جن و انس پر اتمامِ حجت، ضابطۂ عدل اور دنیا کا فریب
درس نمبر: 265، سورۃ الانعام، آیات: 130 تا 133
- اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات دونوں تک حق کا پیغام پہنچا کر ان پر تبلیغ کا حق پوری طرح ادا کر دیا ہے۔
- قیامت کے دن انسان کے اپنے اعضاء اس کے خلاف گواہی دے کر اسے کفر اور پیغمبروں کو جھٹلانے کے اقرار پر مجبور کر دیں گے۔
- اللہ تعالیٰ کسی بھی بستی کو پیغمبروں کے ذریعے متنبہ کیے بغیر کسی زیادتی کی وجہ سے غفلت کی حالت میں ہلاک نہیں کرتا۔
- انسان کی داخلی رہنمائی کے لیے ضمیر موجود ہے، لیکن اتمام حجت کے لیے انبیاء اور علماء کا خارجی سلسلہ بھی قائم کیا گیا ہے۔
- دنیا کی محبت میں مبتلا لوگ حق کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن آخرت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق درجات ملیں گے۔
- اللہ تعالیٰ مخلوق کی عبادت سے بے نیاز ہے اور محض اپنی رحمت سے پیغمبر بھیجتا ہے، ورنہ وہ موجودہ قوم کو مٹا کر نئی قوم لانے پر قادر ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ (130) ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ (131) وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ (132)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے جنات اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سناتے تھے،
حاشیہ: انسانوں میں تو پیغمبروں کا تشریف لانا واضح ہے۔ اس آیت کی وجہ سے بعض علماء کا کہنا ہے کہ جنات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر آتے رہے ہیں۔ اور دوسرے حضرات کا کہنا یہ ہے کہ باقاعدہ پیغمبر تو جنات میں نہیں آئے، لیکن انسانوں میں جو پیغمبر بھیجے گئے، وہی جنات کو بھی تبلیغ کرتے تھے، اور جو جنات مسلمان ہو جاتے وہ پھر انبیائے کرام کے نمائندے بن کر دوسرے جنات کو تبلیغ کرتے تھے، جیسا کہ سورۂ جن میں تفصیل سے مذکور ہے۔ آیت کی رُو سے دونوں احتمال ممکن ہیں، کیونکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں اور جنات دونوں کو تبلیغ کا حق ادا کر دیا گیا تھا، اور وہ دونوں طرح ممکن ہے۔
یہ اصل میں واقعی ایک اختلافی مسئلہ ہے کہ جنات میں بھی پیغمبر آئے ہیں یا نہیں آئے۔ تو ظاہر ہے، تفصیلات پھر اپنے اپنے حضرات نے اپنی اپنی جگہ پر کی ہیں۔ لیکن یہاں پر اس آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ تبلیغ دونوں کو ہو چکی ہے۔ آگے جا کے ان کو اختیار دیا گیا ہے، جن لوگوں نے مان لیا انہوں نے مان لیا اور جو نہیں مانے تو ان کو پھر اس کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمہ: اور تم کو اِسی دن کا سامنا کرنے سے خبردار کرتے تھے جو آج تمہارے سامنے ہے؟ وہ کہیں گے: ’’(آج) ہم نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی ہے (کہ واقعی ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے، اور ہم نے انہیں جھٹلایا تھا)
حاشیہ: پیچھے آیت نمبر 23 میں گزرا ہے کہ وہ شروع میں جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے، لیکن جب خود اُن کے ہاتھ پاؤں اُن کے خلاف گواہی دے دیں گے تو وہ بھی سچ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ تفصیل کے لئے آیت 23 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
آج کل بھی اس قسم کی صورتحال کچھ تھوڑی تھوڑی بن رہی ہے۔ Polygraphic analysis کچھ ہوتا ہے، تو وہ کچھ ایسے instruments ہیں جس کے ذریعے سے پھر انسان وہ جھوٹ نہیں بول سکتا، اس سے جو سوال کیے جاتے ہیں، تو اس کے جو جواب دیتے ہیں تو وہ سچ کے قریب ہوتا ہے۔ تو پھر وہ ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ پھر ان سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو تم نے خود کہا ہے۔ تو پھر وہ مان لیتے ہیں بعض دفعہ۔ کہ ہاں بالکل ٹھیک ہے اس طرح۔ ہاں کوئی بہت شاطر ہو تو اس کی توجیہ کر لے گا، لیکن مطلب یہ ہے کہ اکثر لوگ جو سادہ لوگ ہوتے ہیں، جو عام لوگ ہوتے ہیں، وہ مان لیتے ہیں۔ تو یہ بھی آج کل مطلب یہ ہے کہ ہے۔ ہاں، البتہ یہ بات ہے کہ وہاں تو perfect نظام ہوگا۔ وہاں تو انسان کے اپنے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، کان سب گواہی دے دیں گے، منہ پر مہر لگ جائے گی۔ تو پھر وہ کیا انکار کر سکیں گے؟ تو صرف مطلب یہ ہے کہ جس کو کہتے ہیں، کہ ہو سکتا ہے کہ بس غصہ ہو جائیں ان پر اور کہہ دیں کہ تمہیں کیوں اس طرح، تمہیں کیوں، غصے کے علاوہ وہ کیا کر سکتے ہیں؟ تو مطلب یہ ہے کہ وہاں پر وہ سچ بولنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اور کہہ دیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہم نے اس طرح کیا، ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے۔ تو یہ بات مطلب یہاں پر بتائی گئی ہے۔
ترجمہ: اور (درحقیقت) ان کو دُنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا، اور (اب) انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے ﴿130﴾ یہ (پیغمبر بھیجنے کا) سارا سلسلہ اس لئے تھا کہ تمہارے پروردگار کو یہ گوارا نہیں تھا کہ وہ بستیوں کو کسی زیادتی کی وجہ سے اِس حالت میں ہلاک کردے کہ اُس کے لوگ بے خبر ہوں ﴿131﴾
حاشیہ: اُن بستی والوں کی کسی زیادتی کی وجہ سے اُن کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کو اُس وقت تک گوارا نہیں تھا جب تک انہیں انبیائے کرام کے ذریعے متوجہ نہ کردیا جائے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ زیادتی نہیں کرسکتا تھا کہ پہلے سے متوجہ کئے بغیر لوگوں کو ہلاک کردے۔
وہی والی بات ہے کہ اللہ تعالی کا انصاف، مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک موقع دیتے ہیں۔ خبرداری کرتے ہیں، ان کو بتا دیتے ہیں، ساری چیزیں ان پہ کھول دیتے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی ضد اور عناد کی وجہ سے اور نفس کے دھوکے کی وجہ سے وہ اس میں مبتلا ہو تو پھر اس کو بھگتنا ہوگا۔ یہ بات ہے کہ ورنہ اللہ تعالی، وہ واقعتاً مطلب، ہمارے ہر ہر شخص کے پاس ضمیر بھی ہے۔ ضمیر وہ بھی انسان کو کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو ضمیر اس کو کچوکے لگاتا ہے۔ لیکن ضمیر کی آواز کو لوگ سنی ان سنی کر دیتے ہیں، مطلب اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ تو یہ ضمیر چونکہ داخلی معاملہ ہے اور سب کے اوپر کھلا ہوا نہیں ہے۔ ہاں، انسان کے اپنے لیے تو وہ ہے، یعنی مطلب خبرداری ہے۔ لیکن یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا، تو اس پہ اللہ پاک نے ایک خارجی سلسلہ بھی رکھا ہوا ہے، اور وہ پیغمبروں کے ذریعے سے اور علماء کرام کے ذریعے سے اور مشائخ کے ذریعے سے ان تک یہ بات پہنچا دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں بات پہنچائی نہیں گئی۔ آج کل مطلب دیکھیں نا، ذرا غور سے دیکھیں کہ اردگرد جو حالات پیش آ رہے ہیں، اس میں کچھ لوگ واقعتاً دن رات لگے ہوئے ہیں اور بتا رہے ہیں، سمجھا رہے ہیں سارا کچھ، لیکن ان کا مذاق اڑا رہے ہیں لوگ۔ تو مطلب ظاہر ہے اب آگے جا کر وہ انکار تو نہیں کر سکیں گے کہ ہمیں بتایا نہیں گیا تھا۔ ان کو تو مطلب، وہ سارا کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ جو ان کو بتایا جا رہا ہے، وہ بھی مطلب ریکارڈ ہو رہا ہے۔ جو وہ کر رہے ہیں، وہ بھی ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ مثلا جمعوں کے، بعض دفعہ خطبوں میں بتایا جاتا ہے۔ بعض دفعہ ویسے direct in contact بتایا جاتا ہے۔ بہت ساری باتیں سوشل میڈیا پر آتی ہیں اور بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ لیکن جن کو دنیا نے دھوکے میں ڈالا ہوتا ہے، تو وہ ان چیزوں کو نہیں respond کرتے۔ وہ صرف اپنی چیزوں کو respond کرتے ہیں۔ مطلب وہ جو اپنے یوں کہہ سکتے ہیں، ان کو جو سمجھانے والی چیزیں ہیں، وہ تو ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا، یہ کیا کر رہے ہیں۔ حالانکہ بعض دفعہ واقعی اپنے دل سے، اندر سے جانتے ہیں کہ ہم غلط کر رہے ہیں، بلکہ جانتے ہیں۔ لیکن وہ نفس کے تقاضے ان کے اوپر اتنے سوار ہوتے ہیں، دنیا کی محبت ان کے اوپر اتنی غالب ہوتی ہے کہ ان کو وہ چھوڑ نہیں سکتے۔ اس وجہ سے ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے جاتے ہیں اور رگڑے جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی گندگیوں میں مبتلا ہونے سے محفوظ فرما دے۔ اللہ اکبر۔
ترجمہ: اور ہر قسم کے لوگوں کو مختلف درجات اُن اعمال کے حساب سے ملتے ہیں جو انہوں نے کئے ہوتے ہیں۔ اور جو اعمال بھی وہ کرتے ہیں، تمہارا پروردگار اُن سے غافل نہیں ہے ﴿132﴾ اور تمہارا پروردگار ایسا بے نیاز ہے جو رحمت والا بھی ہے۔
یعنی اس نے رسولوں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری فرمایا، اس کی وجہ معاذ اللہ یہ نہیں تھی کہ وہ تمہاری عبادت کا محتاج ہے۔ وہ تو مخلوق کی عبادت سے بے نیاز ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ رحمت والا بھی ہے۔
حاشیہ: یعنی اُس نے رسولوں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری فرمایا اُس کی وجہ معاذ اللہ یہ نہیں تھی کہ وہ تمہاری عبادت کا محتاج ہے، وہ تو مخلوق کی عبادت سے بے نیاز ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ رحمت والا بھی ہے، اس لئے اُس نے پیغمبر بھیجے ہیں جو بندوں کو اُس صحیح راہِ عمل کی طرف متوجہ کرتے رہیں جس میں اُن کی دُنیا اور آخرت دونوں کے لئے بہتری کا سامان ہو۔
وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ (133)
ترجمہ: اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دُنیا سے) اُٹھالے، اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لے آئے، جیسے اُس نے تم کو کچھ اور لوگوں کی نسل سے پیدا کیا تھا ﴿133﴾
حاشیہ: جس طرح آج کے تمام لوگ اُن لوگوں کی نسل سے ہیں جن کا اب کوئی پتہ نشان باقی نہیں رہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت ہے کہ آج کے تمام لوگوں کو ایک ہی مرتبہ میں ختم کرکے دوسری قوم پیدا کردے، لیکن وہ اپنی رحمت کی وجہ سے ایسا نہیں کررہا۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو اہل حق کے ساتھ کر دے، اور اہل باطل سے ہم سب کو بچائے۔ اور اللہ پاک جس چیز سے بھی راضی ہوتے ہیں، اس طرح کے کام کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔