اعمال کی انفرادی جوابدہی اور اللہ تعالیٰ کی سزا و مغفرت کا ضابطہ

درس نمبر: 274، سورۃ الانعام، آیات: 164 تا 165

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اعمال کی انفرادی ذمہ داری:

باطل فریب اور غلط دعووں کی مذمت:

درجات کا تفاوت اور آزمائش:

اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عدل و رحمت:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (164) وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ٜ (165)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: کہہ دو کہ ”کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور پروردگار تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے؟ اور جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے، اُس کا نفع نقصان کسی اور پر نہیں، خود اُسی پر پڑتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہارے پروردگار ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ اُس وقت وہ تمہیں وہ ساری باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ﴿164﴾ اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں سے درجات میں بلندی عطا کی، تاکہ اُس نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، اُن میں تمہیں آزمائے۔ یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿165﴾

یہ بعض

حاشیہ: کفار کبھی کبھی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب کو اپنا لو، اگر کوئی عذاب ہوا تو تمہارے حصے کا عذاب بھی ہم اپنے سر لے لیں گے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت میں قرآن کریم نے اُن کی یہ بات نقل فرمائی ہے۔ یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی۔ اور اس میں یہ عظیم سبق ہے کہ ہر شخص کو اپنے انجام کی خود فکر کرنی چاہئے، کوئی دوسرا شخص اسے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ یہی مضمون سورۂ بنی اسرائیل سورۂ فاطر سورۂ زمر اور سورۂ نجم میں بھی آیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل ان شاء اللہ سورۂ نجم میں آئے گی۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے ایک دفعہ فرمایا کہ ظاہر ہے حضرت ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین تھے، عربی ڈیپارٹمنٹ کے۔ تو وائس چانسلر کے ساتھ میٹنگ ہو رہی تھی۔ تو میٹنگ لمبی ہو گئی تو درمیان میں نماز کا وقت آ گیا۔ تو حضرت نے request کی کہ تھوڑی دیر کے لیے میٹنگ postpone کی جائے تو ہم نماز پڑھ لیں۔ تو وائس چانسلر جو تھے technically بڑے sound تھے لیکن خیالات کے لحاظ سے کچھ ایسے ہی تھے۔ تو اس نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں آپ اجلاس جاری رکھیں، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مجھ سے اللہ پاک پوچھ لے گا۔ تو حضرت نے پھر یہی یہی آیت سنائی اس کو۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ۔ اللہ تعالی تو فرماتے ہیں کہ کوئی کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ مسلمانوں میں بھی بعض لوگ، جس طرح یہ ایک صاحب تھے۔ اس کا بیٹا جو تھا وہ XEN تھا۔ تو یہ سول سروس، سول میں جو انجینئرنگ ہوتی ہے اس میں یہ رشوت وشوت بہت چلتی ہے۔ تو وہ ان کے والد صاحب بڑے لالچی تھے۔ تو ان کو کہتے ہیں بیٹا دب کے رشوت لے لیا کرو، سزا میرے اوپر۔ اس طرح دھڑلے سے کہتے تھے۔ آدمی کیا کہے جی، اپنی عاقبت کی جس کو فکر نہ ہو تو کچھ بھی کہہ سکتا ہے، یہ بات ہی بذات خود بہت خطرناک ہے۔ بہت خطرناک ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کا مقابلہ ہے نا، مطلب ظاہر ہے۔ تو جو اس قسم کی باتیں کرتا ہے نا تو کر تو کچھ نہیں سکے گا لیکن اپنے آپ کو خراب کر دے گا۔ اور جو دوسرا اس کی مانے گا تو اس کی بھی کوئی بچت نہیں ہو گی۔ کیونکہ اس کو اپنے کیے کی سزا ملے گی بلکہ اس کی بھی سزا ملے گی کہ اس نے اس کی بات کیوں مانی۔ یہ بھی تو ایک مسئلہ ہے۔ تو جو اپنا گناہ ہے وہ تو اپنے سر ہے ہی، یہ جو اس نے بات کی، اس نے یہ بات مان لی، اس کی بھی سزا ہو گی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے اپنے بارے میں سوچنا چاہیے۔ کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اور ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ اللہ جل شانہ نے اخیر میں جو بات فرمائی بہت اہم ہے۔ فرمایا

ترجمہ: یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿165﴾

اللہ جل شانہ کبھی جذبات میں بات نہیں فرماتے، اللہ تعالی کے ہاں تو کوئی جذبات اس طرح ہیں ہی نہیں مطلب جس طرح ہمارے ہوتے ہیں، وہ تو اپنے ارادے سے سب کچھ کرتا ہے۔ تو جذبات تو ظاہر ہے اس کے سامنے نہیں آ سکتے۔ تو یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے ارادے سے چونکہ سب کچھ کرتا ہے لہذا غصے سے مغلوب ہو کر سزا نہیں دیتے اور اس طریقے سے ویسے بلاوجہ معاف نہیں کرتے، تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی اللہ جل شانہ دونوں صفات کامل ہیں۔ وہ یہ ہے کہ بخشنے والا بڑا مہربان بھی ہے اور یہ ہے کہ جلد سزا دینے والا بھی ہے۔ اب ہم لوگوں کو وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو اس کی مہربانی والا اور بخشنے والا ہو۔ مثلاً توبہ ہے۔ تو توبہ جب بھی انسان کرے تو اللہ بہت بخشنے والا ہے۔ اور بڑا مہربان ہے۔ اور سزا، سزا یہ ہے کہ گناہ ہے تو گناہ نہ کرے آدمی۔ بس یہی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ماشاء اللہ سورۃ الانعام کا ترجمہ اور حواشی، یہ مطلب ماشاء اللہ پورے ہو گئے۔ تو ان شاء اللہ اگلی جو سورۃ ہے الاعراف، وہ ان شاء اللہ العزیز کل شروع کی جائے گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن کے ساتھ محبت بھی نصیب فرمائے کیونکہ محبوب کا کلام ہے۔ اور قرآن کو سمجھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ تاکہ اس پر ہم عمل کر کے اپنے محبوب رب اور مالک الملک رب کو خوش کریں اور راضی کریں۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

اعمال کی انفرادی جوابدہی اور اللہ تعالیٰ کی سزا و مغفرت کا ضابطہ - درسِ قرآن - پہلا دور