ہدایت و ضلالت کا الٰہی ضابطہ اور انسانی اختیار کی حقیقت

درس نمبر: 263، سورۃ الانعام، آیات: 122 تا 125

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اسلام کا تقاضا دنیا سے کٹنا نہیں بلکہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے تمام معاملات اسلامی احکام کے تحت انجام دینا ہے۔
  2. اہل ایمان کے خلاف مجرموں کی سازشیں درحقیقت خود انہی کو نقصان پہنچاتی ہیں جن کا انجام دنیا یا آخرت میں ظاہر ہوجاتا ہے۔
  3. رسالت عطا کرنے کا فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور بے جا مطالبات کرنے والے مجرموں کو ذلت اور سخت عذاب ملے گا۔
  4. اللہ ہدایت چاہنے والے کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے جبکہ کفر پر بضد انسان کا سینہ انتہائی تنگ کر دیا جاتا ہے۔
  5. گمراہی کوئی جبری محرومی نہیں بلکہ انسان کے اپنے نفس اور گزشتہ اعمال کی پاداش ہے جس کے بعد اسے برے کام خوشنما لگتے ہیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (122) وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ (123) وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ (124) فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ (125)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: ذرا بتاؤ کہ جو شخص مردہ ہو، پھر ہم نے اُسے زندگی دی ہو، اور اُس کو ایک روشنی مہیا کردی ہو جس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو،

حاشیہ: یہاں روشنی سے مراد اسلام کی روشنی ہے۔ اور ’’لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو‘‘ فرما کر اشارہ اس طرف کر دیا گیا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ انسان مذہبی عبادات کو لے کر دُنیا سے ایک طرف ہوکر بیٹھ جائے، اور لوگوں سے میل جول چھوڑ دے، بلکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عام انسانوں کے درمیان رہے، اُن سے ضروری معاملات کرے، اُن کے حقوق ادا کرے، لیکن جہاں بھی جائے، اسلام کی روشنی ساتھ لے کر جائے، یعنی یہ سارے معاملات اسلامی احکام کے تحت انجام دے۔

ترجمہ: کیا وہ اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہو جن سے کبھی نکل نہ پائے؟ اسی طرح کافروں کو یہ سجھا دیا گیا ہے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، وہ بڑا خوشنما کام ہے ﴿122﴾ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اُس (بستی) میں (مسلمانوں کے خلاف) سازشیں کیا کریں۔

حاشیہ: یہ مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ کافر لوگ اُن کے خلاف جو سازشیں کررہے ہیں، اُن سے گھبرائیں نہیں۔ اِس قسم کی سازشیں ہر دور میں انبیائے کرام اور اُن کے ماننے والوں کے خلاف ہوتی رہی ہیں، لیکن بالآخر انجام اہلِ ایمان ہی کا بہتر ہوتا ہے، اور دشمنوں کی سازشیں آخرکار خود انہی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کبھی تو اسی دُنیا میں ان کا یہ نقصان ظاہر ہوجاتا ہے، اور کبھی دُنیا میں ظاہر نہیں ہوتا، لیکن آخرت میں ان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے خود اپنے حق میں کانٹے بوئے تھے۔

ترجمہ: اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں، (درحقیقت) وہ کسی اور کے نہیں، بلکہ خود اُن کے اپنے خلاف پڑتی ہیں، جبکہ اُن کو اس کا احساس نہیں ہوتا ﴿123﴾ اور جب ان (اہلِ مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ: ’’ہم اُس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اُس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی۔‘‘

حاشیہ: یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہوگی جیسی انبیائے کرام پر نازل ہوتی رہی ہے، اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دیئے جائیں گے جیسے اُن کو دیئے گئے تھے، اُس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اُن کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔

ترجمہ: (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔ جن لوگوں نے (اس قسم کی) مجرمانہ باتیں کی ہیں اُن کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔ ﴿124﴾ غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کرلے، اُس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، اور جس کو (اُس کی ضد کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے، اُس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کردیتا ہے کہ (اُسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اُسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اِسی طرح اللہ (کفر کی) گندگی اُن لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ﴿125﴾

تو یہاں پر بھی بالکل صاف بات آ رہی ہے نظر کہ اللہ جل شانہ نے چونکہ اختیار دیا ہے لوگوں کو۔ اور ساتھ ساتھ ہدایت کی کتاب بھی دی ہے مطلب ہدایت کی بات پہنچا دی ہے۔ تو اس کے بعد پھر اختیار کے مطابق اگر کوئی شخص اچھا بننا چاہتا ہے تو اس کے لیے اچھا بننے کے جو ذرائع ہیں اللہ تعالی پہنچا دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی برا رہنا چاہتا ہے تو پھر اس کے لیے پھر وہی ذرائع۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ جس کا جو جی چاہتا ہے اس کو وہ دے دیا جاتا ہے۔ تو جیسے وَالَّذِينَ جَاهَدُو فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ اب یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ کوشش محنت کرتے ہیں اللہ کے بننے کی، اللہ پاک ان کو راستے سجھا دیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ چونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تک پہنچیں تو اللہ پاک راستے سجھا دیتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے کفر میں پھنسنا رہنا چاہتے ہیں مطلب کفر سے نہیں نکلنا چاہتے تو پھر ان کے اوپر دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ مطلب اس کا ضد، مطلب the reverse is also true والی بات ہے کہ یعنی اس میں چونکہ وہ لوگ نہیں چاہتے تو جب نہیں چاہتے تو ان کے لیے راستے بند کر دیے جاتے ہیں تو یہاں پر یہ والی کہ

ترجمہ: اُس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کردیتا ہے کہ (اُسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اُسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اِسی طرح اللہ (کفر کی) گندگی اُن لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ﴿125﴾

یہ باتیں میں ساتھ ساتھ اس لیے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سارے لوگ اس قسم کی آیات سے بھی وہ جبری عقائد کو سپورٹ کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ کہ بس اب ویسے ہی ہے اللہ تعالی نے ہمیں محروم کیا ہے تو پھر ہم تو اس کے وہی نہیں ہیں۔ حالانکہ کرتے اپنے نفس کی وجہ سے ہیں۔ خود ان کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اپنے نفس کی وجہ سے کر رہے ہیں لیکن بہرحال وہ چونکہ وہ عمل نہیں کرنا چاہتے یا یوں سمجھ لیں گمراہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر اس قسم کی باتیں بنا اور یہ باتیں بھی اصل میں ان کے گزشتہ اعمال کی پاداش میں ہوتی ہیں۔ وہ چونکہ نہیں چاہتے تو ان کے لیے وہ جیسے ابھی گزرا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے گزرا ہے کہ وہ اپنی باتوں کو اچھا سمجھتے ہیں۔ یعنی ان کے لیے ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ شاید ہم اچھا کر رہے ہیں اور اس کو فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ تو یہ وہ صرف اور صرف ان اس ضد کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے ہیں اس وجہ سے اس لیے ان کو یہ باتیں اچھی لگتی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ہم اچھا کر رہے ہیں۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو اس قسم کے انجام سے بچائے، یہ بہت ہی خطرناک راستہ ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ یہاں سے کوئی چلا جائے تو پھر واپس آنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور وہاں عمل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ لہذا جس پوزیشن میں ہوتے ہیں اسی پوزیشن میں پھنس جاتے ہیں، اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

ہدایت و ضلالت کا الٰہی ضابطہ اور انسانی اختیار کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور