صراطِ مستقیم، دارُ السلام کی بشارت اور شیاطین کے پیروکاروں کا عبرتناک انجام

درس نمبر: 264، سورۃ الانعام، آیات: 126 تا 129

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. آخرت میں شیطان اور اس کے بہکاوے میں نفسانی خواہشات پوری کرنے والے انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے مگر جہنم کی سزا بھگتیں گے۔
  2. کافروں کے عذاب اور ثواب کا فیصلہ کسی سفارش کے بجائے محض اللہ تعالیٰ کی مشیت، علم اور حکمت پر مبنی ہوگا۔
  3. کافروں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنا اللہ کی کوئی مجبوری نہیں بلکہ یہ فیصلہ اس کی مشیت اور حکمت کے عین مطابق ہے۔
  4. انسانوں کی ہٹ دھرمی اور بدعمالیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان پر شیاطین اور دوسرے ظالموں کو مسلط کر دیتا ہے۔
  5. دنیا میں ظلم کرنے والے انسان اور شیاطین اپنے اعمال کی وجہ سے آخرت میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی بنا دیے جائیں گے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ (126) لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (127) وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ ِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ (128) وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (129)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور یہ (اسلام) تمہارے پروردگار کا (بتایا ہوا) سیدھا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں، اُن کے لئے ہم نے (اس راستے کی) نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں ﴿126﴾ اُن کے پروردگار کے پاس سکھ چین کا گھر ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے، اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں، اُن کی وجہ سے وہ خود اُن کا رکھوالا ہے ﴿127﴾ اور (اُس دن کا دھیان رکھو) جس دن اللہ ان سب کو گھیر کر اکٹھا کرے گا، اور (شیاطینِ جنات سے کہے گا کہ:) ’’اے جنات کے گروہ! تم نے انسانوں کو بہت بڑھ چڑھ کر گمراہ کیا‘‘ اور انسانوں میں سے جو اُن کے دوست ہوں گے، وہ کہیں گے: ’’اے ہمارے پروردگار! ہم ایک دوسرے سے خوب مزے لیتے رہے ہیں،

حاشیہ: انسان تو شیطانوں سے یہ مزے لیتے رہے کہ ان کے بہکانے میں آکر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی، اور وہ گناہ کئے جن سے ظاہری طور پر لذت حاصل ہوتی تھی۔ اور شیطان انسانوں سے یہ مزے لیتے رہے کہ انہیں گمراہ کرکے خوش ہوئے کہ یہ لوگ خوب اچھی طرح ہمارے قابو میں آگئے ہیں۔ دراصل وہ یہ کہہ کر اپنی غلطی کا اعتراف کررہے ہوں گے، اور غالباً آگے معافی بھی مانگنا چاہتے ہوں گے، لیکن یا تو اس سے آگے کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں ہوگا، یا چونکہ معافی کا وقت گزر چکا ہوگا، اِس لئے اللہ تعالیٰ اُن کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ فرمائیں گے کہ اب معافی تلافی کا وقت گزر چکا، اب تو تمہیں جہنم کی سزا بھگتنی ہی ہوگی۔

ترجمہ: اور اب اپنی اُس میعاد کو پہنچ گئے ہیں جو آپ نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔‘‘ اللہ کہے گا: ’’(اب) آگ تم سب کا ٹھکانا ہے، جس میں تم ہمیشہ رہوگے، الا یہ کہ اللہ کچھ اور چاہے۔

حاشیہ: اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن بظاہر استثناء کے اس جملے سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ایک یہ کہ کافروں کے عذاب و ثواب کا فیصلہ کسی سفارش یا اثر و رسوخ کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کا تمام تر فیصلہ خود اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنیاد پر ہوگا، اور یہ مشیت اس کی حکمت اور علم کے مطابق ہوگی جس کا ذکر اگلے جملے میں ہے۔ دوسری حقیقت جو اس استثناء سے ظاہر فرمائی گئی ہے یہ ہے کہ کافروں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنا (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کی کوئی مجبوری نہیں ہے، لہٰذا اگر بالفرض اُس کی مشیت یہ ہوجائے کہ کسی کو باہر نکال لیا جائے تو یہ عقلی اعتبار سے ناممکن نہیں ہے، کیونکہ اُس کی اس مشیت کے خلاف کوئی اُسے مجبور نہیں کرسکتا۔ یہ اور بات ہے کہ اُس کی مشیت اُس کے علم اور حکمت کے مطابق یہی ہو کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں۔

ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو اُن کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔ ﴿129﴾

تو یہی بات ابھی جو چل رہی تھی کہ یعنی ایک دوسرے کے اوپر وہ مسلط ہیں، یعنی ایک دوسرے کو خراب کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تو یہ بات ہے

حاشیہ: یعنی جس طرح ان کافروں پر اُن کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے شیاطین کو مسلط کردیا گیا جو انہیں بہکاتے رہے، اسی طرح ہم ظالموں کی بداعمالیوں کی وجہ سے اُن پر دوسرے ظالموں کو مسلط کردیتے ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب کسی ملک کے لوگ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو اُن پر ظالم حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص کسی ظالم کے ظلم میں اُس کی مدد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ خود اُسی ظالم کو مدد کرنے والے پر مسلط کردیتا ہے (ابن کثیر)۔ اس آیت کا ایک اور ترجمہ بھی ممکن ہے، اور وہ یہ کہ: ’’اسی طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے۔‘‘ اُس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شیاطین بھی ظالم تھے، اور ان کے پیچھے چلنے والے بھی۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہم ان کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے۔ بہت سے مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کی طرح ہیں، مطلب یعنی ایک بھی ظلم کر رہا ہے، دوسرا بھی ظلم کر رہا ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھی بنا دیے جائیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان آیات مبارکہ کا وہی مطلب لے جو اللہ جل شانہ کے ہاں ہے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

صراطِ مستقیم، دارُ السلام کی بشارت اور شیاطین کے پیروکاروں کا عبرتناک انجام - درسِ قرآن - پہلا دور