ظاہری و باطنی گناہ اور حقیقتِ تصوف
درس نمبر: 262، سورۃ الانعام، آیات: 119 تا 121
- جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس میں سے کھانا حلال ہے، البتہ انتہائی مجبوری میں حرام کی بھی بقدرِ ضرورت اجازت ہے۔
- علم کے بجائے محض اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرنے والے حد سے گزرنے والے ہیں جنہیں اللہ خوب جانتا ہے۔
- شریعت محض ظاہری احکامات کا نام نہیں بلکہ یہ ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہوں کو مکمل طور پر ترک کرنے کا حکم دیتی ہے۔
- ظاہری اعضاء سے ہونے والے گناہوں کا علم فقہ سے ملتا ہے جبکہ دل سے تعلق رکھنے والے باطنی گناہوں کا بیان تصوف میں ہوتا ہے۔
- تصوف کی اصل حقیقت بدعات و خرافات کے بجائے کسی ماہر شیخ کی رہنمائی میں اپنے نفس کا علاج اور باطنی گناہوں سے بچنے کی فکر کرنا ہے۔
- باطنی گناہ چونکہ مخفی ہوتے ہیں اس لیے ان کی تشخیص اور اصلاح کے لیے ماہر مشائخ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔
- مشائخ باطنی امراض کی تشخیص کر کے ایک طبیب کی طرح نفس کا ایسا علاج کرتے ہیں جس سے انسان تمام گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
- گناہ کمانے والوں کو ان کے جرائم کی یقینی سزا ملے گی اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے کھانا سخت گناہ ہے۔
- شیاطین مسلمانوں سے کج بحثی کے لیے اپنے دوستوں کو ورغلاتے ہیں اور ان شیطانی وسوسوں کی اطاعت کرنا انسان کو شرک تک پہنچا دیتا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ ِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119) وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ (120) وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ (121)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور تمہارے لئے کونسی رکاوٹ ہے جس کی بنا پر تم اُس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو؟ حالانکہ اُس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتادی ہیں جو اُس نے تمہارے لئے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ، (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدرِ ضرورت اجازت ہوجاتی ہے) اور بہت سے لوگ کسی علم کی بنیاد پر نہیں، (بلکہ صرف) اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا ربّ حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے ﴿119﴾ اور تم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دو۔
یہاں دو قسم کے گناہوں کی بات ہو گئی، ظاہری گناہوں کی اور باطنی گناہوں کی۔
حاشیہ: ظاہری گناہوں میں وہ گناہ داخل ہیں جو انسان اپنے ظاہری اعضاء سے کرے، مثلاً جھوٹ، غیبت، دھوکا، رشوت، شراب نوشی، زنا وغیرہ۔ اور باطنی گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے، مثلاً حسد، ریاکاری، تکبر، بغض، دوسروں کی بدخواہی وغیرہ۔ پہلی قسم کے گناہوں کا بیان فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت فقہاء سے حاصل کی جاتی ہے، اور دوسری قسم کے گناہوں کا بیان تصوف اور احسان کی کتابوں میں ہوتا ہے، اور اُن کی تعلیم و تربیت کے لئے مشائخ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تصوف کی اصل حقیقت یہی ہے کہ باطن کے ان گناہوں سے بچنے کے لئے کسی رہنما سے رجوع کیا جائے۔ افسوس ہے کہ تصوف کی اس حقیقت کو بھلا کر بہت سے لوگوں نے بدعات و خرافات کا نام تصوف رکھ لیا ہے۔ اس حقیقت کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بہت سی کتابوں میں خوب واضح فرمایا ہے۔ آسان طریقے سے اس کو سمجھنے کے لئے ملاحظہ فرمائیے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’دل کی دنیا‘‘۔
تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے، کہ انسان جو ظاہری گناہ ہے، جس کو سب لوگ جانتے ہیں، اور سب لوگ اس کو سمجھتے ہیں، خود بھی نظر آتا ہے، دوسروں کو بھی نظر آ جاتا ہے، وہ ظاہری گناہ ہے۔ اور لوگ عام طور پر اس کو شریعت کہتے ہیں۔ حالانکہ شریعت باطنی گناہوں کے اس سے بچنے کا بھی نام ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ اس کو شریعت کہتے ہیں۔ اور جو باطنی گناہ ہیں، مثلاً حسد ہے، کینہ ہے، بغض ہے، ریا ہے، ان گناہوں کو بھی چھوڑنے کا حکم ہے۔ اور عام طور پر اس کو لوگ تصوف کہتے ہیں۔ حالانکہ شریعت ان دونوں سے بچنے کے لیے بتاتی ہے۔ دیکھو قرآن ہے نا، قرآن میں وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ۔ تو اب یہ اس میں جو دونوں قسم کا آ گیا، تو شریعت تو اللہ کے حکم کو کہتے ہیں، معنی اللہ کے حکم کن چیزوں کا ہے، اوامر و نواہی کو کہتے ہیں۔ اب وَذَرُوا کا مطلب کیا ہے؟ وَذَرُوا کا مطلب ہے کہ چھوڑ دو۔ اب چھوڑ دو کا مطلب حکم ہے۔ تو حکم امر میں آ گیا۔ تو امر، اوامر و نواہی، سارا شریعت ہے۔ تو لہذا یہ سارا شریعت ہے۔ ہاں البتہ ظاہری گناہوں کی اصلاح جو ہوتی ہے وہ استاد سے پوچھ کر کی جا سکتی ہے، یعنی چونکہ معلوم ہوتا ہے۔ تو لہذا اس کے محکمات اور علم معلوم ہو جاتے ہیں پھر انسان اس سے بچ سکتا ہے۔ لیکن جو باطنی گناہ ہے، اس کا پتہ بھی چلنا بڑا مشکل مثلاً تکبر کا پتہ چلنا بڑا مشکل کام ہے، یہ آسان کام نہیں ہے۔ اس طرح حسد ہے، کینہ ہے، بغض ہے، اس کا پتہ عام لوگوں کو نہیں چلتا۔ اس کے لیے پھر مشائخ کا کام ہوتا ہے کہ وہ سمجھا دیں کہ یہ چیز ہے، یہ چیز ہے۔ مثلاً وہ بعض دفعہ انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ میں یعنی فلاں رذیلہ میں مبتلا ہوں۔ تو جس وقت کوئی بات کرتا ہے یا کوئی خط لکھتا ہے یا کوئی آگے سے گزرتا ہے۔ تو مشائخ چونکہ اس فن کے ماہر ہوتے ہیں۔ تو ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس اس میں ہے۔ تو وہ پھر اپنے طریقے سے بعض دفعہ بتا بھی دیتے ہیں، بعض دفعہ نہیں بتاتے۔ مطلب بتاتے نہیں لیکن علاج کر دیتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے، ضروری نہیں کہ مطلب بتا دیں، جیسے بعض ڈاکٹر آپ کو سمجھا دیتے ہیں۔ کہ یہ فلاں ہے، فلاں ہے، فلاں ہے، بتاتے ہیں۔ بعض ڈاکٹر بالکل نہیں بتاتے، بس نسخہ لکھ دیتے ہیں، کہتے ہیں استعمال کرو۔ مطلب یہ، تو اس طرح مشائخ میں بھی ہے کہ بعض لوگ بتا دیتے ہیں۔ اور بعض لوگ نہیں بتاتے۔ تو بہرحال بتائیں نہ بتائیں، لیکن علاج کر دیں تو کام ہو گیا۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ جو ان چیزوں کا جو علاج ہے۔ وہ طور طریقے جو آپ کو ان گناہوں سے بچا دیں۔ یعنی آپ کے نفس کی اصلاح ہو جائے۔ چونکہ نفس ایک مخفی چیز ہے۔ وہ نظر نہیں آتا۔ آپ کے نفس کی اصلاح کر دیں تاکہ اس سے آپ کے ظاہری باطنی گناہ سارے کور ہو جائیں۔ تو یہ اصل میں تصوف ہے۔ مطلب وہ طور طریقے جن کے ذریعے سے نفس کا علاج ہو کر ان ظاہری باطنی گناہوں سے انسان بچ جاتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ تصوف ہے۔ مطلب یہ اس قسم کی بات ہے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ دل کی دنیا میں یہ باتیں حضرت نے لکھی ہیں۔ تو ہمیں ان چیزوں کو سمجھنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے۔ اور اس کے مطابق اپنے آپ کو درست کرنا چاہیے۔
ترجمہ: یہ یقینی بات ہے کہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں، انہیں اُن تمام جرائم کی جلد ہی سزا ملے گی جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے ﴿120﴾ اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اُس میں سے مت کھاؤ، اور ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔ (مسلمانو!) شیاطین اپنے دوستوں کو ورغلاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں۔ اور اگر تم نے اُن کی بات مان لی تو تم یقیناً مشرک ہوجاؤ گے۔ ﴿121﴾
تو اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح باتیں سمجھنے کی، سیکھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔