شیطان کا فریب اور توبہ کا تریاق (واقعۂ آدم علیہ السلام کی روشنی میں)

درس نمبر: 278، سورۃ الاعراف، آیات: 19 تا 25

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

شیطان کا طریقہ واردات:

حیا اور ستر پوشی:

سچی توبہ کا قرآنی طریقہ:

زمین پر نزول اور تکوینی فیصلہ:

گناہ کا زہر اور توبہ کا تریاق:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (19) فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ (20) وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ ۙ (21) فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (22) قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (23) قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ (24) قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ (25)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو، اور جہاں سے جو چیز چاہو، کھاؤ۔ البتہ اس (خاص) درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے“ ﴿19﴾ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اُن دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ اُن کی شرم کی جگہیں جو اُن سے چھپائی گئی تھیں، ایک دوسرے کے سامنے کھول دے۔

یہاں

حاشیہ: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اُس کا پھل کھانے سے جنت کا لباس اُتر جاتا تھا، اور یہ بات ابلیس کو معلوم تھی۔ چنانچہ جب حضرت آدم اور حواء علیہما السلام نے اُسے کھایا تو جنت کا جو لباس اُنہیں عطا ہوا تھا، وہ اُن کے جسم سے اُتر گیا۔

ترجمہ: بلکہ صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی نہ حاصل ہوجائے۔“ ﴿20﴾

حاشیہ: مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس درخت کی خاصیت یہ ہے کہ جو اس میں سے کھا لیتا ہے، وہ یا تو فرشتہ بن جاتا ہے، یا اُسے ہمیشہ کی زندگی عطا ہوجاتی ہے، اس لئے اسے کھانے کے لئے مخصوص قوت کی ضرورت ہے۔ شروع میں آپ دونوں کو یہ قوت حاصل نہیں تھی، اس لئے منع کیا گیا تھا۔ اب آپ کو جنت میں رہتے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا ہے، اور آپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی ہے، اس لئے اب کھا لینے میں کچھ حرج نہیں۔

یہاں سے ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ شیطان جو ہوتا ہے، جو وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ انسان کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور فائدہ نہیں، مطلب ظاہر ہے فائدہ تو اس کو نہیں کہہ سکتے، مطلب استعمال کرتا ہے۔ اور دوسری یہ بات ہے کہ اس کی جو خواہشات ہیں۔ اس کے سامنے وہ لا کر اس کو کر لیتا ہے۔ اب یہ فطری خواہش ہے کہ ہمیشہ کے لیے انسان رہے۔ اور یہ بھی اچھی بات ہے کہ مطلب انسان پاک مطلب رہے، فرشتے پاک ہوتے تھے۔ اگرچہ نبی تو ان سے ظاہر ہے بڑے ہی مطلب مرتبہ ہے ان کا۔ لیکن وہ تو وہی والی بات ہے نا کہ اس کا تو پتہ جب چل جائے تو پھر اس کے بعد وہ۔ تو ایسی صورت میں شیطان کو یہ وسوسہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ کہ اس نے ان کو یہ بتایا کہ پہلے تمہیں اتنی طاقت نہیں تھی کہ آپ اس کو کھا کر ہضم کر سکیں اور اس سے آپ کو یہ فائدہ ہو۔ کیونکہ جیسے ہوتا ہے نا، مطلب کوئی اچھی چیز ہوتی ہے لیکن انسان کو پتہ ہوتا ہے کہ میں کھاؤں گا تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا۔ تو وہ مطلب یہ ہے کہ گویا کہ اللہ پاک کے بارے میں، ان کے بارے میں بدگمانی تو ہو نہیں سکتی تھی۔ نبی کو تو اس لیے اس انداز میں کہا کہ گویا کہ یہ ایک خیر کا معاملہ تھا تمہارے ساتھ۔ لیکن اب چونکہ واقعی بات یہ اس طرح ہے کہ تم اگر اس کو کھا لو گے تو تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ تو عین ممکن ہے کہ تمہیں وہ چیز حاصل ہو جائے۔ حالانکہ اس کو پتہ تھا۔ کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ جنت کے کپڑے اس سے اتر جاتے۔ تو شیطان کو پتہ تھا لیکن ان کو پتہ نہیں تھا۔ اور ادھر سے ہے کہ انہوں نے اس قسم کی وہ بات بتائی۔ تو یہ شیطان کا طریقہ ہے کہ وہ ہماری لاعلمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ہماری خواہشات کو استعمال کرتا ہے۔ اور ان کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ اس طرح اس نے دونوں کو دھوکہ دے کر نیچے اتار ہی لیا۔

ترجمہ: اور اُن کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں ﴿21﴾ اس طرح اُس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اتار ہی لیا۔

حاشیہ: نیچے اُتارنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اطاعت کے جس بلند مقام پر تھے، اُس سے نیچے اُتار لیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جنت سے دُنیا میں اُتار لیا۔

ترجمہ: چنانچہ جب دونوں نے اُس درخت کا مزہ چکھا تو اُن دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔

حاشیہ: اس سے معلوم ہوا کہ عریانی سے حفاظت انسان کی فطرت میں داخل ہے، اسی لئے جونہی دونوں کا لباس اُترا انہوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنا ستر چھپانے کی کوشش کی۔

ترجمہ: ور اُن کے پروردگار نے اُنہیں آواز دی کہ : ”کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے؟“ ﴿22﴾ دونوں بول اُٹھے کہ : ”اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا، اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے“ ﴿23﴾

حاشیہ: یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورۂ بقرہ (2: 38 میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے، کیونکہ اُس وقت تک اُنہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں، اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ اُمید ہے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اُسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی، تو دوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اُسے فوراً توبہ کرنی چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔ اس طرح شیطان کا چڑھا ہوا زہر اُتر جائے گا۔

ترجمہ: اللہ نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) فرمایا : ”اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، اور تمہارے لئے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے“ ﴿24﴾ فرمایا کہ : ”اسی (زمین) میں تم جیوگے، اور اسی میں تمہیں موت آئے گی، اور اُسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے نکالا جائے گا“ ﴿25﴾

تو یہ ایک تکوینی فیصلہ نافذ ہو گیا۔ تکوینی فیصلہ نافذ ہو گیا کہ اب زمین پر رہنا ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ اور پھر اسی زمین پر ہی انسان کو رہنا پڑے گا، اور اس پر ہی اسے موت آئے گی، اور اسی سے اس کو دوبارہ زندہ اٹھایا جائے گا۔ یہ جو توبہ والی بات ہے، مولانا تقی عثمانی صاحب نے ایک جگہ پر اس کی ایک بڑی اچھی explanation کی تھی۔ کہ ظاہر ہے وہ تو کافی جگہوں پہ گئے ہیں۔ تو ایک جگہ پر وہ جا رہے تھے گاڑی میں، تو گاڑی کا کوئی مسئلہ ہو گیا۔ تو اس کو ٹھیک کرنے کے لیے گاڑی کھڑی ہو گئی۔ تو وہاں پر ایک جھاڑی تھی، اس پہ ایک پھول لگا ہوا تھا۔ تو انہوں نے جا کر اس پھول کو توڑنے کی کوشش کی۔ وہاں جو مقامی علاقے کا جو شخص تھا، وہ دوڑا ہوا آیا کہ اس کو نہ کچھ کہیں۔ انہوں نے کہا، کیوں؟ انہوں نے کہا کہ اس کے پاس جو کانٹے ہیں نا، اگر یہ کانٹا آپ کو چبھ گیا نا، تو اس میں بڑا ایسا زہر ہے جیسا کہ بچھو کا ہوتا ہے۔ اور کافی آپ کو تکلیف ہو گی۔ تو انہوں نے کہا اگر توڑنا ہی ہے، تو پھر اس کا یہ ہے کہ وہ اس کی جڑ نکال کے نا، اس کو صاف کیا۔ کہتے، جیسے ہی آپ اس کو توڑیں گے اور اگر زہر لگ گیا، تو اس کو پریس کر کے اس سے جو، مطلب، مواد باہر آتا ہے یعنی مایع سا liquid، تو وہ اس کے اوپر ڈال لینا جہاں پر وہ چبھا ہے۔ یہ ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے، حضرت نے فرمایا کہ مجھے فوراً خیال آ گیا کہ یہ پھول خوشنما چیز ہے، اور اس کے ارد گرد یہ جو چیزیں ہیں، نفس کی خواہشات خوشنما نظر آتی ہیں، تو شیطان جب اس کو استعمال کرتا ہے تو وہ زہر ہے۔ تو انسان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور یہ جو جڑ میں، جو، مطلب، مواد ہے، وہ اس کے اوپر ڈالتے ہیں تو یہ اس کا تریاق ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ توبہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی فرمایا کہ اگر کسی شخص سے کوئی گناہ ہو جائے، تو فوراً توبہ کر لے۔ تاکہ وہ جو زہر چڑھا ہوا ہے، وہ اتر جائے۔ اللہ پاک ہم سب کو سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعلَمِينَ۔

شیطان کا فریب اور توبہ کا تریاق (واقعۂ آدم علیہ السلام کی روشنی میں) - درسِ قرآن - پہلا دور