز سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو بس اس چیز میں لانا چاہتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو ظالم کے شر سے محفوظ فرمائے۔ اللهُ اَكْبَرُ۔
ترجمہ: اور ہر قوم کے لئے ایک میعاد مقرر ہے۔ چنانچہ جب ان کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے ﴿34﴾
یہ اصل میں اللہ پاک نے قانون بنایا ہوا ہے، ایک وقت متعین کیا ہوتا ہے ہر چیز کے لیے۔ تو اس قانون کے مطابق جو ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی اس کے مطابق ہوتا ہے۔ تو لیکن یہ ہے کہ اس کے لیے جو وقت مقرر ہوتا ہے اس وقت سے پہلے نہیں ہوتا۔ اور اس وقت کو گزرنے بھی نہیں دیا جاتا۔ جو وقت آ جاتا ہے اس کا اس پر وہ کام ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ کسی کی موت ہو، چاہے کوئی ایکسیڈنٹ ہو، چاہے کوئی سیلاب ہو، چاہے کوئی اور مسئلہ ہو۔ جو بھی ہو جس چیز کا وقت جو مقرر ہے اس وقت پر وہ آ جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ پاک راضی ہوتے ہیں، ان اعمال سے محفوظ فرما دے جس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔