دنیا کی حقیقت، نفس کا فریب اور عقل کا تقاضا

درس نمبر: 240، سورۃ الانعام، آیات: 28 تا 30

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. آخرت کے منکرین کا دنیا میں واپس جا کر نیک اعمال کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے، وہ لوٹائے جانے پر بھی کفر کریں گے۔
  2. انسان فطرتاً فوری ملنے والی دنیا کو ترجیح دیتا ہے، سوائے ان کے جنہیں اللہ نے عقل اور ہدایت عطا کی ہو۔
  3. مصیبت میں اللہ سے کیے گئے وعدے نجات ملتے ہی توڑ دینا انسان کی وہ غفلت ہے جس سے بچنا لازم ہے۔
  4. اعمال کا اجر عقل کے موافق ملتا ہے، لہٰذا دین کو محض سننے کے بجائے حقیقت سمجھ کر دل میں اتارنا چاہیے۔
  5. سچی فقاہت حق کو دل و دماغ سے تسلیم کر کے نفس کو اس پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کا نام ہے۔
  6. نفس کی ہر بات ماننا اسے الٰہ بنانے کے مترادف ہے، لہٰذا حقیقی کامیابی کے لیے اس کی مخالفت ضروری ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعـلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ (28) وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ (29) وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ (30)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: حالانکہ (ان کی یہ آرزو بھی سچی نہ ہوگی) بلکہ در اصل وہ چیز (یعنی آخرت) ان کے سامنے کھل کر آچکی ہوگی جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، (اس لئے مجبوراً یہ دعویٰ کریں گے) ورنہ اگر ان کو واقعی واپس بھیجا جائے تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے، اور یقین جانو یہ پکے جھوٹے ہیں ﴿28﴾ یہ تو یوں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دُنیوی زندگی ہے، اور ہم مر کر دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے ﴿29﴾ اور اگر تم وہ وقت دیکھو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے! وہ کہے گا: "کیا یہ (دوسری زندگی) حق نہیں ہے؟" وہ کہیں گے: "بیشک ہمارے رب کی قسم!" اللہ کہے گا: "تو پھر چکھو عذاب کا مزہ، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔" ﴿30﴾

یہاں پر ایک بات بہت اہم بیان کی گئی ہے اور وہ انسان کی جو عمومی فطرت ہے اس کے مطابق ہے۔ اور وہ اللہ پاک نے ظاہر فرمایا ہے ایک آیت میں كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۙ وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ ہرگز نہیں بلکہ تم وہ جو فوری چیز ہے وہ لیتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو تم چھوڑتے ہو۔ تو بعد میں آنے والی چیز جو ہے نا آخرت ہے اور جو فوری چیز ہے وہ دنیا ہے۔ لہذا دنیا یہ لوگ لیتے ہیں الا کہ کسی کو اللہ پاک نے توفیق دی ہو عقل کے ذریعے سے ہدایت کے ذریعے سے اور اس کو یہ یقین ہو گیا ہو کہ یہ دنیا عارضی ہے۔ اور اس کے بعد جو آنے والی دنیا ہے مستقل ہے تو ان کی بات اور ہوتی ہے۔ تو اب یہاں پر یہ بات جو فرمائی گئی ہے کہ یہ جو پہلے مطلب انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں کیوں نہ دوبارہ کاش ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ اس بار ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہمارا شمار مومنوں میں ہو جائے۔ تو اللہ جل شانہ جوابا ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کی آرزو یہ بھی سچی نہیں ہے۔ ان کو اگر دوبارہ واپس بھیج دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جو کہ ابھی کرتے رہے تھے۔

اب ذرا تھوڑا سا غور کر لیں یہاں اس زندگی میں اگر ہم دیکھیں جس وقت انسان کے اوپر کچھ حالات آ جاتے ہیں مثلا بیماری آ جاتی ہے۔ یا قید ہو جاتے ہیں۔ یا کسی تکلیف میں آ جاتے ہیں۔ تو اس وقت یہ بالکل اخلاص سے کہتے ہیں کہ بس جو ہے نا بس اس وقت ہمیں ان سے چھٹکارا مل جائے بس پھر ہم سچے مومن اور پھر سچے اعمال کریں گے پھر اس میں کوتاہی نہیں کریں گے۔ وہ اچھی طرح وعدے وعید کر لیتے ہیں پھر اس کے بعد جس وقت وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں پھر وہی کے وہی۔ کیا اس طرح نہیں ہوتا؟ اس طرح ہی ہوتا ہے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب یہ چل رہی ہوتی ہے۔ اور اس کا بھی باقاعدہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ جب یہ گر جاتے ہیں طوفان میں تو پھر یہ کہتے ہیں کہ بس اس دفعہ اگر ہمیں نکال دیا جائے تو بس فرمایا لیکن جس وقت یہ ساحل پہ پہنچ جاتے ہیں بہت کم ان میں ہوتے ہیں جو اپنی بات پہ قائم رہتے ہیں۔ بہت کم ان میں ہوتے ہیں جو اپنی بات پہ قائم رہتے ہیں۔ تو گویا کہ یوں ہمارے سامنے ہماری جو بات ہے وہ کھڑی کی گئی ہے کہ تم تو ایسے ہو۔ لہذا اس بات سے ڈرنا چاہیے اور ہمیں اس بات کو عقلا لینا چاہیے۔ اور دل میں اتارنا چاہیے۔ اور نفس پر اس کو نافذ کرنا چاہیے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے نا کہ بے شک تم کتنی ہی عبادت کر لو، لیکن اجر ملے گا عقل کے موافق، تو اس کا مطلب ہے کہ انسان جب عقل کے مطابق صحیح عمل کرتا ہے تو پھر وہ بات ہوتی ہے۔ پھر وہ بات ہوتی ہے۔

اب مثال کے طور پر ایک بچہ ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کو دیکھ کر جو ہے نا وہ نماز پڑھتا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اچھا بچہ ہے۔ لیکن اس وقت تو نہ اس کو اجر مل رہا ہے نہ اس کو یعنی اس کو عذاب دیا جاتا ہے مطلب اس کے کسی چیز پر۔ لیکن دیکھو جس وقت وہ بڑا ہو جائے عقلمند ہو جائے تو پھر اس کی ایک ایک چیز کا اس کو ثواب بھی ملتا ہے اگر وہ نیکی کرتا ہے اور اگر گناہ کرتا ہے اس پر اس کو عذاب بھی دیا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ عقل کے مطابق مطلب یہ چیزیں انسان کی ہوتی ہیں جتنا انسان عقل کے مطابق۔ تو سب سے پہلے ہمیں ان باتوں پہ غور کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں ہوش کے ناخن لو۔ مطلب لوگ کہتے ہیں نا سب سے پہلے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ یہ ہے کیا؟ یہ صرف باتیں ہیں یا ایک حقیقت ہے؟ مثال کے طور پر کوئی درس میں بیٹھ کر سن لے اور سر دھن لے اور کہے واہ جی بالکل ایسی بات ہے۔ تو اگر بعد میں اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے اس نے اس کو صرف باتیں سمجھا ہوا ہے۔ یہ صرف باتیں ہیں۔ لیکن جس نے اس کو عقل سے تسلیم کیا یعنی مطلب پیچھے جو سمجھ والی بات ہے اس کو تسلیم کیا۔ اور اس بات کو دل میں اتار لیا۔ صحیح بات ہے مطلب یہ مان لیا کہ ہاں جس کو ہم کہتے ہیں دل و دماغ۔ دل و دماغ سے مان لیا تسلیم کر لیا اسی کو فقاہت اسی کو سمجھ کہتے ہیں۔ تو پھر اس کے بعد نفس کو مجبور کر کے اس پر عمل کر دیا۔ نفس کی بات نہیں مانی نفس تو مسلسل بات کرتا ہے۔ نفس تو مسلسل بول رہا ہوتا ہے یہ کرو وہ کرو یہ کرو وہ کرو یہ کرو وہ کرو۔ نفس تو مسلسل اس طرح باتیں کر رہا ہے لیکن ہم نے اللہ کے حکم کو دیکھنا ہوتا ہے اور ہم نے دیکھنا ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے کیا کہا ہے۔ جب اللہ پاک نے یہ بتایا نفس کی نہیں مطلب تیری بات کیوں مانوں؟

وہ کوئی اس طرح مجذوب تھا نا تو وہ راستے میں بیٹھا ہوا تھا اور مسلسل کہے جا رہا تھا کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ پھر میں تیری بات کیوں مانوں؟ تو لوگ ان کو مار رہے تھے وہیں گالیاں دے رہے تھے کہ دیکھو کس طرح ملعون ہے ایسا ملحد ہے ایسے ویسے۔ تو ایک بزرگ تشریف لے جا رہے تھے تو انہوں نے جب سنا انہوں نے دور سے کہا شاہ صاحب کس کو کہہ رہے ہو؟ اس نے آنکھیں کھولیں کہ عقلمند مل گیا عقلمند سے ملاقات ہو گئی۔ فرمایا کہ میں اپنے نفس سے مخاطب ہوں۔ فرمایا شاہ صاحب بات تو صحیح کر رہے ہو لیکن جگہ غلط منتخب کی ہے۔ آپ جا کے گھر میں یہ بات کر لیں کسی کونے میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کر لیں۔ وہ ٹھیک ہے لیکن لوگوں کے سامنے کریں لوگ اس کو کیا سمجھیں گے؟ لوگ تو کہیں گے خدا سے کہہ رہا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ یہ نفس سے ہی کہے۔ میں تیری بات کیوں مانوں؟ کیونکہ نفس کا ایک نام اللہ پاک نے قرآن میں بھی کہا کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا جس نے اپنے نفس کی خواہشات کو الہ بنایا ہوا ہے؟ تو مطلب یہ ہے کہ گویا کہ انسان جب نفس کی ہر بات مانتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس کو خدا کی طرح مان رہا ہے- نعوذ بالله من ذلك- تو ہم لوگوں کو اس سے بچنا ہو گا اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں اور چونکہ ہم کامیابی چاہتے ہیں لہذا بچنا ضروری ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِيْنَ۔

دنیا کی حقیقت، نفس کا فریب اور عقل کا تقاضا - درسِ قرآن - پہلا دور