اسلامی آدابِ لباس، فتنۂ بے حیائی اور تقویٰ کی اہمیت

درس نمبر: 279، سورۃ الاعراف، آیات: 26 تا 31

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

ستر پوشی، زینت اور باطنی پاکیزگی کی اہمیت

حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کی روشنی میں شیطانی فتنوں سے ہوشیاری

بے بنیاد رسومات کی تردید اور دینِ فطرت کی تعلیمات

اللہ کی خالص بندگی اور شیطان کو دوست بنانے کا انجام

حالتِ نماز میں باوقار لباس اور کھانے پینے میں میانہ روی

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ (26) یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ (27) وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (28) قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ؕكَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ (29) فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ (30) یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (31)

صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔

ترجمہ: اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے اُن حصوں کو چھپاسکے جن کا کھولنا بُرا ہے، اور جو خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا جو لباس ہے، وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کریں۔ ﴿26﴾

26 سے 32 تک جو ایات ہیں اس میں

حاشیہ: اہل عرب کی ایک عجیب وغریب رسم کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے قریب رہنے والے کچھ قبیلے مثلاً قریش، ”حمس“ کہلاتے تھے۔ عرب کے دوسرے تمام قبیلے حرم کی پاسبانی کی وجہ سے ان لوگوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ عربوں کے عقیدے کے مطابق کپڑے پہن کر طواف کرنا صرف انہی کا حق تھا۔ دوسرے لوگ کہتے تھے کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں، اُن کے ساتھ ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے۔ چنانچہ یہ لوگ جب طواف کے لئے آتے تو ”حمس“ کے کسی آدمی سے کپڑے مانگتے، اگر اس کے کپڑے مل جاتے تو انہیں پہن کر طواف کرلیتے، لیکن اگر کسی کو ”حمس“ میں سے کسی کے کپڑے نہ ملتے تو وہ بالکل عریاں ہوکر طواف کرتے تھے۔ یہ آیتیں اس بے ہودہ رسم کی تردید کے لئے نازل ہوئی ہیں، اور ان میں انسان کے لئے لباس کی اہمیت بھی بیان فرمائی گئی ہے، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس کا اصل مقصد جسم کا پردہ ہے، اور ساتھ ہی لباس انسان کے لئے زینت اور خوشنمائی کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک اچھے لباس کی صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ دونوں مقصد پورے کرے۔ اور جس لباس سے پردے کا مقصد حاصل نہ ہو وہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔

اج کل جب ہم دیکھتے ہیں تو شیطان نے لوگوں کو ان کے کام بڑے اچھے مطلب دکھائے ہیں۔ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مرد جو ہے وہ تو کپڑے پہنتے ہیں۔ اور جو عورتیں ہیں وہ اہستہ اہستہ کپڑوں کو اتار رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت کم کر رہی ہیں۔ ٹخنوں سے نیچے ان کے لیے حکم ہے۔ تو وہ ٹخنوں سے اوپر کر رہی ہیں اور بلکہ وہ بھی اب پیچھے رہ گیا اب تو اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ اس طرح جسم کے اور حصوں کو نمایاں کرنا یا اس کو ننگا کرنا یہ فطرت کے خلاف ہے۔ لیکن انسان جب جانور بن جائے تو پھر اس کے بعد اس سے کوئی گلہ کرنا مطلب ممکن نہیں۔ وہ فرماتے ہیں نا إِذَا لَمْ تَسْتَح فَافْعَلْ مَا شِئْتَ جس وقت تجھ میں حیا نہ رہے پھر اس کے بعد جو مرضی کر۔ پھر کسی سے کسی گلے کا وہ نہیں رہتا۔ لیکن اللہ پاک نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ کپڑے جو ہیں یہ ہمارے لیے اس لیے بھی ضروری ہیں کہ جسم کے ان حصوں کو چھپا سکیں جن کا ظاہر کرنا فطرت کے خلاف ہے۔ اور اس سے گناہ وجود میں اتے ہیں۔ اور دوسری طرف یہ گرمی سردی سے بھی بچاؤ کرتے ہیں۔ اور ساتھ یہ کہ زینت کا سامان بھی ہوتا ہے۔

حاشیہ: لباس کا ذکر آیا تو یہ حقیقت بھی واضح فرمادی گئی کہ جس طرح لباس انسان کے ظاہری جسم کی پردہ داری کرتا ہے، اسی طرح تقویٰ انسان کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے، اور اُس کے ظاہر اور باطن دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اس لحاظ سے تقویٰ کا لباس بہترین لباس ہے۔ لہٰذا ظاہری لباس پہننے کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر بھی رکھنی چاہئے کہ وہ تقویٰ کے لباس سے آراستہ ہو۔ یعنی لباس کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔

ترجمہ: اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! شیطان کو ایسا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا کہ وہ تمہیں اسی طرح فتنے میں ڈال دے جیسے اُس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا، جبکہ اُن کا لباس اُن کے جسم سے اُتروا لیا تھا، تاکہ اُن کو ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دکھا دے۔ وہ اور اُس کا جتھہ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ان شیطانوں کو ہم نے انہی کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ﴿27﴾ اور جب یہ (کافر) لوگ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریقے پر عمل کرتے پایا ہے، اور اللہ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔

حاشیہ: اس سے اسی رسم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عریاں ہو کر طواف کرتے ہیں۔ چونکہ یہ رسم برسوں سے چلی آتی تھی، اس لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہوگا۔

ترجمہ: تم (ان سے) کہو کہ: ”اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا تم وہ باتیں اللہ کے نام لگاتے ہو جن کا تمہیں ذرا علم نہیں؟“ ﴿28﴾ کہو کہ: ”میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔

حاشیہ: شاید مذکورہ بالا سیاق و سباق میں انصاف کا ذکر اس لئے بھی کیا گیا ہے کہ ”حُمس“ کے لوگوں نے اپنی جوامتیازی خصوصیات طے کر رکھی تھیں، ان میں سے بعض انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ صرف وہی کپڑے پہن کر طواف کر سکتے ہیں، دوسرے لوگ نہیں، حالانکہ اگر دوسرے لوگ گناہ کر سکتے تھے تو یہ لوگ بھی گناہوں سے پاک تو نہیں تھے۔

یعنی گویا جیسے بنی اسرائیل کے اندر یہ بات تھی کہ ہم منتخب لوگ ہیں۔ اور ہمارے لیے الگ قانون ہے اسی طریقے سے ان لوگوں میں بھی یہ بات پیدا ہو گئی تھی کہ ہم منتخب لوگ ہیں اور ہمارے لیے الگ قانون ہے یہ بات غلط تھی۔

ترجمہ: اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ”جب کہیں سجدہ کرو، اپنا رُخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اُس کو پکارو کہ اطاعت خالص اُسی کا حق ہے۔ جس طرح اُس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اُسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔“ ﴿29﴾ (تم میں سے) ایک گروہ کو تو اللہ نے ہدایت تک پہنچا دیا ہے، اور ایک گروہ وہ ہے جس پر گمراہی مسلط ہوگئی ہے، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کے بجائے شیطانوں کو دوست بنالیا ہے، اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں ﴿30﴾ اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کا سامان (یعنی لباس جسم پر) لے کر آؤ، اور کھاؤ اور پیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا ﴿31﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنی فطرت کے مطابق جو شریعت نے ہمیں احکامات دیے ہیں مطلب شریعت کے احکامات جو ہیں بالکل عین فطرت کے مطابق ہیں اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے۔ اور بے حیائی کے کاموں سے اللہ ہمیں محفوظ فرما دے۔

سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔

اسلامی آدابِ لباس، فتنۂ بے حیائی اور تقویٰ کی اہمیت - درسِ قرآن - پہلا دور