قیامت کی بازپُرس، اعمال کا وزن اور شکر گزاری کی حقیقت

درس نمبر: 276، سورۃ الاعراف، آیات: 5 تا 10

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

عذاب دیکھ کر پچھتانا بے کار ہے

قیامت میں سب سے پوچھ گچھ ہوگی

اچھے اور برے اعمال کا توتولنا اور اس پر فیصلہ

دنیاوی نعمتوں کی فراہمی اور شکر گزاری کا تقاضا

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُـوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(5) فَلَنَسْـَٔلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْـَٔلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ۙ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآىٕبِیْنَ (7) وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (8) وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ(9) وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ (10) صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: پھر جب ان پر ہمارا عذاب آپہنچا تو ان کے پاس کہنے کو اور تو کچھ تھا نہیں، بس بول اُٹھے کہ واقعی ہم ہی ظالم تھے ﴿5﴾ اب ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے، اور ہم خود پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے (کہ انہوں نے کیا پیغام پہنچایا، اور انہیں کیا جواب ملا؟) ﴿6﴾ پھر ہم ان کے سامنے سارے واقعات خود اپنے علم کی بنیاد پر بیان کردیں گے، (کیونکہ) ہم (ان واقعات کے وقت) کہیں غائب تو نہیں تھے ﴿7﴾ اور اُس دن (اعمال کا) وزن ہونا اٹل حقیقت ہے۔ چنانچہ جن کی ترازو کے پلے بھاری ہوں گے، وہی فلاح پانے والے ہوں گے ﴿8﴾ اور جن کی ترازو کے پلے ہلکے ہوں گے، وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ زیادتیاں کر کر کے خود اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے ﴿9﴾ اور کھلی بات ہے کہ ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اُس میں تمہارے لئے روزی کے اسباب پیدا کئے۔ (پھر بھی) تم لوگ شکر کم ہی ادا کرتے ہو ﴿10﴾

اللہ جل شانہ ہمیں قرآن پاک کو صحیح طور سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس میں جو عبرت کے واقعات ہیں ان سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ جل شانہ نے جو آئندہ ہونے والے حالات ہیں، اس کے بارے میں جو خبردار فرمایا ہے، ان کو سمجھ کر ہم اس کے مطابق اپنی زندگی بنا لیں، اسی کے لیے محنت کر لیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب پر اپنا فضل فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

قیامت کی بازپُرس، اعمال کا وزن اور شکر گزاری کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور